نئی دہلی،یکم فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) دہلی ہائی کورٹ نے گرفتار مافیا گینگسٹر ابو سالم کو اپنی اس حبس بے جا درخواست کی حمایت میں دستاویزات داخل کرنے کا وقت دیا جس میں یہ دعوی کیا گیا تھا کہ اس کی حراست غیر قانونی تھی۔ابو سالم 1993 کے ممبئی سلسلہ وار بم دھماکوں کے کیس میں عمر قید کی سزا کاٹ رہا ہے۔
جسٹس سدھارتھ مردول اور انوپ جیرام بھمبھانی کی بنچ نے کہا کہ ابو سالم کے وکیل کو اس فیصلے کی ایک الیکٹرانک کاپی ریکارڈ پر پیش کرنی چاہئے جس پر اس لئے انحصار کیا گیا ہے تاکہ یہ ظاہر کیا جا سکے کہ اس کی ہیبیس کارپس کی درخواست قابل سماعت ہے۔
بنچ نے اس معاملے کو 14 مارچ کو مزید سماعت کے لیے درج کیا اور ابو سالم کی نمائندگی کرنے والے وکیل ایس ہری ہرن کو بھی مختصر تحریری دستاویز داخل کرنے کی اجازت دی۔عدالت میں لاپتہ یا غیر قانونی طور پر نظر بند شخص کو پیش کرنے کی ہدایت دینے کیلئے ایک ہیبیس کارپس پٹیشن دائر کی جاتی ہے۔
ہائی کورٹ ابو سالم کی اس درخواست پر سماعت کر رہی ہے جس میں ہندوستان میں اس کی حراست کو غیر قانونی قرار دینے اور معاہدے کی شرائط کے پیش نظر اسے پرتگال واپس بھیجنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔



