قومی خبریں

غریبوں کی مدد کا مقصد اُن کی تبدیلی ٔ مذہب نہیں ہونی چاہیے: سپریم کورٹ

سالیسٹر جنرل نے کہا کہ تبدیلی مذہب کے معاملات کو دیکھنے کے لیے ایک کمیٹی ہونی چاہیے

نئی دہلی ،5دسمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) سپریم کورٹ نے ایک بار پھر مبینہ تبدیلی مذہب پر سخت تبصرہ کیا ہے۔ پیسے، خوراک یا دوا کا لالچ دے کر مذہب تبدیل کرنے والوں کو غلط بتاتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا، جو بھی غریبوں اور ضرورت مندوں کی مدد کرنا چاہتا ہے، اسے ضرور کرنا چاہیے۔ لیکن اس کا مقصد مذہب تبدیل کرنا نہیں ہو نا چاہیے۔سپریم کورٹ کے جسٹس ایم آر شاہ کی سربراہی میں دو ججوں کی بنچ دباؤ، دھوکہ دہی یا لالچ کے ذریعے تبدیلی مذہب کے خلاف سخت قانون کے مطالبہ کی سماعت کر رہی ہے۔ پچھلی سماعت میں عدالت نے اس طرح مذہب کی تبدیلی کو ملک کی سلامتی کے لیے خطرناک قرار دیا تھا۔ مرکز نے بھی اس سے اتفاق کیا اور کہا کہ 9 ریاستوں نے اس کے خلاف قانون بنایا ہے۔ مرکز بھی ضروری اقدامات کرے گا۔

سالیسٹر جنرل نے کہا کہ تبدیلی مذہب کے معاملات کو دیکھنے کے لیے ایک کمیٹی ہونی چاہیے، جو یہ فیصلہ کرے گی کہ کیا واقعی تبدیلی مذہب ہوئی ہے یا لالچ اور دباؤ میں مذہب تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ عدالت نے مرکزی حکومت سے دیگر ریاستوں کے بارے میں بھی معلومات اکٹھا کرنے کے بعد حلف نامہ دینے کو کہا تھا۔آج سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے اس کے لیے کچھ اور وقت کا مطالبہ کیا۔ اس پر عدالت نے پیر 12 دسمبر کو سماعت کے لیے کہا۔عدالت نے واضح کیا کہ وہ تمام ریاستوں کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب نہیں کرے گی ،کیونکہ اس سے معاملہ غیر ضروری طور پر طویل ہو گا۔ اگر کوئی ریاست اپنی بات پیش کرنا چاہے تو وہ ایسا کر سکتی ہے۔سماعت کے دوران عیسائی تنظیموں کی طرف سے پیش ہونے والے سینئر ایڈوکیٹ سنجے ہیگڑے اور راجو رام چندرن نے کہاکہ عدالت نے پہلے ہی عرضی گزار اشونی اپادھیائے کی عرضی پر سماعت کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button