بین الاقوامی خبریںسرورق

افغان خاتون میئر نے برطانیہ کا طالبان کے ساتھ کام کرنے کا فیصلہ ‘مایوس کن’ قرار دیا

کابل ، 17جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)افغانستان کے شہر وردک کی خاتون میئر ظریفہ غفاری (Zarifa Ghafari) کا کہنا ہے کہ برطانوی وزیر دفاع بین والس کی جانب سے طالبان تحریک کے ساتھ کام کرنے پر آمادگی کا اعلان "خفّت آمیز اور نہایت مایوس کن” ہے۔ ظریفہ نے یہ بات ب#رطانوی #اخبار The Daily #Telegraph کو دیے گئے انٹرویو کے دوران کہی۔ظریفہ نے برطانوی وزیر دفاع کو مخاطب کرتے ہوئے سوال کیا کہ آیا وہ اپنی بیٹی کو بھی تعلیم حاصل کرنے یا اپنے وطن اور اپنی #قومی شناخت اور اپنے حقوق اور خوابوں کے لیے لڑنے سے روک دیں گے۔

ظریفہ نے واضح کیا کہ #طالبان نہ بدلے اور نہ بدلیں گے۔ انہوں نے امریکی اور برطانوی #افواج کے انخلا کے فورا بعد افغانستان اور پاکستان کے درمیان ایک اہم سرحدی گزر گاہ پر تیزی سے کنٹرول حاصل کر لیا۔یاد رہے کہ بین والس نے بدھ کے روز "دی ٹیلی گراف” اخبار میں شائع ہونے والے انٹرویو میں اعلان کیا تھا کہ اگر طالبان تحریک افغانستان میں حکومت میں شامل ہوئی اور انسانی حقوق کا احترام کیا تو برطانیہ طالبان کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ جب تک ان کی حکومت قائم رہتی ہے برطانوی حکومت اس کے ساتھ تعاون کرے گی بشرط یہ کہ طالبان حکومت بعض بین الاقوامی معیارات کا احترام کرے۔برطانوی وزیر دفاع نے اقرار کیا کہ افغانستان میں تعینات رہتے ہوئے برطانیہ کے 457 فوجی اہل کار مارے گئے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ امن کے تمام عمل دشمن کے ساتھ موافقت کا تقاضا کرتے ہیں۔

انخلا کا عمل اگست کے اختتام تک مکمل ہو جائے گا۔اس انخلا کے سبب طالبان تحریک نے دو ماہ سے افغان فورسز پر حملے شروع کر دیے جن کے نتیجے میں انہیں دیہی علاقوں میں وسیع رقبے پر کنٹرول حاصل ہو گیا۔ طالبان تحریک کا کہنا ہے کہ افغانستان کی 85% اراضی پر اس کا کنٹرول قائم ہو چکا ہے۔نیٹو کے زیراہتمام امریکہ کی زیرقیادت اتحاد کے حصے کے طور پر افغانستان میں 20 برس سے امریکا کے زیر قیادت موجود بین الاقوامی افواج کا انخلا شروع ہو گیا۔

اس دستبرداری کی وجہ سے ، 1996 سے 2001 تک اقتدار پر قابض طالبان نے ، دو ماہ قبل افغان افواج کے خلاف حملہ کیا تھا جس کی وجہ سے انہوں نے وسیع پیمانہ پر کئ علاقوں پرقبضہ دوبارہ کیاہے۔طالبان کا کہنا ہے کہ اس نے افغانستان کے 85 فیصد علاقے کو کنٹرول کیا ہے۔باغیوں نے حال ہی میں ایران ، ترکمنستان اور تاجکستان کے ساتھ ساتھ کابل سے ملحقہ صوبوں کے متعدد علاقوں پر بھی اہم سرحدی چوکیوں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے ، جس سے یہ خدشہ پیدا ہوا ہے کہ وہ دارالحکومت اور اس کے ہوائی اڈے پر جلد حملہ کردیں گے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button