نیویارک،17مارچ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)یوں تو سیاسی لیڈران کی زبان اکثر و بیشتر پھسلتی ہے ، اسی کڑی میں جوبائیڈن کی بھی زبان پھسل گئی اور وہ اپنی نائب کو’خاتون اول‘ کہہ بیٹھے۔صدر جوبائیڈن وائٹ ہاؤس میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ اس موقعہ پر انہوں نے نائب صدر کمیلا ہیرس کے شوہرکے کرونا کا شکار ہونے کی تصدیق کی ،مگر یہاں پر ان کی زبان لڑکھڑا گئی۔
وہ یہ کہنا چاہ رہے تھے کہ ان کی نائب کے شوہر ڈیگ امہوف کرونا کا شکار ہوگئے ہیں ،مگر ان کی زبان سے غلطی سے’خاتون اول کے شوہر‘ کرونا کا شکار ہوگئے ہیں۔ ان کے یہ الفاظ سن کر پریس کانفرنس میں قہقے بلند ہوئے ،کیونکہ خاتون اول کے شوہر تو وہ خود ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ خاتون اول کا شوہر کرونا کا شکار ہوگیا جس پر حاضرین میں قہقہے لگ گئے کیونکہ یہ شوہر خود بائیڈن ہیں۔ بات یہیں نہیں رکی بلکہ انہوں نے اپنی غلطی کی اصلاح کی کوشش کی مگر پھر غلطی کرگئے۔ انہیں کہنا تھا کہ ’مرد ثانی‘ کرونا کا شکار ہوئے ہیں بلکہ ان کی زبان سے ’خاتون ثانی‘ نکل گیا حالانکہ وائٹ ہاؤس میں یہ لقب کسی کو نہیں دیا گیا۔
وائٹ ہاؤس نے منگل کے روز اعلان کیا کہ کیملاہیریس کے شوہر امہوف کو کرونا وائرس ہوا ہے۔ ہیریس نے انفیکشن کا پتہ لگانے کے لیے معائنہ کروایا تھا مگران کے ٹیسٹ کا نتیجہ منفی آیا تھا۔
یوکرین پر حملہ کامیاب، دھمکیاں دینے کی جگہ نہیں بننے دیں گے: پوتن
ماسکو ،17مارچ :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ ’یوکرین پر کامیاب حملہ کیا گیا ہے اور وہ اسے روس کو دھمکیاں دینے کی جگہ نہیں بننے دیں گے۔فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق روسی صدر نے کہا کہ آ پریشن پلان کے مطابق کامیابی سے جاری ہے۔
روس کے پاس فوج بھیجنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔ ہم ہرگز اجازت نہیں گے کہ یوکرین سے روس کے خلاف جارحانہ کارروائیاں ہوں۔روئٹرز کے مطابق روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروو نے بدھ کو کہا کہ یوکرین کی جانب سے ’غیرجانبداری‘ پر بات کرنے پر رضامندی کے بعد امن معاہدہ طے ہونے کے قریب ہے۔
روسی وزیر خارجہ کے اس بیان کے بعد امید بندھی ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد ہونے والی یورپ کی سب سے بڑی جنگ ختم ہو جائے گی۔انہوں نے کہا کہ دیگر باتوں کے ساتھ ساتھ اب سکیورٹی گارنٹی اور غیرجانبداری پر بھی سنجیدگی سے گفتگو ہو رہی ہے۔
اب اس چیز پر بات چیت ہو رہی ہے، بہت سی ایسی چیزیں ہیں جو معاہدے کے قریب ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے نیٹو میں شمولیت کے بغیر سکیورٹی گارنٹی کے ساتھ یوکرین کی غیر جانبداری کی بات کی تھی۔روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ مذاکرات آسان نہیں، لیکن امید ہے کہ سمجھوتہ ہوجائے گا۔
یوکرین نے بھی مذاکرات کے حوالے سے مثبت بیانات دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’وہ مذاکرات کیلیے تیار ہے، لیکن وہ نہ تو ہتھیار ڈالے گا اور نہ ہی روسی الٹی میٹم کو مانے گا۔سرگئی لاروو کا کہنا تھا کہ مرکزی نکات میں مشرقی یوکرین کے عوام کی سکیورٹی، یوکرین کو غیر فوجی قرار دینا اور وکرین میں روسی زبان بولنے والوں کے حقوق شامل ہیں۔
9 روسی فوجیوں کے بدلے میں میلیٹوپول کے مغوی یوکرینی میئر کی رہائی
کیف،17مارچ :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)یوکرین کے حکام نے اعلان کیا کہ روسی فورسز نے جنوبی یوکرین کے شہر میلیٹوپول کے میئر ایوان فیدروف کو اغوا کیے جانے کے چند دن بعد رہا کر دیا ہے۔ یوکرین کے ایوان صدر کی ایک ترجمان داشا زریونا نے بدھ کی رات گئے یوکرائنی ٹیلی ویژن کو بتایا کہ فیدروف کا 9 گرفتار روسی فوجیوں کی رہائی کے بدلے رہا کرایا گیا ہے جن کی عمریں 20 سے 21 سال کے درمیان ہیں۔
یہ بنیادی طور پر بچے ہیں جنہیں جنگ کے لیے بھرتی کیا گیا۔ روسی وزارت دفاع کے مطابق وہ یوکرین میں نہیں ہیں۔ زریونا نے مزید کہا کہ لیکن پوری دنیا نے دیکھا کہ وہ وہاں ہیں۔یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے انکشاف کیا تھا کہ روسی فوجیوں نے جمعہ کے روز فیڈروف کو اغوا کرلیا تھا۔
انہوں نے میلیٹوپول پر حملہ کرنے کے دوران دشمن کے ساتھ تعاون کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ یہ شہرماریوپول اور کھیرسن شہروں کے درمیان واقع ہے۔ زیلنسکی ٹیلی گرام پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں نمودار ہوئے۔انہوں نے فیڈروف سے فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ وہ زندہ ہیں۔فیدروف نے جواب دیا کہ میں بہتر حالت میں ہوں۔
میرے بارے میں فکر مند رہنے پر شکریہ۔ مجھے صحت یاب ہونے کے لیے ایک یا دو دن درکار ہوں گے اور پھر میں آپ کے حکم پر آپ کے ساتھ ہوں گا۔فیدوروف کو اس وقت اغوا کیا گیا جب وہ سپلائی کے مسائل کو سنبھالنے کے لیے اپنے شہر میں ایک کرائسز سیل میں تھے۔
زیلنسکی نے ہفتے کے روز اپنے فرانسیسی ہم منصب عمانویل میکروں اور جرمن چانسلر اولاف شولز سے ہا تھا کہ وہ ان کی رہائی میں مدد کریں۔جنوبی شہر ڈنیبروڈنی کے میئر کو بھی اتوار کو اغوا کر لیا گیا تھا۔ یورپی یونین نے ان اغوا کی مذمت کی۔
سعودی عرب کے شیعہ علماء بھی حاکم وقت کے قصیدہ خواں ہوگئے
ریاض ،17مارچ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) سعودی عرب میں شیعہ عالم دین شیخ حسین علی مصطفی نے ایک ٹویٹ کی ہے۔ ٹویٹ میں انہوں نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان آل سعود کو مخاطب کیا ہے اور ان کی تصویر بھی منسلک کی ہے۔ شیخ حسین نے لکھا ہے کہ وطن کے ساتھ آپ کی پاسداری کا کمال مرتبہ یہ ہے کہ آپ اس سرزمین کے ساتھ مخلص اور وفادار رہیں جہاں آپ نے زندگی بسر کی ہے اور جس وطن نے آپ کو آغوش فراہم کی۔
یہ ارضِ وطن ہر آن آپ کے ساتھ وابستہ ہے ،لہٰذا اس کے ساتھ ایک خود سے قائم عنوان کے طور پر معاملہ کیا جائے۔ یہ ہی سعودی ویژن 2030 ہے۔ شیخ حسین کی یہ ٹویٹ رواں ماہ 3 مارچ کو دی انٹلانٹک جریدے کو دیئے گئے سعودی ولی عہد کا انٹرویو شائع ہونے کے بعد سامنے آئی ہے۔
شیخ حسین علی المصطفیٰ نے 4 مارچ کو لکھا کہ قانونی ہم وطنی ریاست کے ساتھ انسان کے تعلق کی بنیاد ہے۔ دین فرد کے لیے اور قانون ریاست کے لیے ہوتا ہے۔ اگر اس کا خیال نہ رکھا جائے تو معاشرہ تباہ ہو جاتا ہے ،یہ موقف ہم وطنی کی روح کو مضبوط بناتا ہے اور اسے ضمنی وفاداریوں میں سب پہلے وضع کرتا ہے۔
شیخ حسین کے نزدیک دین کو سیاسی مقاصد کے واسطے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ مزید یہ کہ عالم دین کا کردار ایک دانش ور، فلسفی اور اس ہم وطن شہری کے شانہ بشانہ ہونا چاہیے جو اصلاح اور روشنی کی راہ دیکھ رہا ہے۔ادھر الاحساء ضلع میں امام حسین مسجد کے منبر سے خطبہ دیتے ہوئے محمد رضا السلمان لوگوں پر زور دیا کہ وہ ویژن 2030 کی تفصیلات کا مطالعہ کریں۔
انہوں نے دی اٹلانٹک جریدے کے ساتھ شہزادہ محمد بن سلمان کے حالیہ انٹرویو کو نہایت شان دار قرار دیا۔محمد رضا نے سعودی عرب میں حال ہی میں منظور کیے جانے والے ذاتی احوال کے قانون کو اپنی نوعیت کی بہترین پیش رفت شمار کی۔
انہوں نے کہا کہ اس کے ذریعے ہم بند دنیا سے ایک کھلی دنیا کی طرف منتقل ہو رہے ہیں اور اس کا سہرا ولی عہد کے سر ہے۔ایک اور شیعہ عالم شیخ حسن الصفار نے 11 مارچ کو قطیف ضلع کی الرسالہ مسجد میں جمعے کا خطبہ دیتے ہوئے دی اٹلانٹک کے ساتھ شہزادہ محمد کے انٹرویو کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی ولی عہد کے بیان کیے گئے مواقف نہ صرف ملک و قوم، بلکہ پوری امت کے لیے باعث افتخار ہیں۔
اقوام متحدہ کی اعلیٰ عدالت کا روس کو یوکرین جنگ کے خاتمے کا حکم
جینوا ،17مارچ :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)اقوام متحدہ کی اعلیٰ عدالت (عالمی عدالت انصاف) نے روس کو یوکرین کے خلاف فوجی چڑھائی ختم کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ماسکو کی جانب سے فوجی طاقت کے استعمال سے شدید تشویش کا شکار ہے۔ یوکرینی صدرولودی میر زیلنسکی نے اس فیصلے کو’’مکمل فتح‘‘ قرار دیا ہے۔
دی ہیگ میں قائم عالمی عدالت انصاف کے ججوں نے کہا ہے کہ روسی فیڈریشن کو اس کیس کا حتمی فیصلہ آنے تک یوکرین کے علاقے میں 24 فروری 2022 کو شروع کی گئی فوجی کارروائیوں کو معطل کرنا ہوگا۔ججوں نے مزید کہا کہ روس کو یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ اس کے زیرقبضہ یا اس کی حمایت یافتہ دیگر فورسز بشمول دونیسک اور لوہانسک کی فوجیں کیف کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کو بند کردیں۔
زیلنسکی نے ٹویٹراس فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یوکرین نے عالمی عدالت انصاف میں روس کیخلاف اپنے مقدمہ میں مکمل کامیابی حاصل کی ہے۔ آئی سی جے نے روس کو فوری طور پر حملہ روکنے کا حکم دیا ہے۔ یہ بین الاقوامی قوانین کے تحت ایک پابند حکم ہے۔روس کو فی الفوراس کی تعمیل کرنی چاہیے۔
اس حکم کو نظراندازکرنے سے روس (دنیا میں) مزید تنہا ہوکررہ جائے گا۔آئی سی جے نے اپنے بیان میں کہا کہ روس کے یوکرین میں خصوصی فوجی آپریشن کے نتیجے میں لاتعداد شہری ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔اس سے عمارتوں اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی سمیت اہم مادی نقصان ہوا ہے۔
حملے جاری ہیں اور شہری آبادی کے لیے جینے کے مشکل حالات پیدا ہورہے ہیں۔اس میں مزید کہا گیا ہے کہ بہت سے افراد کوبنیادی غذائی اجزا، پینے کے قابل پانی، بجلی، ضروری ادویہ یا سردی سے بچنے کے لیے مصنوعی تپش تک رسائی حاصل نہیں ہے۔ بہت بڑی تعداد میں لوگ انتہائی غیرمحفوظ حالات میں جنگ سے سب سے زیادہ متاثرہ شہروں سے فرار ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔
پیرس کے ایفل ٹاور کی اونچائی میں مزید اضافہ
پیرس ،17مارچ :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)پیرس کی یادگار کے اوپر ایک نیا ڈیجیٹل ریڈیو انٹینا لگانے کے بعد ایفل ٹاور کی اونچائی میں 6 میٹر مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ایفل ٹاور کی اونچائی اب ایک ہزار 82 فٹ ہو گئی ہے۔ ایفل ٹاور کو سال 1899 میں فرانسیسی انقلاب کے ایک سو سال مکمل ہونے کی خوشی میں تعمیر کیا گیا تھا۔
اس تعمیر کے بعد ایفل ٹاور واشنگٹن مونومنٹ کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کا سب سے اونچا انسان ساختہ ڈھانچہ بن گیا ہے۔ یاد رہے ایفل ٹاور دنیا میں سب سے زیادہ دیکھے جانے والے سیاحتی مقامات میں سے ایک ہے۔
ٹاور کی تعمیر میں لوہے اور اسٹیل کے 18 ہزار ٹکڑوں کا استعمال کیا گیا ہے، جو مجموعی طور پر 25 لاکھ کیلوں کے ذریعے ایک دوسرے کے ساتھ جْڑے ہوئے ہیں۔بنیادوں میں 40فٹ تک پتھر اور لوہا بھرا گیا اور 12ہزار لوہے کے شہتیر کام میں لائے گئے۔
یہ مینار چار شہتیروں پر کھڑا ہے، جن میں سے ہر ایک 279مربع فٹ رقبہ گھیرے ہوئے ہے۔ اس میں استعمال ہونے والے لوہے اور اسٹیل کا مجموعی وزن 7,300ٹن ہے۔
یوکرین کے تھیٹر میں قائم پناہ گزینوں کے کیمپ پر حملہ
کیف؍لندن،17مارچ :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) یوکرین کے حکام نے کہا ہے کہ جمعرات کو روس نے کیف کے ایک تھیٹر اور کھانا لینے کے لیے قطار میں کھڑے عام شہریوں کو نشانہ بنایا ہے جس پر عالمی برادری کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے اور امریکی صدر بائیڈن نے روسی صدر کو جنگی مجرم قرار دیا ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے امریکی اور یوکرینی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ تھیٹر میں عام شہریوں نے پناہ لی ہوئی تھی۔
امریکی صدر جو بائیڈن نے حملے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا یہ ’ناقابل معافی‘ ہے کہ کریملن امن مذاکرات کے دوران جنگ جاری رکھے ہوئے ہے۔یوکرین کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ روسی افواج نے ماریوپول کے تھیٹر پر ایک بڑا بم گرایا، جس سے متعدد افراد ہلاک ہو گئے جبکہ کئی زخمی بھی ہوئے ہیں۔
ہیومن رائٹس واچ کے مطابق تھیٹر میں کم از کم 500 افراد موجود تھے۔ہیومن رائٹس گروپ کے عہدیدار بلکیس ویلے کا کہنا ہے کہ ایک ایسے شہر میں جہاں بجلی، پانی، ٹیلی فون وغیرہ جیسی سہولتیں پہلے سے کٹ چکی ہیں اور لوگ پہلے سے ہی محصور ہیں، وہاں ایسے مقام کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا تشویشناک ہے۔
دوسری جانب ماسکو نے عام شہریوں کو نشانہ بنانے کی تردید کی ہے، روسی نیوز ایجنسی ریا کے مطابق روس کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ افواج نے عمارت پر حملہ نہیں کیا۔کیف میں امریکہ کے سفارت خانے کی جانب سے کہا گیا ہے کہ روسی فوجیوں نے کیئف کے علاقے چرنیف میں کھانا حاصل کرنے کے لیے لائن میں کھڑے 10 افراد کو نشانہ بنایا تاہم روس کی جانب سے اس سے بھی انکار کیا گیا ہے۔
روس ایک بڑے حملے کے باوجود ابھی تک یوکرین کے کسی بڑے شہر پر قبضہ نہیں کر سکا ہے۔ حملے کی وجہ سے 30 لاکھ یوکرینی شہریوں کو نقل مکانی کرنا پڑی ہے جبکہ ہزاروں لوگ ہلاک بھی ہوئے ہیں۔اقوام متحدہ کی اعلیٰ عدالت کی جانب سے بدھ کو کہا گیا تھا کہ روس فوری طور پر فوجی آپریشن روک دے۔ فوج کا استعمال تشویشناک ہے۔
دوسری جانب سے روس اور یوکرین کے درمیان بات چیت میں بھی پیش رفت ہوئی ہے۔ کریملن کا کہنا ہے کہ یوکرین کے آسٹریا یا سویڈن کی طرح کے اسٹیٹس کے حوالے سے بات چیت جاری ہے، جو یورپی یونین کے رکن ہیں تاہم نیٹو کے فوجی اتحاد سے باہر ہیں۔
روس کی وزارت خارجہ کے مطابق یوکرین کے نیوٹرل اسٹیٹس کے حوالے سے سنجیدگی سے بات ہو رہی ہے اور یقینی طور پر یہ سکیورٹی ضمانت کے ساتھ ہی ہو گا۔