تلنگانہ کی خبریں

فیس ری ایمبرسمنٹ میں تاخیر سے طلبہ کو مشکلات کا سامنا

حیدرآباد:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) ریاست تلنگانہ کے مختلف کالجس اور یونیورسٹیز میں اعلیٰ تعلیم اور پروفیشنل ایجوکیشن کورسیس کی تعلیم حاصل کرنے والے ایس سی ، ایس ٹی ، بی سی اور اقلیت سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے کیوں کہ ریاستی حکومت نے گذشتہ دو سال سے 2,183 کروڑ روپئے فیس ری ایمبرسمنٹ جاری نہیں کئے ہیں ۔ طلبہ تنظیموں کے مطابق تقریبا 15 لاکھ طلبہ کا انحصار فیس ری ایمبرسمنٹ پر ہوتا ہے ۔ تعلیمی سال 2021-22 کے لیے ڈیٹا کے مطابق محکمہ فینانس نے ایک کروڑ روپئے جاری کئے لیکن سابق تعلیمی سال اور جاریہ تعلیمی سال 2022-23 کے لیے 2,183 کروڑ روپئے کی اجرائی ہنوز زیر التواء ہے ۔

اس میں تاخیر کے باعث طلبہ کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ بعض خانگی اسکولس نے سرٹیفیکٹس جاری نہیں کئے ہیں اور کئی یونیورسٹی ہاسٹلس میں طلبہ کو بنیادی سہولتوں کے استعمال کی اجازت نہیں دی جارہی ہے کیوں کہ انہیں ری ایمبرسمنٹ کی رقم موصول نہیں ہوئی ہے ۔ ’ ہائی کورٹ کے احکام کے مطابق ریاستی حکومت کو ایک خاص تعلیمی سال کے لیے تین میقات میں فیس ری ایمبرسمنٹ جاری کرنا چاہئے لیکن ریاستی حکومت ہر دو سال میں فنڈس جاری کرائیں ہے وہ بھی صرف جزوی رقم ۔ اسے بہانہ بناکر بعض خانگی اور گورنمنٹ کالجس کورسیس کی تکمیل کرنے والے طلبہ کو سرٹیفیکٹس جاری نہیں کررہے ہیں ۔ طلبہ کی اکثریت جو فیس ری ایمبرسمنٹ پر انحصار کرتے ہیں دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والی ہے اور وہ تعلیمی اداروں کی جانب سے چارج کی جانے والی زیادہ فیس ادا نہیں کرسکتے ہیں ۔

متعلقہ خبریں

Back to top button