بین الاقوامی خبریں

بھائی کے ہاتھوں بدسلوکی کا شکار خاتون کی سرپرستی عدالت نے سنبھال لی

ریاض، 8اکتوبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)مکہ معظمہ میں خاندانی امور کی خصوصی عدالت نے بھائی کی بدسلوکی کا شکار ایک 57 سالہ خاتون کی سرپرستی سنبھال لی ہے۔خاتون کے بھائی نے شرعی کفیل کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے خاتون کو شادی سے روک رکھا تھا۔ سرپرستی عدالت کو سپرد ہونے کے بعد خاتون کو اپنی مرضی کے مطابق شادی کی اجازت دی گئی ہے۔

 

خاتون کی وکیل اسما الزھرانی نے بتایا کہ ایک مقامی شخص نے ’عضل‘ کا استعمال کرتے ہوئے اپنی ہمشیرہ کو شادی سے روک رکھا تھا۔انہوں نے بتایا کہ’عضل‘ کی شرعی اصطلاح کا مفہوم یہ ہے کہ کوئی سرپرست یا ولی اپنی زیرکفالت خاتون کو شادی سے روک دے۔ ایسا کرنا اجماع امت میں حرام ہے۔مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق ’عضل‘ سعودی عرب کی عدالتوں میں دائر کیے جانے والے کیسز میں اکثر دیکھنے میں آتا ہے۔

عام تاثر یہ ہے کہ ’عضل‘ یہ ہے کہ شادی کی اجازت صرف ولی دے سکتا ہے ورنہ شادی باطل ہوجائے گی۔ تاہم اگر ولی بغیر کسی ٹھوس شرعی عذر کے اپنے زیر سرپرستی لڑکی کی شادی سے انکار کرے تو عدالت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ولی سے سرپرستی کا حق لے کر خاتون کو اس کی مرضی کے مطابق شادی کی اجازت دے سکتی ہے۔

مقامی خانگی عدالت کے مطابق اس کیس میں فیصلہ کیا ہے کہ خاتون کے بھائی کو اس کی ہمشیرہ کی سرپرستی اور ولایت کا حق نہیں رہا ہے۔ جب یہ ثابت ہو گیا کہ اس کیبھائی نے اپنی بہن کی سرپرستی کا حق ادا نہیں کیا ہے تو عدالت نے یہ حق اس سے لے کرخود استعمال کیا ہے۔سعودی عرب کے مشیر قانون ایڈووکیٹ بندر العمودی کا کہنا ہے کہ العضل ایک خطرناک سماجی اور انسانی مسئلے کا حصہ ہے۔

اس کے نتیجے میں معاشرے میں خطرناک نوعیت کے مسائل جنم لیتے ہیں۔ اگر یہ ثابت ہوجائے کہ کوئی ولی اپنے زیرسرپرست لڑکی کو بغیر کسی ٹھوس شرعی جوازکے شادی سے روکتا ہے تو یہ شرمناک ظلم تصورہوگا۔ ایسا کرنا شرعا حرام ہے۔

ایسی صورت میں ولیت کا حق اس سیلے کرعدالت کوسونپا جائے گا۔ شریعت میں نکاح کی صحت کے لیے بنیادی شرط ہے لیکن کسی خاتون کے ولی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ولی اپنی زیرسرپرست لڑکی کا محافظ، نگہبان، اس کی عزت کا محافظ ہے مگر’مرد کے قوام‘ کی غلط تعبیر کو استعمال کرتے ہوئے لوگ ’عضل‘ کو خاتون پر تشدد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ بھی خاندانی تشدد کی بدترین شکل ہے۔ اس سے خاتون کاحق سلب ہوجاتا ہے اور انسانیت کی بھی توہین ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button