مرکزنے تبدیلی مذہب پر سپریم کورٹ میں داخل کیا ا پنا جواب
مرکز نے کہا ہے کہ مذہب کی تبلیغ کرنا بنیادی حق ہے، لیکن کسی کا مذہب تبدیل کرنا حق نہیں ہے۔
نئی دہلی ،28نومبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)مرکزی حکومت نے دھوکہ دہی، دباؤ یا لالچ کی وجہ سے مذہب کی تبدیلی کو ایک سنگین مسئلہ قرار دیا ہے۔ سپریم کورٹ میں داخل حلف نامہ میں حکومت نے کہا ہے کہ 9 ریاستوں نے اسے روکنے کے لیے قانون بنایا ہے۔ مرکزی حکومت بھی ضروری اقدامات کرے گی۔ سپریم کورٹ کے ایک پرانے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے مرکز نے کہا ہے کہ مذہب کی تبلیغ کرنا بنیادی حق ہے، لیکن کسی کا مذہب تبدیل کرنا حق نہیں ہے۔سپریم کورٹ کے جسٹس ایم آر شاہ کی سربراہی میں دو ججوں کی بنچ غیر قانونی تبدیلیوں کو روکنے کے لیے سخت قانون بنانے کے مطالبے کی سماعت کر رہی ہے۔ پچھلی سماعت میں عدالت نے اس قسم کی مذہبی تبدیلی کو ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا تھا۔ عدالت نے مرکزی حکومت سے عرضی پر جواب طلب کیا تھا۔
وکیل اور بی جے پی لیڈر اشونی اپادھیائے کی طرف سے دائر کی گئی اس عرضی میں تمل ناڈو کے لاوانیا کیس کا حوالہ دیتے ہوئے سپریم کورٹ سے مداخلت کی درخواست کی گئی ہے۔ تھن جاور کی ایک 17 سالہ طالبہ لاونیا نے اس سال 19 جنوری کوجراثیم کش دوا کھا کر خودکشی کر لی تھی۔ اس سے پہلے اس نے ایک ویڈیو بنائی تھی۔اس ویڈیو میں لاونیا نے کہا کہ ان کا اسکول سیکرڈ ہارٹ ہائر سیکنڈری ان پر عیسائی بننے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے۔ اس کے لیے مسلسل ہراسانی سے پریشان ہو کر وہ اپنی جان دے رہی ہے۔ مدراس ہائی کورٹ نے واقعہ کی جانچ سی بی آئی کو سونپ دی تھی۔ سپریم کورٹ نے بھی ہائی کورٹ کے حکم کو برقرار رکھا۔
کالجیم سسٹم:ججوں کی تقرری پر وزیر قانون کے بیان سے سپریم کورٹ ناخوش
نئی دہلی ،28نومبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ججوں کی تقرری کے معاملے پر مرکزی حکومت اور سپریم کورٹ ایک بار پھر آمنے سامنے نظر آ رہے ہیں۔ سپریم کورٹ نے کالجیم کی طرف سے بھیجے گئے ناموں پر حکومت کی جانب سے فیصلہ نہ لینے پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ اگر حکومت فیصلہ نہیں کرتی ہے تو اسے عدالتی حکم دینا پڑ سکتا ہے۔ اس سے قبل مرکزی وزیر قانون کرن رجیجو نے کہا تھاکہ کالجیم سسٹم یہ نہیں کہہ سکتا کہ حکومت اپنی طرف سے بھیجے گئے ہر نام کو فوری طور پر منظور کر لے، اگر ایسا ہے، تو انہیں خود ہی تقرری کرنی چاہیے۔جسٹس سنجے کشن کول کی سربراہی والی بنچ نے ججوں کی تقرری کے معاملے کی سماعت کرتے ہوئے حکومت کے پاس طویل عرصے سے زیر التوا فائلوں پر شدید عدم اطمینان کا اظہار کیا۔
جسٹس کول نے کہا کہ کچھ نام ڈیڑھ سال سے زائد عرصے سے حکومت کے پاس ہیں، نظام اس طرح کیسے چل سکتا ہے؟ اچھے وکیلوں کا جج بننے کے لیے راضی ہونا آسان نہیں ہے، لیکن حکومت نے تقرری اس لیے کی ہے۔ کیا ایسا ہے کہ تاخیر سے پریشان لوگ بعد میں اپنے نام واپس لے لیتے ہیں؟عدالت نے یہ بھی کہا کہ حکومت کی جانب سے بغیر کوئی وجہ بتائے ناموں کو روکنا غلط ہے۔ حکومت اپنی مرضی کے مطابق نام چن رہی ہے۔ جس کی وجہ سے سنیارٹی کا آرڈر بھی گڑبڑ ہو رہا ہے۔سماعت کے دوران اٹارنی جنرل آر وینکٹرامانی نے کہا کہ وہ حکومت سے بات کرنے کے بعد زیر التوا فائلوں کا جواب دیں گے۔ جس پر عدالت نے کیس کی سماعت 8 دسمبر تک ملتوی کر دی۔ سینئر وکیل وکاس سنگھ نے عدالت سے توہین کا نوٹس جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔ اٹارنی جنرل نے اس کی مخالفت کی ہے۔



