تلنگانہ کے اسپتال میں شرمناک واقعہ، زندہ مریض کو دو بار مردہ خانے میں منتقل کردیا گیا
آدھار کارڈ نہ ہونے پر ظلم،گردوں کے مریض کو مردہ خانے میں منتقل کردیا گیا
حیدرآباد:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)تلنگانہ کے ضلع محبوب آباد کے سرکاری اسپتال، جو حال ہی میں قائم ہونے والے میڈیکل کالج کا حصہ بھی ہے، میں ایک چونکا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے۔ اسپتال کے عملے نے ایک ایسے مریض کو، جس کے پاس آدھار کارڈ اور اٹینڈنٹ نہیں تھا، علاج کرنے سے انکار کرتے ہوئے مردہ خانے میں منتقل کردیا — وہ بھی ایک نہیں بلکہ دو مرتبہ!
یہ افسوسناک واقعہ جمعرات، 30 اکتوبر کو اس وقت منظرِ عام پر آیا جب اسپتال کے صفائی ملازمین نے افسران اور پولیس کو اطلاع دی کہ زندہ مریض کو مردہ خانے میں رکھا گیا ہے۔ اطلاع ملنے کے بعد ہی ڈاکٹروں نے مریض کو علاج فراہم کیا۔
متاثرہ مریض راجو، جو ضلع محبوب آباد کے جئے رام گاؤں کا رہائشی ہے، نے میڈیا کو بتایا کہ اس کا کوئی قریبی رشتہ دار نہیں ہے۔ اُس نے بتایا، ’’میرے اپنے کزن تک نے میرا ساتھ نہیں دیا۔ میں روزی روٹی کے لیے ٹریکٹر چلاتا ہوں۔‘‘
راجو نے مزید بتایا کہ تقریباً چھ دن قبل وہ گردے کے مسئلے کے علاج کے لیے اسپتال آیا تھا۔’’میں نے ڈاکٹر سے علاج کی درخواست کی مگر انہوں نے کہا کہ بغیر آدھار کارڈ اور تیماردار (اٹینڈنٹ) کے علاج نہیں کیا جا سکتا۔ مجبوراً میں اسپتال کی کینٹین میں جا کر سو گیا۔ چونکہ مجھے گردے کی تکلیف تھی، پیشاب مجھ سے کنٹرول نہیں ہو پا رہا تھا، جس کی وجہ سے کپڑے خراب ہو گئے۔ بدبو کی بنا پر عملے نے مجھے وہاں سے نکال کر مردہ خانے کے باہر ڈال دیا۔‘‘
راجو نے بتایا کہ اُس رات بارش ہوتی رہی اور وہ بھیگتا رہا۔ اگلے دن وہ دوبارہ کینٹین گیا اور سو گیا، ’’لیکن اس بار انہوں نے مجھے مردہ خانے کے اندر ایک کمرے میں منتقل کردیا۔‘‘جمعرات کو جب صفائی ملازمین نے اسپتال انتظامیہ کو اطلاع دی تو پولیس کو بلایا گیا اور آخرکار ڈاکٹروں نے راجو کو آئی وی فلوئڈ لگا کر علاج شروع کیا۔
مقامی افراد اور سماجی کارکنوں نے اس واقعے پر سخت غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے اسپتال کے عملے کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ نہ صرف طبی لاپرواہی بلکہ انسانیت کے خلاف جرم ہے۔ریاستی حکومت نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے اسپتال کے ذمہ داران سے رپورٹ طلب کرلی ہے



