بین ریاستی خبریں

ڈاکٹر کفیل خان کے خلاف یوپی حکومت کے 2019 کے معطلی آرڈر پر ہائی کورٹ نے لگائی روک، 11 نومبر کو اگلی سماعت

الہ ٰ آباد:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ڈاکٹر کفیل خان کو دوہزار انیس میں دوسری بار بہرائچ ڈسٹرکٹ اسپتال میں مبینہ طور پر پریشانی پیدا کرنے اوراسپتال عملے کے ساتھ بدتمیزی کرنے پر معطل کیا گیا تھا۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے یوپی حکومت کے اس حکم پر روک لگا دی ہے کیونکہ ڈاکٹر کفیل خان پہلے سے ہی معطل تھے۔ #گورکھپور کے بی آر ڈی میڈیکل کالج میں مبینہ طور پر آکسیجن کی فراہمی میں رکاوٹ کی وجہ سے تیس بچوں کی موت کے بعد #ڈاکٹر خان کو دوہزار سترہ میں گرفتار کیا گیا تھا۔

گرفتاری کے ایک سال بعد ڈاکٹر #کفیل خان کو ضمانت پر رہا کیا گیا تھا۔ خان کے وکیل نے دلیل دی کہ ایسا کوئی اصول نہیں ہے جو ریاستی حکومت کو اس کے خلاف دوسرا #معطلی کا حکم جاری کرنے کی اجازت دے جب کہ اُسے پہلے ہی معطل کیا جاچکا تھا۔ تاہم حکومت کی جانب سے ایڈیشنل چیف اسٹینڈنگ کونسل اے کے گوئل نے ہائی کورٹ کو بتایا کہ خان کے خلاف انکوائری رپورٹ ستائیس اگست دوہزار اکیس کو پیش کی گئی تھی اور ایک دن بعد انہیں ایک کاپی بھیجی گئی۔

معاملے کی اگلی سماعت گیارہ نومبر کو ہوگی۔واضح رہے گزشتہ ماہ ، الہ آباد ہائی کورٹ نے علی گڑھ چیف جوڈیشل مجسٹریٹ کے ڈاکٹرکفیل خان کے خلاف نفرت انگیز تقریر کے مقدمے میں پولیس چارج شیٹ کو قبول کرنے کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔قابل ذکر ہے کہ عرضی میں  ڈائرکٹوریٹ دفتر لکھنؤ سے وابستہ تھا تو اسی وقت بہرائچ میں انسیفیلائٹس بیماری کی وجہ سے ایک ہفتے میں 70 #بچوں کی اموات ہوگئی تھیں۔

ایسے میں عرضی گذار علاج کرنے وہاں گیا تھا۔ اور عرضی گذار کو بغیر اجازت جبراَ بچوں کا علاج کرنے و سرکار مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں معطل کردیا گیا تھا۔جسے چیلنج کیا گیا ہے۔

 انہیں اگست 2017ء میں گورکھپور کے بی آر ڈی میڈیکل کالج میں سانحہ پیش آنے کے بعد معطل کیا گیا تھا۔ اس واقعہ میں آکسیجن کی مبینہ قلت کے سبب تقریباً 60 بچے #فوت ہوگئے تھے۔ ڈاکٹر کفیل کی رٹ پٹیشن کی سماعت کے بعد جسٹس سرل سریواستو نے حکام کو اندرون ایک ماہ انکوائری ختم کرلینے کی ہدایت دی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button