
نئی دہلی ، 28اگست :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)افغانستان میں طالبان کی فتح اور خراسانی داعش کے بم دھماکوں کی وحشت کے اثناء بڑا انکشاف ہوا ہے۔ خبر رساں ادارے اے این آئی کے مطابق دہشت گرد تنظیم جیش محمد کے دہشت گرد چند روز قبل طالبان رہنماؤں سے ملاقات کیلئے قندھار گئے تھے۔ اس دوران جیش محمد (جے ای ایم) نے ہندوستان میں اپنی سرگرمیوں کو انجام دینے کے لیے طالبان سے مدد طلب کی ہے۔ یہ خفیہ اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں کہ پاکستان سے نکلے مبینہ طور پر دو دہشت گرد سری نگر میں دستی بم حملے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں ، اس لیے تمام سکیورٹی ایجنسیوں کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔
انہیں کہا گیا ہے کہ وہ کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ خفیہ اداروں سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پرسخت نظر رکھیں۔ذرائع کے مطابق طالبان کے اعلیٰ رہنماؤں سے ملاقات میں جیش محمد کے دہشت گردوں نے پاکستان کی سیاسی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا ہے۔خیال رہے کہ طالبان نے 15 اگست کو کابل پر قبضہ کرکے افغانستان کے اقتدارپر قبضہ کرلیا تھا ۔ اس کے بعد کئی ممالک نے اپنے شہریوں اور سفارت کاروں کو کابل سے نکالنا شروع کر دیا۔ کابل ایئرپورٹ پر اب بھی ہزاروں لوگ جمع ہیں ، جو افغانستان چھوڑ کر بھاگنا چاہتے ہیں۔ ہندوستانی حکومت اپنے شہریوں کو کابل سے نکالنے کیلئے نام نہاد مشن دیوی شکتی شروع کیا ہے۔
ہندو اور سکھ افغانیوں کو وہاں سے نکالنے کا کام جاری ہے۔خراسانی داعش نے جمعرات کو کابل ایئرپورٹ کے باہر فدائین حملہ کرکے کم از کم 170 امریکی شہری ہلاک کردیئے ، جن میں 13 امریکی فوجی بھی شامل تھے۔ اس کے بعد امریکہ نے ڈرون سے داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے۔ اس میں خراسانی داعش کے ایک ماسٹر مائنڈ دہشت گرد کے مارے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
Join Urdu Duniya WhatsApp Group



