سرورقسوانح حیات فلمی و اسپوریٹسقومی خبریں

ویسٹ انڈیز ٹیم کا بہترین آل راؤنڈر، نسلی رنگت کے تنازعہ کا شکار شیخ فواد بخش✍️سلام بن عثمان،کرلاممبئی 70

فواد بخش 31 جنوری 1954 کو ویسٹ انڈیز کے جارج ٹاون، گیانا میں پیدا ہوئے۔اس وقت ویسٹ انڈیز ٹیم کرکٹ کے میدان میں بین الاقوامی سطح پر بہت بڑی مانی جاتی تھی، اس وقت ویسٹ انڈیز کی ٹیم میں لاری گومس کے بعد کوئی خوبصورت کھلاڑی تھا تو وہ فواد بخش۔ فرسٹ کلاس کرکٹ میں بہترین آل راؤنڈر سے اپنی شناخت بناتے ہوئے نیشنل ٹیم میں شامل ہونے کا موقع ملا۔ دائیں ہاتھ کے بہترین بلے باز، ساتھ ہی دائیں ہاتھ کے درمیانی رفتار والے گیند باز فواد بخش ویسٹ انڈیز ٹیم میں شامل ہوتے ہی دھوم مچادی۔ ویسے تو فواد بخش نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں 1971 سے1983 تک ویسٹ انڈیز کے میدان پر کئی میچ کھیلتے ہوئے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

جس کی بدولت ویسٹ انڈیز کی جانب سے فواد بخش کو اپنا پہلا ٹیسٹ میچ 15 اپریل 1978 میں آسٹریلیا کے خلاف کھیلنے کا موقع ملا۔ اور آخری ٹیسٹ میچ 30 جنوری 1982 میں آسٹریلیا کے خلاف ہی کھیلا۔ یک روزہ بین الاقوامی میچ 22 فروری 1978 میں بمقابلہ آسٹریلیا اور آخری یک روزہ میں 25 جون 1983 بمقابلہ ہندوستان۔

دائیں ہاتھ کے بہترین بلے باز فواد بخش 24 سال کی عمر میں ویسٹ انڈیز کے لیے ٹیسٹ میچ کھکینے بین الاقوامی سطح پر کرکٹ کے میدان میں اترے۔ 78-1977 کے وقت آسٹریلیا کے خلاف سیریز سے اپنا پہلا ٹیسٹ میچ کھیلا۔ فواد بخش کی بہترین سیریز آسٹریلیا کے فوراً بعد 79-1978 کے وقت ہندوستان کے خلاف چھ ٹیسٹ میچوں کی سیریز رہی۔ دوسرے ٹیسٹ میچ میں 96 رنز کی بہترین اننگ کھیلی۔ سیریز کے آخری ٹیسٹ میچ میں 250 رنز کی بہترین بلے بازی کا مظاہرہ ہندوستان کی سرزمین پر کیا، ساتھ ہی بین الاقوامی سطح پر اپنی شناخت بنائی۔ فواد بخش مجموعی طور پر صرف 19 ٹیسٹ میچ ہی کھیل سکے۔ جس میں ان کی بلے بازی کا اوسط 06۔26 رہا۔ انھوں نے 1977 سے 1983 تک 29 یک روزہ بین الاقوامی میچ بھی کھیلے جس میں ان کی بہترین کارکردگی رہی ناٹ آؤٹ 80 رنز۔ اس دوران فواد بخش دو مرتبہ مین آف دی میچ کے ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔

1984 میں ویسٹ انڈیز میں رنگوں کو لے کر بہت بڑا نسلی تنازعہ چلا جس کے چلتے شیخ فواد بخش ویسٹ انڈیز سے جنوبی افریقہ چلے گئے، مگر رنگ برنگی نسل پر ریاست کے بین الاقوامی کھیلوں کے بائیکاٹ کی مخالفت کی وجہ سے بعد میں فواد بخش امریکہ منتقل ہوگئے۔ امریکہ میں فواد بخش نے پیشہ ورانہ سطح پر کھیلنا شروع کیا۔ 1997 اور 2001 کے آئی سی سی ٹرافی ٹورنامنٹس میں امریکہ کی جانب سے کپتانی بھی کی۔

اس کے بعد سال 2002 میں امریکہ کرکٹ چیمپئن شپ ٹورنامنٹس میں امریکہ کی کرکٹ ٹیم نے پہلی مرتبہ بین الاقوامی سطح پر چیمپئن شپ میں فتح حاصل کی۔ جس میں فواد بخش نے بہترین بلے بازی کرتے ہوئے 83 رنز بنائے اور مین آف دی میچ کے ایوارڈ سے نوازے گئے۔ سال 2020 میں جنوبی افریقہ میں 11 ممالک کے خلاف ویسٹ انڈیز کے 50 اوورز ورلڈکپ اسکواڈ میں شمولیت اختیار کی۔ فواد بخش نے امریکی ٹیم کے لیے کرکٹ کوچنگ بھی کی۔

نسلی امتیاز تنازعہ کی وجہ سے فواد بخش کو ویسٹ انڈیز ٹیم سے باہر رکھا گیا۔ جس کی وجہ سے فواد بخش کا کرکٹ سفر رک گیا۔ مگر فواد بخش کو ویسٹ انڈیز کے ساتھ اپنے کرکٹ کے سفر میں بہت کم ٹیسٹ میچ کھیلنے کا موقع ملا۔ اس کے باوجود ٹیسٹ میچ اور یک روزہ میچوں میں اپنی بہترین کارکردگی کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر اپنی الگ شناخت بنائی۔

فواد بخش نے 19 ٹیسٹ میچوں میں 782 رنز بنائے جس میں ایک سنچری اور تین نصف سنچریاں شامل ہیں۔ ٹیسٹ میچ میں بہترین کارکردگی بمقابلہ ہندوستان 250 رنز کی زبردست اننگ رہی۔ ساتھ ہی 17 کیچیز۔ اسی طرح 29 یک روزہ میچوں میں 612 رنز جس میں تین نصف سنچریوں کے ساتھ برق رفتاری سے 80 رنز ناٹ آؤٹ اور دس قیمتی کیچیز۔

111 فرسٹ کلاس میچوں میں 5944 رنز کے ساتھ آٹھ سنچریاں اور 37 نصف سنچریوں کے ساتھ بہترین اسکور 250 رنز۔ گیند بازی میں آٹھ وکٹیں۔ بہترین گیند بازی میں 18 رنز پر دو وکٹ اور 88 بیش قیمتی کیچیز۔ 66 لسٹ اے محدود اوورز میچوں میں 1871 رنز ایک سنچری اور بارہ نصف سنچریاں۔ بہترین اسکور 132 رنز۔ گیند بازی میں چھ وکٹوں کو نشانہ بنایا۔ بہترین گیند بازی رہی 28 رنز دے کر تین وکٹیں اور 18 بہترین کیچیز۔

سلام بن عثمان

متعلقہ خبریں

Back to top button