سرورقصحت اور سائنس کی دنیا

بے شمار بیماریوں کا سبب,آپ کا کھانا اور مکھی

مکھی کھانے پر بیٹھ جائے تو عام طور پر لوگ اسے ہاتھ سے اڑا کر کھانا کھالیتے ہیں

مکھی کھانے پر بیٹھ جائے تو عام طور پر لوگ اسے ہاتھ سے اڑا کر کھانا کھالیتے ہیں اور کچھ نفیس طبیعت کے لوگ وہیں کھانا چھوڑ دیتے ہیں اور ذہین اور سمجھدار لوگ جہاں مکھی بیٹھی ہو وہاں سے کھانا ضائع کر کے باقی کھانا کھا لیتے ہیں، لیکن مکھی اگر ایک دفعہ آگئی ہے تو پھر وہ آپ کو آرام سے کھانا نہیں کھانے دے گی۔ مکھی اگر آپ کے کھانے پر بیٹھ جاتی ہے تو یقینا وہ کھانے کو خراب کرتی ہے اور اس مضمون میں ہم یہی جانیں گے کہ مکھی کھانے کو کیسے خراب کرسکتی ہے۔

ایک بات تو یقینی ہے کہ مکھی کھانے پر جہاں بیٹھے گی وہاں سے کھانا آلودہ کر دے گی، اگرچہ مکھی کا سائز چھوٹا ہے مگر ہمارے پیٹ کیلئے وہ اپنے سائز سے کہیں بڑا مسئلہ کھڑا کر سکتی ہے اور یہ مسئلہ خطرناک حد تک بھی بڑا ہو سکتا ہے۔

یہ بات سمجھنے کی ہمیں اشد ضرورت ہے کہ مکھی اپنے نلی نما منہ سے کھانا کھانے سے پہلے کھانے کو لیکوڈ فارم میں تبدیل کرتی ہے اور اس کام کے لئے وہ اپنا تھوک کھانے پر پھینکتی ہے اور پھر کھانا کھاتی ہے۔ اگر مکھی نے اپنا تھوک کھانے پر پھینکا ہے تو اس سے آپ کا کھانا آلودہ ہو جائے گا اور آپ نہیں جانتے کہ یہ آلودگی کتنی زہریلی ہے کیونکہ آپ کو نہیں پتہ کہ مکھی نے آپ کے کھانے پر بیٹھنے سے پہلے کیا کھایا ہے۔مکھی نے کچھ بھی کھایا ہوسکتا ہے سڑا ہوا پھل، سڑا ہوا گوشت، گندگی حتی کے فضلہ بھی اور یہ تمام چیزیں وہ اپنے تھوک کے ساتھ آپ کے کھانے پر لگا سکتی ہے۔

بازار میں ریڑھیوں پر بکنے والا ایسا کھانا جسے ڈھکا نہیں جاتا وہ مکھیوں کے لئے انڈے دینے کے لئے محبوب ترین جگہ ہے جہاں وہ انڈے دیتی ہیں اور یہ انڈے کچھ عرصے کے بعد نئی چھوٹی چھوٹی مکھیاں بھی پیدا کرتے ہیں اور اگر ان مکھیوں کے انڈوں والا کھانا ہم کھا لیں تو کھانے کے ساتھ خطرناک بیکٹریا ہمارے نظام انہضام میں داخل ہو سکتا ہے اور عین ممکن ہے کہ وہاں تباہی مچا دے اس لئے ایسا کھانا جسے ڈھکا نہ گیا ہو اور جس پر مکھیاں بیٹھی ہوں مت کھائیں اور ہمیشہ بچا ہوا کھانا ڈھک کر رکھیں تاکہ مکھیاں اس کھانے سے دور رہ سکیں۔

ایک مکھی کی اوسط عمر تقریباً 28 دن ہوتی ہے اور مادہ مکھی اپنی زندگی میں لگ بھگ 500 کے قریب انڈے دے سکتی ہے اور وہ یہ انڈے 3 سے 4 دن میں 75 سے 150 انڈے فی یوم دیتی ہے۔مکھی کی ٹانگیں اور پر کھانے پر بیکٹریا کی بھرمار کر دیتے ہیںہم جانتے ہیں کہ مکھی کے اندر جراثیم بھرے ہوئے ہوتے ہیں۔ مگر جراثیم کی اس سے بھی بڑی مقدار مکھی کے جسم کے ساتھ چمٹی ہوئی ہوتی ہے خاص طور پر مکھی کی ٹانگوں اور پروں پراور مکھی اپنے جسم کے ساتھ جہاں بھی بیٹھتی ہے وہاں جراثیموں کی بستیاں پیدا ہو جاتی ہیں اور یہ جراثیم کبھی کھبار کھائے جانے سے بہت بڑی مصیبت بھی پیدا ہو سکتی ہے۔

مکھی انسانوں میں 60 سے زیادہ بیماریاں منتقل کر سکتی ہے کیونکہ وہ سارا دن گندی جگہوں پر بیٹھتی ہے اور ان جگہوں کے جراثیموں کو بھی اپنے ساتھ چمٹا لیتی ہے۔مکھی کی پھیلائی ہوئی بیماریوں میں عام طور پر پیچس، ڈائریا، ہیضہ اور جزام جیسی بیماریاں شامل ہیں اور مکھی صرف انسانوں کو ان بیماریوں سے پریشان نہیں کرتی بلکے مکھی کی وجہ سے کئی جانور بھی ان بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں خاص طور پر مرغیاں وغیرہ۔

اپنے کھانے کو مکھیوں کی پہنچ سے دور رکھیں اور ہمیشہ کوشش کریں کے کھانا ڈھک کر رکھیں اور جب بھی کھانا کھائیں صاف ستھری جگہ پر بیٹھ کر کھائیں جہاں مکھیاں نہ ہوں اور اپنے گھر میں مکھیوں کو پروان مت چڑھنے دیں، آپ اس کام کے لئے گھر کی اچھی طرح صفائی رکھیں اور گھر کے فرش کو فنائل وغیرہ سے وقتاً فوقتاً صاف کریں تاکہ جراثیم اور مکھیاں پیدا نہ ہو سکیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button