ملک کی تاریخ میں نئے باب کا آغاز، تلنگانہ کی طرح ملک کی ترقی کیلئے جدوجہد کرنے کا عزم، پارٹی اجلاس میں قرار داد منظور
حیدرآباد۔ 5۔اکٹوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ملک کی سیاسی تاریخ میں نئے باب کے آغاز کیلئے کے چندر شیکھر راؤ نے قومی سیاسی جماعت کی تشکیل کا اعلان کرتے ہوئے تلنگانہ راشٹر سمیتی کو ’’بھارت راشٹرسمیتی ‘‘ میں تبدیل کرنے کا باضابطہ اعلان کردیا۔ تلنگانہ بھون میں منعقدہ ٹی آر ایس جنرل باڈی اجلاس میں ٹی آر ایس سربراہ کے سی آر نے پارٹی کے نام اور ایجنڈہ میں تبدیلی سے متعلق قرارداد پیش کی جسے پارٹی قائدین نے نعروں کی گونج میں قبول کیا اور ’’دیش کا نیتا کے سی آر‘‘ کے نعرہ لگائے۔ چندر شیکھر راؤ نے خصوصی اجلاس میں 1بجکر 19منٹ پر پارٹی کے نام کی تبدیلی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بھارت راشٹر سمیتی کے قیام کے ذریعہ اب ان کی پارٹی ملک بھر میں انتخابات میں حصہ لے گی اور ملک کو نیا متبادل فراہم کرنے کے اقدامات کو یقینی بنائے گی۔
انہوں نے پارٹی قائدین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے موجودہ حالات اور پسماندہ طبقات کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کے علاوہ آمرانہ طرز حکمرانی کے خلاف تلنگانہ راشٹر سمیتی نے قومی سطح پر سیاسی جدوجہد کا فیصلہ کیا ہے اور اسی فیصلہ کے تحت تلنگانہ راشٹر سمیتی کے نام کو تبدیل کرتے ہوئے اسے بھارت راشٹر سمیتی کرنے کا اعلان کیا جا رہاہے۔ انہو ںنے بتایا کہ آئندہ کرناٹک اسمبلی انتخابات میں بھارت راشٹر سمیتی کا پرچم کرناٹک میں لہرائے گا۔ انہو ںنے مرکزی حکومت کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہوچکی ہے اورملک بھر میں عوام حکومت کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہے بلکہ کسان ‘ پسماندہ طبقات اور عوام پریشان ہیں۔ اس موقع پر موجود جنتادل (سیکولر) قائد و سابق چیف منسٹر ایچ ڈی کمارا سوامی نے کہا کہ کرناٹک میں آئندہ سال ہونے والے انتخابات میں جے ڈی ایس اور بی آر ایس متحدہ طور پر مقابلہ کریں گے۔
جے ڈی ایس کے تمام ارکان اسمبلی ملک بھر میں کے سی آر کے ساتھ بی آر ایس کیلئے کام کریں گے۔ کماراسوامی نے تلنگانہ میں چلائی جانے والی فلاح و بہبود کی اسکیمات کو ملک کیلئے مثالی قرار دیتے ہوئے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے جس طرح سے ریاست تلنگانہ کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا ہے اسی طرز پر ملک کی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود کے لئے وہ کے سی آر کے ساتھ ملکر جدوجہد کریں گے۔تلنگانہ راشٹرسمیتی جنرل باڈی اجلاس کے دوران کئے گئے اس فیصلہ اور قرارداد کی منظوری کے ساتھ ہی تلنگانہ راشٹر سمیتی قائدین کے وفد کو چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات کیلئے دہلی روانہ کردیا گیا ہے۔
کے سی آر نے بتایا کہ سماج وادی پارٹی بھی ان کے نظریات کی تائید کر رہی ہے اور اکھلیش یادو سابق چیف منسٹر اترپردیش ان سے مسلسل رابطہ میں ہیں لیکن آج کے اجلاس میں وہ شریک نہیں ہوپائے ہیں جس کی وجہ ان کے والدملائم سنگھ یادو کی صحت ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ ٹی آر ایس کا وفد الیکشن کمیشن آف انڈیا کے ذمہ داروں سے ملاقات کرتے ہوئے تلنگانہ راشٹر سمیتی جنرل باڈی کے فیصلہ سے واقف کرواتے ہوئے پارٹی کے نام کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ رہنمایانہ خطوط و ضوابط میں لائی جانے والی تبدیلی کے متعلق واقف کرواتے ہوئے نئے نام کی منظوری کی درخواست داخل کرے گا۔
الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے نئے نام کو منظوری کے بعد آئندہ انتخابات میں تلنگانہ راشٹر سمیتی اپنے نئے نام ’بھارت راشٹرسمیتی‘ کے ساتھ انتخابی میدان میں ہوگی۔ ملک میں الیکشن کمیشن کی جانب سے 8قومی سیاسی جماعتو ںکو مسلمہ حیثیت فراہم کی گئی ہے جبکہ 54 علاقائی سیاسی جماعتیں الیکشن کمیشن کی فہرست میں شامل ہیں ان کے علاوہ 2797 غیر مسلمہ سیاسی جماعتیں الیکشن کمیشن میں درج ہیں۔ ٹی آر ایس کو بھارت راشٹرسمیتی میں تبدیل کرنے کو پارٹی قائدین نے تاریخی فیصلہ قرار دیا۔



