لوک سبھا چناؤ میں بی آر ایس سے انتخابی مفاہمت پر بی جے پی منقسم
دہلی میں غیر رسمی مذاکرات، حکومت سے محرومی کے بعد بی آر ایس قیادت کو مضبوط سہارے کی تلاش
حیدرآباد :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اسمبلی انتخابات میں شکست کے بعد بی آر ایس آئندہ لوک سبھا انتخابات کیلئے مضبوط حلیف کے طور پر بی جے پی سے مفاہمت کے امکانات تلاش کر رہی ہے تاکہ کانگریس سے بہتر مظاہرہ کیا جاسکے۔ اسمبلی چناؤ میں بی آر ایس کو یقین تھا کہ سادہ اکثریت کے ساتھ تیسری مرتبہ حکومت تشکیل پائے گی لیکن عوام کا فیصلہ کانگریس کے حق میں رہا اور بی آر ایس جو گزشتہ اسمبلی میں 104 ارکان کے ساتھ دو تہائی سے زیادہ اکثریت رکھتی تھی ، وہ 39 نشستوں پر سمٹ کر رہ گئی۔ کانگریس کو 64 ارکان کے ساتھ اکثریت حاصل ہوئی اور ایک سی پی آئی رکن کی تائید ملی ۔ اسمبلی نتائج اور حکومت کی تشکیل کے فوری بعد اہم پارٹیوں نے لوک سبھا چناؤ کی تیاریاں شروع کردی ہیں۔
بتایا جاتا ہے کہ بی آر ایس نے بی جے پی سے انتخابی مفاہمت کا پیشکش کیا ہے۔ اس سلسلہ میں دہلی میں بی آر ایس و بی جے پی قائدین میں غیر رسمی مذاکرات بھی ہوئے۔ بی آر ایس قیادت کو یقین ہے کہ بی جے پی سے مفاہمت کی صورت میں لوک سبھا کی 17 میں کم از کم 10 نشستوں پر کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔ اسمبلی چناؤ کی انتخابی مہم میں بی آر ایس قائدین نے بی جے پی سے مفاہمت کو خارج از امکان قرار دیا تھا لیکن شکست کے بعد موقف تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ بی جے پی قیادت کو خوش کرنے رکن کونسل کویتا نے رام مندر کی تعمیر کو ہندوؤں کا دیرینہ خواب قرار دیتے ہوئے ٹوئیٹ کیا۔
کویتا کے ٹوئیٹ کے بعد بی جے پی سے امکانی مفاہمت کی قیاس آرائیاں شدت اختیار کرچکی ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ بی جے پی قومی قیادت نے مفاہمت کیلئے ریاستی قائدین سے رائے طلب کی ہے۔ ریاستی صدر جی کشن ریڈی جو کے سی آر سے قریبی مانے جاتے ہیں، وہ مفاہمت کے حق میں ہیں لیکن دیگر قائدین اور خاص طور پر ارکان اسمبلی نے مخالفت کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق بی جے پی ریاستی سطح پر منقسم ہے اور الیکشن میں اقتدار سے محرومی کے بعد بی آر ایس سے مفاہمت کو نقصان قرار دے رہے ہیں۔ بعض قائدین کا کہنا ہے کہ عوامی تائید سے محروم علاقائی پارٹی سے مفاہمت فائدہ مند نہیں ہوگی جبکہ دیگر قائدین کی رائے ہے کہ مفاہمت سے بی جے پی کو بھی فائدہ ہوگا۔ تلنگانہ میں بی جے پی کے چار ایم پیز ہیں اور موجودہ صورتحال میں تنہا مقابلہ کی صورت میں دوبارہ چار حلقوں میں کامیابی ممکن دکھائی نہیں دیتی۔
موجودہ ارکان پارلیمنٹ میں ڈی اروند و بنڈی سنجے کو کورٹلہ اور کریم نگر حلقوں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔ بی جے پی قائدین کے مطابق کانگریس نے بی آر ایس ، بی جے پی اور مجلس کے ایک ہونے کا جس تیزی سے پرچار کیا تھا، اس کا ووٹر پر اثر پڑا اور بی آر ایس کو اقتدار سے محروم ہونا پڑا۔ بعض قائدین کا ماننا ہے کہ 22 جنوری کو ایودھیا میں رام مندر کے افتتاح کے بعد ملک بھر میں بی جے پی کے حق میں لہر کا آغاز ہوگا اور یہی لہر لوک سبھا چناؤ میں کامیابی دلاسکتی ہے۔ پارٹی ذرائع نے بتایا کہ مفاہمت کی صورت میں رائے دہندوں کی رائے جاننے کیلئے سروے کیا جارہا ہے ۔
اگر عوام کی رائے مفاہمت کے حق میں آتی ہے تو مفاہمت کے مسئلہ پر مذاکرات کئے جائیں گے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بی جے پی سے مفاہمت کی صورت میں بی آر ایس کی دیرینہ حلیف مجلس کا کیا موقف ہوگا۔ وزیراعظم نریندر مودی نے حیدرآباد میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے انکشاف کیا تھا کہ کے سی آر این ڈی اے میں شمولیت کی درخواست سے ساتھ پہنچے تھے لیکن انہوں نے درخواست کو مسترد کردیا۔ اسمبلی نتائج کے اعلان کے بعد دونوں پارٹیوں میں انتخابی مفاہمت کی مساعی تیز ہوچکی ہے۔



