قومی خبریں

مسلم مجلس مشاورت کے دستور میں ہوئی ترمیم

نئی دہلی،7اکتوبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ہندوستانی مسلمانوں کی وفاقی تنظیم آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے ارکان نے مشاورت کے دستورکے کچھ حصوں میں ترمیمات منظور کی ہیں۔ ان ترمیمات کا عمل دہلی میں منعقد 22مئی 2022کی مجلس عام کے متفقہ فیصلے کے بعد شروع ہوا تھا اور دستور کی نظر ثانی کے لیے مشاورت کی تنظیمی رکن آل انڈیا مومن کانفرنس کے صدر جناب فیروز احمد انصاری صاحب کو مقرر کیا گیا تھا۔اس کمیٹی کے دیگر ارکان میں مولانا عبد الحمید نعمانی اور سید تحسین احمد شامل تھے۔شرکاء اجلاس عام نے اس بات پر زور دیا تھا کہ مشاورت کے1964 کے دستور کے رہنما اصولوں کو سامنے رکھ کر ترمیمات کی سفارشات کی جائیں، کیونکہ مشاورت کے2006 میں نافذ کیے گئے دستور کے نفاذ کے بعد مشاورت کی وفاقی حیثیت بری طرح متاثر ہوئی اور اس وفاقی ادارے میں انفرادی ارکان کی بہتات ہو گئی ہے۔

کمیٹی کے کنوینر فیروزاحمد نے22مئی 2022 کی مجلس عام کی میٹنگ کی تاثرات کو سامنے رکھنے کے ساتھ ساتھ سن 2010سے 2016کے درمیان دفتر مشاورت کو ترمیمات کے تعلق سے ملنے والے سفارشات اور تجویزات کو سامنے رکھ کر صدر مشاورت نوید حامد کو مجوزہ ترمیمات کا مسودہ 17جولائی2022کو پیش کیا تھا۔ اس مسودہ پر مشاورت کے اہم اراکین جن میں خصوصی طور پر جماعت اسلامی ہند کے ڈاکٹر قاسم رسول الیاس ،اگنو کے سابق پروائس چانسلر پروفیسر بصیر احمد خان ،انڈین نیشنل لیگ کے صدر محمد سلیمان ،مشاورت کے جنرل سکریٹری شیخ منظور احمد ،جمعیت اہل حدیث ہند کے ڈاکٹر شیث تیمی وغیرہم شامل تھے،کے ساتھ صدر مشاورت نے مشوروں کے بعد مجوزہ ترمیمات کے مسودہ کومشا ورت کی مجلس عاملہ کے ارکان کی رائے اور تاثرات حاصل کرنے کے لیے بھیجا تھااور ان سے حاصل ہوئے مشوروں کو مسودہ میں شامل کیا گیا۔

مجلس عاملہ کے ارکان کے ذریعہ حاصل ہوئی اکثریتی رائے کی روشنی میں دستوری ترمیمات کے اس مجوزہ مسودہ کو مشاورت کے دستور کی دفعہ 28 کے تحت مشاورت کے ارکان مجلس عام کو ریفرنڈم کے لیے روانہ کر دیا گیااور مجوزہ ترمیمات کے اس ریفرنڈم میں مشاورت کے62.53فیصد ارکان نے اپنے رائے دہندگی کا استعمال کیا اور ترمیمات کی ہر شق پر مشاورت کے مفادات کو دیکھتے ہوئے ووٹنگ کی۔ریفرنڈم میں بھیجے گئے مجوزہ ترمیمات کے مسودہ کی ہر شق کو70 فیصد سے زائد ارکان مشاورت نے اپنی مثبت رائے سے پاس کیا جن میں مشاورت میں شامل12میں سے9 تنظیموں کا مثبت رائے بھی شامل ہے۔

یہاں یہ تحریر کرنا ضروری ہے کہ مشاورت میں سابقہ اداوار میں جب بھی ترمیمات ہوئی ہیں وہ ریفرنڈم کے ذریعہ ہی کرائی گئی ہیں۔ریفرنڈم کی گنتی کی نگرانی ڈاکٹر محمد شیث تیمی اور مجلس عاملہ کے رکن سید تحسین احمد نے کی۔ پاس کیے گئے مسودہ کے بعد مشاورت کی وفاقی حیثیت مزید مضبوط ہوگی کیوں کہ ترمیم شدہ دستور میں اس بات کو یقینی بنایا گیا ہے کہ مشاورت کی کسی بھی تنظیمی رکن جماعت کا مشاورت میں غلبہ نہ ہو۔ نئے دستوری ضابطوں کے حساب سے مشاورت میں شامل کسی بھی تنظیمی جماعت کے نمائندوں کے علاوہ اب انفرادی ارکان کے زمرے میں شامل کیے جانے والے ارکان مشاورت کسی بھی تنظیمی جماعت سے وابستہ نہیں ہو سکتے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button