سرورققومی خبریں

دیر رات مرحوم مختار انصاری کی نعش پہنچے گی، آج ہوگی تدفین

جسدخاکی دیر رات غازی پور پہنچے گی

لکھنؤ،29مارچ :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) مئو کے سابق رکن اسمبلی مختارانصاری کی نعش کا باندہ میڈیکل کالج میں پوسٹ مارٹم کرایا گیا ہے۔ پوسٹ مارٹم کے بعد جسد خاکی کو غازی پورلے جایا جا رہا ہے۔ جسدخاکی دیر رات غازی پور پہنچے گی۔ جہاں کل صبح یعنی 30 مارچ کو تدفین عمل میں آئے گی۔ وہیں مختارانصاری کی فیملی نے کہا ہے کہ وہ پوسٹ مارٹم سے مطمئن نہیں ہیں اور دہلی واقع ایمس میں پوسٹ مارٹم کرایا جائے۔ غازی پورکے ایس پی اوم ویرسنگھ کا بیان بھی سامنے آیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کہا جا رہا ہے کہ جسد خاکی غازی پور پہنچنے میں رات ہوسکتی ہے۔

ایسے میں کل صبح ہی ان کو سپرد خاک کیا جائے گا۔بتایا جارہا ہے کہ مختارانصاری کی لاش کو کالی باغ قبرستان میں سپرد خاک کیا جائے گا۔ قبرستان مختارانصاری کے غازی پوررہائش گاہ سے نصف کلو میٹر کی دوری پرواقع ہے۔ ذرائع کے مطابق، اسی قبرستان میں مختارانصاری کے والدین کی بھی قبرہے۔ جسد خاکی کو غازی پورلانے کے دوران ایک طرف ان کے اہل خانہ ساتھ ہیں تو دوسری طرف سیکورٹی کے بھی پختہ انتظامات کئے گئے ہیں۔اس دوران مختار انصاری کے اہل خانہ کی جانب سے کئی سنگین الزامات لگائے گئے ہیں۔

جہاں ان کے اہل خانہ نے ان پر سلو پوائزن دینے کا الزام لگایا ہے وہیں ان کے بھائی اور غازی پور کے ایس پی امیدوار افضل انصاری نے بھی اس پرردعمل ظاہرکیا ہے۔ افضل انصاری نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر بھائی مختار انصاری کی تصویر شیئر کی۔ اس دوران وہ جذباتی نظر آئے اور لکھا کہ ان کی موت‘شہادت’ہے۔ افضال انصاری نے کہا،‘قائد،، ہمت، ہمدردی، محبت اور شہادت..’ہیش ٹیگ مختارانصاری۔مختارانصاری کے بڑے بھائی صبغت اللہ انصاری نے بھی مختارانصاری کی موت کو سازش قراردیتے ہوئے کہا کہ ہماری طرف سے بار بارکہا گیا کہ انہیں سلو پوائزن دیا جا رہا ہے، لیکن اسے نظر انداز کردیا گیا۔

ہمیں عدالتوں پر اعتماد تھا، ہے اور رہے گا، لیکن اب لگتا ہے کہ ہمارے ملک میں انصاف پر سے لوگوں کا اعتماد ختم ہو جائے گا۔ اگر کسی عدالت نے اس واقعہ کا نوٹس نہ لیا۔ صرف مختارانصاری ہی نہیں، ایسے کئی واقعات ہیں۔ صبغت اللہ انصاری نے کہا کہ یہ کھلی سازش ہے۔ اسے سلو پوائزن دیا جا رہا تھا… اقتدارمیں موجود تمام لوگوں کی سازش ہے۔ سب جانتے ہیں کہ موت کیسے واقع ہوئی۔ یہ ہمارے لئے بہت بڑا نقصان ہے۔ انہوں نے پوسٹ مارٹم پربھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ جہاں بھی پوسٹ مارٹم کیا جائے گا، وہی کاغذ پرلکھا جائے گا۔

مختارانصاری کے چھوٹے بیٹے عمر انصاری نے اس معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ‘میرے والد کوکھانے میں زہرملا دیا گیا اوران کا مکمل علاج نہیں کیا گیا۔ یہ موت نہیں یہ قتل ہے۔ ہم قانونی طریقوں سے تحقیقات کرنے کے لئے جو بھی کوششیں کریں گے وہ کریں گے۔ 3:30 پر جب انہوں نے مجھ سے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ وہ بے ہوش ہوگئے ہیں۔ وہ اپنی مٹھی بند کرنے کے قابل نہیں تھے کیونکہ وہ بہت کمزور تھے۔ جب میں نے آنے کے لئے کہا تو انہوں نے کہا مت آنا۔ ان کو احساس تھا، اس لئے کہا کہ میرا جسم یہیں رہے گا، میری روح جائے گی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button