بین الاقوامی خبریں

امریکہ، چین میں تناؤ ،اس بار کوئی ہاٹ لائن نہیں اور یہ پریشان کن ہے

دونوں ممالک میں کم ہوتے تناؤ میں امریکہ کی جانب سے چینی جاسوس غباروں کی دریافت کے بعد ایک بار پھر اضافہ ہو گیا

نیویارک،9مارچ :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)امریکہ اور چین کا خیال تھا کہ ان کے تعلقات کو بہتر کرنے کی ایک موہوم سی امید باقی ہے لیکن اب وہ بھی دم توڑ گئی ہے۔فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق دونوں ممالک میں کم ہوتے تناؤ میں امریکہ کی جانب سے چینی جاسوس غباروں کی دریافت کے بعد ایک بار پھر اضافہ ہو گیا ہے۔ اس بات کے بھی کم امکانات ہیں کہ دونوں فریق اپنی جارحیت میں کمی لائیں گے۔چینی صدر شی جن پنگ صرف ایک مہینے قبل تک امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کے دورہ بیجنگ پر استقبال کی تیاری کر رہے تھے، لیکن یہ دورہ غبارے کے واقعے کے بعد منسوخ کر دیا گیا۔

پر اب چینی صدر کے مزاج میں بھی برہمی نظر آ رہی ہے اور انہوں نے رواں ہفتے انتباہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ چین کو ’روکنے، گھیراؤ کرنے اور دبانے کی کوشش کر رہا ہے۔بائیڈن انتظامیہ نے فوجی استعمال کے خطرات کا حوالہ دیتے ہوئے جدید چپس کی تجارت کو نشانہ بنا کر چین کو مشتعل کیا ہے اور اگلے برس صدارتی انتخابات کے قریب آتے ہی امریکہ کا لہجہ مزید سخت ہونے کی امید ہے۔واشنگٹن نے چین پر نئی پابندیاں لگانے کی دھمکی بھی دی ہے کیونکہ وہ چین پر انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر دباؤ ڈال رہا ہے جن کے مطابق بیجنگ روس کو یوکرین میں اس کی جنگ میں مدد کے لیے فوجی امداد فراہم کرنے پر غور کر رہا ہے۔

امریکہ کی نیشنل انٹیلی جنس کی ڈائریکٹر ایوریل ہینس نے بدھ کو سینیٹ میں ایک سماعت کے دوران بتایا کہ چینی صدر شی جن پنگ کا خطاب عوامی سطح پر سب سے زیادہ براہ راست (امریکہ پر) تنقید ہے جو ہم نے آج تک ان کی جانب سے دیکھی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ شاید امریکہ کے ساتھ چین کے تعلقات کے بارے میں بیجنگ میں بڑھتی ہوئی مایوسی کی عکاسی کرتا ہے، نیز چین کی اندرون ملک اقتصادی ترقی، مقامی ٹیکنالوجی اور جدت طرازی کے چیلنجوں کے بارے میں شی جن پنگ کی بڑھتی ہوئی تشویش کو ظاہر کرتا ہے جن کا اب وہ امریکہ پر الزام لگاتے ہیں۔ایوریل ہینس کے مطابق چین کے پالیسی سازوں کو یہ یقین ہے کہ وہ صرف المریکی طاقت اور اثر و رسوخ کی قیمت پر‘ شی جن پنگ کے ایک طاقتور چین کے وژن کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔نیشنل انٹیلی جنس کی ڈائریکٹر نے یہ بھی کہا کہ چینی صدر تائیوان پر اثر و رسوخ قائم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button