درندہ صفت شخص نے لڑکی کو 14 سال تک اپنے گھر میں جنسی غلام بنا کر رکھا
Ekaterina خاتون، جو اب 33 سال کی ہے، کا دعویٰ ہے کہ اسے 2009 سے قید میں رکھا گیا تھا اور اس نے 1000 سے زائد مرتبہ عصمت دری کی
ماسکو :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) نیو یارک پوسٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق، روس میں ایک شخص کو مغربی روس کے چیلیابنسک میں ایک عورت کو 14 سال تک اپنے گھر میں جنسی غلام کے طور پر رکھنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے ۔ خاتون، جو اب 33 سال کی ہے، کا دعویٰ ہے کہ اسے 2009 سے قید میں رکھا گیا تھا اور اس نے 1000 سے زائد مرتبہ عصمت دری کی تھی۔ 51 سالہ ولادیمیر چیسکیڈوف نامی اس شخص پر 2011 میں اسی گھر میں ایک اور خاتون کو قتل کرنے کا بھی الزام ہے۔ اسے اس وقت گرفتار کیا گیا جب عورت، جس کی شناخت اس کے پہلے نام ایکاترینا Ekaterina سے ہوئی، فرار ہو کر پولیس کے پاس گئی۔مقامی میڈیا کے مطابق چیسکیڈوف Vladimir Cheskidov کی والدہ نے خاتون کو فرار ہونے میں مدد کی۔ایکاترینا نے پولیس کو بتایا کہ اسے چاقو پوائنٹ پر گھر کے کام سے لیکر جنسی خواہش پورا کرنے کے لیے مجبور کیا گیا۔چیسکیڈوف، جو بے روزگار ہے، مبینہ طور پر ایکاترینا کے منہ کو ڈکٹ ٹیپ سےچپکا دیتا تھا تاکہ وہ مدد کے لیےپکار نہ سکے – جب بھی وہ گھر سے نکلتا۔اسے ایک زنجیر سے باندھ دیتا تاکہ وہ بھاگنے کی کوشش نہ کر سکے –
آؤٹ لیٹ نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ اس نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اسے بار بار تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور معمولی باتوں پر بے دردی سے مارا گیا ۔پولیس نے سمولینو گاؤں میں چیسکیڈوف کے ایک منزلہ مکان کی تلاشی لی اور وہاں سے جنسی کھلونے، اور فحش مواد پر مشتمل سی ڈیز کا ذخیرہ ملا۔روس کی تحقیقاتی کمیٹی کی مقامی شاخ نے Vladimir Cheskidov چیسکیڈوف کے گھر کے تہہ خانے سے انسانی باقیات کی برآمدگی کی تصدیق کی ہے۔روس ٹوڈے نے تفتیشی افسران کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ چیسکیڈوف نے 2009 میں اس وقت کی 19 سالہ ایکاترینا سے ملاقات کی اور اسے اس گھر میں "شراب پینے” کی دعوت دی جہاں وہ رہتا تھا اور تب سے اسے وہیں رکھااور 14 سال تک اس کی عصمت دری کی۔
پہلے تو اس نے اس شیطان کے چنگل سے بچنے کی کوشش کی لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ ایک بار پھر اس نے فرار ہونے کی کوشش کی جو ناکام رہی۔ اسے ایک کمرے میں قید کر دیاگیا صرف کام کے وقت باہر لایا جاتا پھر اسی کمرے میں بندرکھا جاتا۔ وہ دماغی بیماری میں بھی مبتلا ہے اور اس کی حالت خراب ہونے کے بعد اسے مقامی ہسپتال لے جایا گیا جس سے ایکاترینا کو گھر سے فرار ہونے کا موقع ملا۔اس نے پولیس والوں کو بتایا کہ چیسکیڈوف گھر میں ایک اور خاتون قیدی کو لے کر آیا تھا، جسے اس نے 2011 میں جھگڑے کے بعد قتل کر دیا تھا۔ ایکاترینا نے کہا کہ اس نے خاتون کو کئی بار وار کیا اور اسے ختم کر دیا۔اسے قتل، عصمت دری اور اغوا کے الزامات کا سامنا ہے۔ذہنی حالت ٹھیک نہ ہونے کی وجہ سے پولیس کی نگرانی میں ایک ذہنی ادارے میں اس کا علاج کیا جا رہا ہے۔



