تلنگانہ کی خبریں

تلنگانہ میں 3.50 کروڑ نصابی کتب کی ضرورت ‘20 لاکھ کی طباعت

اسکولس کی کشادگی کیلئے ایک ہفتہ باقی ، طلب کے مطابق پیپرس کی عدم دستیابی سے طباعت میں تاخیر

تلنگانہ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) ریاست میں اسکولس کی کشادگی کیلئے صرف ایک ہفتہ کا وقت باقی رہ گیا ہے ۔ دوسری طرف نصابی کتب کیلئے جنگ جیسی صورتحال پیدا ہوگئی ہے ۔ ریاست بھر میں 3.50 کروڑ نصابی کتب تقسیم کرنے کی ضرورت ہے ۔ تاہم ابھی تک صرف 20 لاکھ نصابی کتب کی طباعت ہوئی ہے ، جس سے نصابی کتب کی تقسیم کو لے کر غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی ہے ۔ ٹیچرس کا کہنا ہے کہ اس معاملہ میں اعلیٰ عہدیداروں نے کوئی وضاحت نہیں کی ، یہ کتابیں ایک کلاس میں 10 طلبہ کو ہی پہنچنے کے امکانات ہیں۔

کلاس میں ایک طالب علم کو کتابیں دے کردوسرے ط لبہ کو نہ دینے پر ان کے والدین کی طرف اعتراضات ہوسکتے ہیں ۔ ریاست تلنگانہ میں جملہ 26 ہزار سرکاری اسکولس ہیں، جسمیں تقریباً 24 لاکھ طلبہ کو مفت نصابی کتب تقسیم کرنے کی ضرورت ہے۔ مزید 30 لاکھ طلبہ کو مقررہ قیمت کے تحت کتابیں تقسیم کرنا ہے ۔ تمام اسکولس میں جاریہ تعلیمی سال سے انگ ریزی تعلیم متعارف کرائی جارہی ہے جس سے ایک طرف انگریزی کے علاوہ دوسری طرف تلگو اور اردو کی نصاب کتب طباعت کرنا ہے ۔ کتابوں کے وزن میں ہونے والے اضافہ کو دیکھتے ہوئے اس کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے طباعت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔

مفت تقسیم کیلئے 2.10 کروڑ کتابیں اور خانگی اسکولس کو فروخت کیلئے 1.40 کروڑ کتابیں طباعت کرنے کی ضرورت ہے ۔ ماضی کے بہ نسبت اس مرتبہ زیادہ پیپر استعمال ہونے والا ہے ۔ ٹاملناڈو اور چندی گڑھ سے پیپر آنے میں تاخیر ہورہی ہے ۔ ڈائرکٹر سرکاری کتب اسکول ایجوکیشن ایس سرینواس چاری نے کہا کہ پرنٹنگ کیلئے استعمال کئے جانے والے پیپر تلنگانہ کو پہنچنے میں تاخیر ہورہی ہے جس کی وجہ سے طباعت کا عمل مکمل نہیں ہوپایا ہے ۔ ابھی تک 20 لاکھ نصابی کتب طباعت کرتے ہوئے اضلاع کو روانہ کیا گیا ہے ۔ جون کے اواخر تک تمام کتب کی طباعت کا نشانہ مقرر کرتے ہوئے کام کیا جارہا ہے ۔

متعلقہ خبریں

Back to top button