نئی دہلی،19دسمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ہمیں جس کسی پر بھی ظلم ہوتا ہے، اس کے خلاف آوازاٹھانی چاہیے ،جو دستور کو تسلیم نہیں کرتے اور اسے تبدیل کرنا چاہتے ہیں ،کیا اس میں ایک ہی معاملہ کے لئے دو الگ الگ قانون ہوسکتے ہیں ،ہوس اقتدار کی خاطر ملک کو فرقہ وارانہ آگ میں جھونکا جارہاہے،اس پر سب کو غورکرنا چاہیے ،ان خیالات کا اظہار سابق مرکزی وزیر سلمان خورشید نے یہاں ساؤتھ ایشین مائنارٹیز لائرز ایسو سی ایشن (ساملا) کی جانب سے اقلیتوں کے حقوق کے عالمی دن موقع پر منعقدہ ایک جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے نازی جرمنی کے شاعر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہم نے اس پر عمل نہیں کیا تو کوئی بھی بچانے والا باقی نہیں رہے گا۔ اس جلسہ میں ملک کے سرکردہ وکلا اور دانشوروں نے جنوبی ایشیا کے ملکوں بالخصوص ہندوستان میں اقلیتوں کے ساتھ روا رکھے جارہے سلوک اور ظلم پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ ہوس اقتدار کے لئے ملک میں جو فرقہ وارانہ صف بندی کی جارہی ہے،وہ ملک کی یکجہتی اور سا لمیت کے لئے خطرناک ہیں۔اقلیت کو دوسرے درجہ کا شہری بنانے کے خیال کے حوالے سے کانگریس کے سینئر رہنما اور سابق مرکزی وزیر سلمان خورشیدنے متنبہ کیا کہ جو لوگ دستور کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں، انہیں سوچنا چاہیے کہ ایک فعل کے لئے ملک میں دو الگ الگ قانون نہیں ہوسکتے۔
اس موقع پر پرشانت بھوشن نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ اقلیتیں کو نشانہ بنایا جارہا ہے اور انہیں مشکوک بنانے کی مہم میں بی جے پی کا آئی ٹی سیل اور گودی میڈیا پیش پیش ہیں، لیکن اس صورت حال سے مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔
اس کیخلاف آواز اٹھاتے رہنا چاہیے۔ انہوں نے محلہ سطح پر ہر مقام پر ہارمونی کونسل قائم کرنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ رائے عامہ اب اس نفرت انگیز ی کے حامل گروہ کے خلاف ہوتی جارہی ہے۔بھوپیندر سنگھ سوری نے بھی مشورہ دیا کہ ہمیں آپس میں میل جول کو بڑھانا چاہیے ،تاکہ ہم ایک دوسرے کواچھی طرح سے جان سکیں اورباہمی غلط فہمیاں دور کرسکیں۔
1984 کے سانحہ کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میرا تعلق بھی ایک اقلیتی فرقہ سے ہے، اس لئے میں جانتا ہوں کہ اس ملک میں اقلیتوں کے ساتھ کیا ہورہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر برہمی کا اظہار کیا کہ مساوات کی تعلیم کے باوجود مسلمانوں اور سکھوں میں ذات برادری کا چلن باقی ہے۔
دہلی اقلیتی کمیشن کے سابق چیئرمین ڈاکٹر ظفر الاسلام خان نے اقلیتی حقوق کے پر روشنی ڈالتے ہوئے سارک ملکوں میں اقلیتوں کی صورت حال کا مفصل خاکہ پیش کیا۔ ان کے بقول اس خطہ کے ہر ملک میں غالب گروپ چاہتا ہے کہ وہاں کی اقلیتیں اس کی تہذیب و ثقافت اور مذہب کو اختیار کرے۔
بھوٹان، سری لنکا، پاکستان، افغانستان، بنگلہ دیش، برما اور ہندوستان میں اقلیتوں کو مشکلات کا سامنا ہے، تاہم اس معاملہ میں پاکستان اور بنگلہ دیشی حکومتوں کا رویہ قابل اطمینان ہے۔



