تلنگانہ 6 لاکھ کروڑ سے زائد کا مقروض، کانگریس حکومت 6 ضمانتوں پر عمل آوری کی پابند
سابق حکومت کی ناکام معاشی پالیسی، فلاحی اسکیمات نظرانداز، پراجکٹس کے نام پر بھاری قرض سے ریاست معاشی بحران کا شکار
(اسمبلی میں معاشی صورتحال پر وائیٹ پیپر )
حیدرآباد:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) تلنگانہ حکومت نے ریاست کی معاشی صورتحال پر قانون ساز اسمبلی میں وائیٹ پیپر پیش کیا۔ ڈپٹی چیف منسٹر اور وزیر فینانس بھٹی وکرامارکا نے 40 صفحات پر مشتمل وائیٹ پیپر انگلش اور تلگو میں ایوان میں پیش کرتے ہوئے مختص مباحث کا آغاز کیا۔ حکومت نے گذشتہ 10 برسوں کی بی آر ایس حکومت کے دوران بھاری قرض حاصل کرتے ہوئے ریاست کو مقروض بنانے کا الزام عائد کیا۔ حکومت نے کہا کہ تلنگانہ 2014 میں علیحدہ ریاست کے طور پر تشکیل پائی جو اس وقت فاضل آمدنی والی ریاست تھی لیکن گذشتہ دس برسوں میں ہر سال بھاری قرض حاصل کرتے ہوئے ریاست مقروض بنادیا گیا ۔ وائیٹ پیپر میں دعویٰ کیا گیا کہ بی آر ایس دور حکومت میں قرض کے بوجھ میں اضافہ سے ریاست کے مالیاتی شعبہ میں بحران پیدا ہوچکا ہے۔
حکومت نے عوام سے کئے گئے وعدوں اور خاص طور پر 6 ضمانتوں کی تکمیل کے عہد کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وسائل میں اضافہ کرتے ہوئے ضمانتوں پر عمل کیا جائے گا۔ حکومت نے کہا کہ وہ معاشی چیالنجس کا سامنا کرنے کیلئے تیار ہے۔ بھٹی وکرامارکا کی رپورٹ کے مطابق سال 2014 میں ریاست پر قرض کا بوجھ 77658 کروڑ تھا جو جاریہ مالیاتی سال 3 لاکھ 89 ہزار 673 کروڑ تک پہنچ گیا۔ دیگر قرضہ جات کو شامل کیا جائے تو ریاست کا جملہ قرض 6 لاکھ 71 ہزار 757 کروڑ تک پہنچ چکا ہے۔ سال 2014-15 سے سال 2022-23 کے درمیان قرض میں 24.5 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔
وائیٹ پیپر میں کہا گیا ہے کہ تعلیم اور صحت جیسے شعبہ جات پر توجہ نہیں دی گئی اور مناسب بجٹ مختص نہیں کیا گیا۔ وزیر فینانس نے دعویٰ کیا کہ روز مرہ کے اخراجات کی تکمیل کیلئے اوور ڈرافٹ پر انحصار کرنے کی صورتحال پیدا ہوچکی ہے۔ ریاست کیلئے اس طرح کی صورتحال کا پیدا ہونا افسوسناک ہے۔ انہوں نے بتایا کہ2015-16 میں ریاست میں جی ایس ڈی پی کی شرح 15.7 فیصد ریکارڈ کی گئی جو ملک میں سب سے کم ہے۔ 2023-24 میں جی ایس ڈی پی کی شرح میں 27.8 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ بجٹ اور حقیقی خرچ کے درمیان 20 فیصد کا فرق ریکارڈ کیا گیا ہے۔ وائیٹ پیپر میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ قرض کے سود اور ضمانتوں کی شرح میں اضافہ کے نتیجہ میں معاشی صورتحال ابتر ہوئی ہے۔ حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ اہم شعبہ جات کو گذشتہ برسوں میں نظرانداز کردیا گیا اور جملہ بجٹ کے اعتبار سے اہم شعبہ جات کو رقومات مختص نہیں کی گئیں۔
ابتدائی پانچ برسوں میں تلنگانہ منافع بخش ریاست رہی اور کالیشورم ، پالمور رنگاریڈی، سیتا راما پراجکٹس اور مشن بھگیرتا اسکیم کیلئے بھاری قرض کے حصول کے بعد سے ریاست کی معیشت انحطاط کا شکار ہوئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2020 میں بجٹ مینجمنٹ ایکٹ میں ترمیم کرتے ہوئے حکومت نے ضمانت کو مجموعی آمدنی کا 90 فیصد سے بڑھا کر 200 فیصد کردیا۔ حکومت نے دعویٰ کیا کہ عوام کو حقیقی صورتحال سے واقف کرانے کیلئے وائیٹ پیپر کی اجرائی عمل میں لائی گئی۔
حکومت وسائل میں اضافہ کے اقدامات کرے گی تاکہ معیشت کو مستحکم کیا جاسکے۔ نئی حکومت چھ ضمانتوں پر عمل آوری کے عہد کی پابند ہے جس کی بنیاد پر تلنگانہ عوام نے تبدیلی کے حق میں فیصلہ دیا۔ حکومت مکمل ذمہ داری اور شفافیت کے ساتھ معاشی چیالنجس کا سامنا کرے گی۔ وائیٹ پیپر میں 11 مختلف معاشی نکات کا احاطہ کیا گیا جس میں طئے شدہ بجٹ کے مقابلہ حقیقی خرچ کو دکھایا گیا ہے۔ ہر سال کی بنیاد پر قرض کی شرح میں اضافہ کی تفصیلات بیان کی گئی۔
حکومت نے دعویٰ کیا کہ بجٹ اور خرچ کے درمیان بڑا فرق ہے جس نے معیشت کو کمزور کیا ہے۔ حکومت نے دعویٰ کیا کہ اہم ویلفیر اسکیمات پر بجٹ میں مقرر کردہ رقم اور حقیقی خرچ میں کافی فرق پایا گیا ہے۔ دلت بندھو کے علاوہ ایس سی، ایس ٹی، بی سی اور اقلیتوں کی بھلائی کی اسکیمات پر مکمل بجٹ خرچ نہیں کیا گیا۔



