
تلگو کی لازمی تعلیم پر تلنگانہ ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ، حکومت کے احکامات میں مداخلت سے انکار
تمام اسکولوں میں تلگو زبان کو لازمی مضمون کے طور پر پڑھانا ضروری
حیدرآباد (اردودنیا.اِن/ایجنسیز) تلنگانہ ہائیکورٹ نے ریاستی حکومت کے اُن احکامات میں مداخلت سے انکار کردیا ہے جن کے تحت آئی سی ایس سی، سی بی ایس سی، آئی بی اور دیگر خانگی تعلیمی اداروں میں تلگو زبان کو لازمی طور پر پڑھانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ریاستی حکومت نے 2018ء میں ایک قانون نافذ کرتے ہوئے تمام اسکولوں میں تلگو کی لازمی تعلیم کو یقینی بنانے کا حکم دیا تھا۔ اس کے بعد حکومت نے مرکزی نصاب پر چلنے والے تمام تعلیمی اداروں کو بھی تلگو کو لازمی مضمون کے طور پر شامل کرنے کی ہدایت دی۔
تاہم، حکومت کے ان احکامات کو ہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا، جس کی سماعت فی الحال سنگل جج بنچ پر جاری ہے۔ ایسے میں چیف جسٹس اپریش کمار سنگھ اور جسٹس جی ایم محی الدین کی بنچ کے سامنے ایک علیحدہ مفاد عامہ کی درخواست پیش کی گئی۔چیف جسٹس نے کہا کہ اس معاملے میں فوری سماعت کی کوئی ضرورت نہیں ہے، لہٰذا مقدمہ کی اگلی تاریخ 6 ہفتے بعد مقرر کی گئی۔ عدالت نے مزید کہا کہ حکومت کے احکامات کو چیلنج کرنے والی مفاد عامہ کی درخواست میں طلبہ شامل نہیں ہیں۔
یہ درخواست میدک کی ایک ٹیچر پرمیلا پاٹھک نے دائر کی تھی، جنہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ حکومت کو لازمی تلگو تعلیم سے استثنیٰ دینے کی ہدایت دی جائے۔عدالت کو بتایا گیا کہ حکومت نے تعلیمی سال 2022-23 اور 2023-24 میں نویں اور دسویں جماعت کے طلبہ کو تلگو کی لازمی تعلیم سے استثنیٰ دیا تھا، اور 2024-25ء و 2025-26ء میں بھی بعض درجات کے لیے استثنیٰ دینے پر غور جاری ہے۔
سرکاری وکیل راہول ریڈی نے عدالت کو آگاہ کیا کہ حکومت موجودہ تعلیمی سال کے لیے نویں اور دسویں جماعتوں کو استثنیٰ دینے کے مسئلے پر غور کررہی ہے۔
چیف جسٹس نے واضح کیا کہ چونکہ سنگل جج بنچ نے پہلے ہی عبوری احکامات جاری کیے ہیں، اس لیے مزید مداخلت کی ضرورت نہیں ہے۔ عدالت نے مفاد عامہ کی درخواست کو غیرضروری قرار دیتے ہوئے خارج کردیا اور کسی بھی عبوری حکم سے انکار کیا۔واضح رہے کہ طلبہ کی جانب سے دائر کردہ رٹ درخواست اب بھی سنگل بنچ پر زیرالتواء ہے، جس پر آئندہ سماعت 6 ہفتے بعد مقرر کی گئی ہے۔



