
حیدرآباد، 23 ستمبر (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے نلاکنٹہ کے جہانوی ڈگری کالج کو دو طلبہ کے اصل تعلیمی سرٹیفکیٹس واپس کرنے کی ہدایت دی ہے۔ طلبہ کا الزام تھا کہ ٹیوشن فیس کی عدم ادائیگی کے باعث کالج انتظامیہ نے ان کے اصل دستاویزات اپنے پاس روک رکھے تھے۔
جسٹس این وی شراون کمار نے 18 ستمبر کو طلبہ کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کے دوران یہ احکامات جاری کیے۔ دونوں طلبہ تلنگانہ کامن پوسٹ گریجویٹ انٹرنس ٹیسٹس (TG CPGET) 2026 کی دوسرے مرحلے کی کونسلنگ میں شرکت کرنا چاہتے تھے، جس کے لیے انہیں اپنے اصل تعلیمی سرٹیفکیٹس جمع کرانا ضروری تھا۔
طلبہ کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اصل سرٹیفکیٹس روکے جانے سے ان کے موکلین کی اعلیٰ تعلیم جاری رکھنے میں مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پوسٹ گریجویٹ کونسلنگ میں شرکت کے لیے اصل تعلیمی دستاویزات جمع کرانا ضروری ہے۔
عدالت کو بتایا گیا کہ اس سے قبل بھی کالج کو طلبہ کے سرٹیفکیٹس واپس کرنے کی ہدایت دی گئی تھی، تاہم اس حکم پر عمل نہیں کیا گیا۔ طلبہ کے وکیل کے مطابق عدالتی حکم کالج انتظامیہ تک پہنچانے کے لیے دو مرتبہ کوشش کی گئی، لیکن انتظامیہ نے اس پر عمل کرنے سے انکار کردیا۔
سماعت کے دوران محکمہ اعلیٰ تعلیم کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ تلنگانہ اسٹیٹ کونسل آف ہائر ایجوکیشن پہلے ہی ایسے کالجوں کو ہدایت دے چکی ہے کہ فیس کی واپسی کے لیے اہل طلبہ کے اصل سرٹیفکیٹس اپنے پاس نہ روکے جائیں۔
عدالت کی ہدایت کے بعد دونوں طلبہ کے تعلیمی سرٹیفکیٹس کی واپسی کا معاملہ اہمیت اختیار کر گیا ہے، کیونکہ اصل دستاویزات کی عدم دستیابی ان کی پوسٹ گریجویٹ داخلہ کونسلنگ میں شرکت پر اثر انداز ہوسکتی تھی۔



