تلنگانہ کی خبریں

تلنگانہ کے 160 سرکاری اساتذہ کا بیرونی مطالعاتی دورہ منظور

جاپان، فن لینڈ، سنگاپور اور ویتنام میں تعلیمی نظام کا مطالعہ، نصاب اور تدریس میں عالمی معیار لانے کی کوشش

حیدرآباد:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)تلنگانہ حکومت نے سرکاری اسکولوں میں تعلیم کے معیار کو عالمی سطح پر بہتر بنانے کے لیے ایک انقلابی قدم اٹھایا ہے۔ حکومت نے 160 سرکاری اساتذہ اور محکمہ تعلیم کے عہدیداروں پر مشتمل ٹیموں کو جاپان، فن لینڈ، سنگاپور اور ویتنام کے مطالعاتی دورے پر روانہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس دورے کا مقصد مختلف ممالک کے جدید تعلیمی نظام، کلاس روم مینجمنٹ، ٹیکنالوجی انٹیگریشن اور تدریسی طریقوں کا مطالعہ کرنا ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ مطالعاتی دورہ آئندہ ماہ عمل میں آئے گا۔ ریاست کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ ٹیچرس کو حکومت کے خرچ پر بین الاقوامی تربیتی مشن پر بھیجا جارہا ہے۔ اسکیم کے اعلان کے بعد ٹیچرس میں غیر معمولی جوش و خروش دیکھا گیا اور اطلاعات کے مطابق 22 اکتوبر تک سینکڑوں درخواستیں موصول ہوئیں۔

چار مختلف ٹیمیں تشکیل دی جائیں گی، جن میں سے ہر ٹیم ایک مخصوص ملک کا دورہ کرے گی۔ فن لینڈ میں تدریسی نظام اور لرننگ سسٹم کا مطالعہ کیا جائے گا، جاپان میں نظم و ضبط اور اختراعی صلاحیتوں پر توجہ دی جائے گی، سنگاپور میں ٹیکنالوجی کے استعمال کا جائزہ لیا جائے گا جبکہ ویتنام میں کمیونٹی پارٹنرشپ کے ماڈل پر توجہ مرکوز ہوگی۔

حکومتی ذرائع نے بتایا کہ بیرونی مطالعاتی دورے کے لیے اہل امیدواروں کے پاس کم از کم 10 سال تدریسی تجربہ اور عمر 55 سال سے کم ہونی چاہئے۔ انتخاب ضلع کلکٹرز کی نگرانی میں کیا جائے گا، جبکہ ریاستی سطح پر ماہرین کی کمیٹی مختلف زمروں جیسے ایس جی ٹی، پی ای ٹی، ٹی جی ٹی، ہیڈ ماسٹرس اور اقامتی اسکولوں کے پرنسپلز کا انتخاب کرے گی۔

اسکیم کے تحت منتخب اساتذہ کو مختلف تربیتی سیشنز میں شرکت کا موقع دیا جائے گا۔ انہیں ماڈل اسکولوں کے دورے کرائے جائیں گے اور مقامی ماہرین تعلیم کے ساتھ تبادلہ خیال کا موقع فراہم کیا جائے گا۔

اساتذہ نے اس اقدام کو حکومت کا ایک مثبت اور اصلاحی فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بیرونی مطالعاتی دورہ نہ صرف ان کے تجربے میں اضافہ کرے گا بلکہ طلبہ کی تعلیمی کارکردگی کو بھی بہتر بنائے گا۔

حکومت تلنگانہ نے اس کے ساتھ ہی نئی تعلیمی پالیسی کی تیاری کے لیے ماہرین پر مشتمل کمیٹیاں تشکیل دی ہیں تاکہ ریاستی سطح پر تدریسی نظام کو عالمی معیار کے مطابق ڈھالا جاسکے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button