راشد انجینئر کی درخواست ضمانت پر عدالت نے محفوظ رکھا فیصلہ
جموں و کشمیر میں دہشت گردی کی مالی معاونت کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا
نئی دہلی ،۲۸؍اگست:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)دہلی کی پٹیالہ ہاؤس کورٹ نے بارہمولہ کے رکن اسمبلی راشد انجینئر کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ اس کیس کی سماعت بند کمرے میں کیمروں کی نگرانی میں ہوئی۔ اب عدالت 4 ستمبر کو حکم سنائے گی۔ این آئی اے نے انجینئر رشید کی درخواست ضمانت کی مخالفت کی ہے۔ انجینئر رشید کے نام سے مشہور شیخ عبدالرشید نے 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں بارہمولہ میں سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو شکست دی تھی۔انجینئر رشید کو 2017 میں جموں و کشمیر میں دہشت گردی کی مالی معاونت کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ بارہمولہ، کشمیر سے لوک سبھا کے رکن پارلیمنٹ راشد انجینئر کی ضمانت کی سماعت آج دہلی کی ایک عدالت میں ہوئی۔ اگر راشد کو ضمانت مل جاتی ہے تو کشمیر میں انتخابات کی مساوات بھی پوری طرح بدل جائے گی۔
راشد انجینئر کی قیادت والی پارٹی عوامی اتحاد پارٹی نے وادی میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ جس کے بعد ریاست میں سیاسی ہلچل تیز ہوگئی ہے۔خیال رہے کہ رشید انجینئر، جو بارہمولہ سے آزاد رکن پارلیمنٹ ہیں، 2019 سے جیل میں ہیں۔2024 کے انتخابات میں سابق وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس لیڈر عمر عبداللہ کو شکست دی۔راشد انجینئر شمالی کشمیر کی سیاست میں ایک الگ پہچان رکھتے ہیں۔گزشتہ 5 سالوں سے وہ یو اے پی اے کے تحت دہلی کی تہاڑ جیل میں بند ہیں۔
راشد عوامی اتحاد پارٹی کے بانی رکن ہیں۔ان کو سال 2019 میں این آئی اے نے راشد انجینئر کو ٹیرر فنڈنگ کیس میں گرفتار کیا تھا۔ان پر NIA نے دہشت گردی کی فنڈنگ کے ایک مبینہ کیس میں غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) 1967 ایکٹ (UAPA) کے تحت الزام لگایا تھا۔ راشد اس وقت تہاڑ جیل میں بند ہیں۔ ان کا نام کشمیری تاجر ظہور وٹالی کی تحقیقات کے دوران سامنے آیا تھا، جسے این آئی اے نے وادی میں دہشت گرد گروپوں اور علیحدگی پسندوں کی مالی معاونت کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ اب وہ جیل سے باہر آنے کا انتظار کر رہے ہیں۔



