ترکیہ اور شام میں زلزلے سے ہلاکتیں 16 ہزار ہو گئیں
ترکیہ اور شام میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 16 ہزار ہو گئی ہے
دبئی،9فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)ترکیہ اور شام میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 16 ہزار ہو گئی ہے جب کہ ریسکیو ٹیمیں اب بھی ملبے کے ڈھیروں میں زندگی کے آثار کی تلاش میں ہیں۔خبر رساں ادارے کے مطابق ترکیہ کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی جمعرات کو بتایا ہے کہ اب تک 12 ہزار 873 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ 60 ہزار سے زائد زخمی ہیں۔ شام میں 3162 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہوئی ہے جب کہ لگ بھگ پانچ ہزار افراد زخمی ہیں۔ترکیہ کی مقامی نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا ہے کہ زلزلے سے متاثرہ شہر انتاکیہ میں ریسکیو اہلکاروں نے ملبے کے ڈھیر سے تین روز بعد ایک لڑکی اور اس کے والد کو زندہ حالت میں نکالا۔ اسی طرح ڈی ایچ اے نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا ہے کہ دیابکر میں ریسکیو رضاکاروں نے جمعرات کی صبح ایک خاتون کو زندہ نکالا ہے۔ترکیہ کے جنوبی صوبوں میں زلزلے سے متاثرہ افراد شدید ٹھنڈ میں عارضی پناہ گاہوں میں رہ رہے ہیں۔
کئی افراد یہ شکایت کر رہے ہیں کہ ریسکیو اہلکاروں کے پاس ملبہ ہٹانے کے لیے درکار مشینری اور تجربہ نہیں ہے۔خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ سے گفتگو میں انہوں نے ریسکیو آپریشن میں تاخیر کی شکایت کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں خود ہی ملبے سے اپنے پیاروں کو نکالنا ہو گا اور ہم انہیں باہر نکال سکتے ہیں۔ترکیہ میں اب تک نو ہزار 57 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے جب کہ شام میں ہلاکتوں کی تعداد دو ہزار 950 بتائی جاتی ہے۔ ترک حکام کے مطابق ملک کے 10 صوبوں میں زلزلے سے ایک کروڑ 35 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔
تباہ کن زلزلہ کے بعد 14 ملکوں میں سونامی آ سکتا: ترکیہ کا انتباہ
استنبول،9فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)ترکی میں ’’کانڈیلی زلزلہ تحقیق ‘‘ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر ہالوک اوزنر نے خبردار کیا ہے کہ کہرمان مرعش میں آنے والا 7.4 شدت کا زلزلہ بحیرہ روم میں سونامی کا سبب بن سکتا ہے۔ امریکی نیٹ ورک سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے اوزنر نے کہا کہ ہمیں 1999 کے بعد اس خطے میں آنے والے زلزلے سے ہونے والے سب سے بڑے نقصان کا سامنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اندازہ ہے کہ زلزلہ مشرقی اناطولیہ کے علاقے میں آیا جس کی وجہ سے 180 کلومیٹر تک شگاف پڑ گیا۔
ہمیں سب سے زیادہ نقصان دہ زلزلے کا سامنا ہے جو اس خطے میں 17 اگست 1999 کے زلزلے کے بعد آیا تھا۔اوزنر نے مزید کہا کہ آفٹر شاکس مہینوں تک جاری رہنے کی توقع ہے۔ یہ مدت ایک سال تک طویل ہو سکتی ہے۔ ہمیں اس خطرے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کہ زلزلہ بحیرہ روم کے علاقے میں سونامی کا باعث بنے گا۔ ہم نے 14 ممالک کو اس سے آگاہ کر دیا ہے۔
لبنان کی سرحد پر نئے زلزلے سے دمشق کے دیہی علاقے کی عمارت تباہ
مقامی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ بدھ کی شام لبنان اور شام کی سرحد پر ایک نیا زلزلہ آیا جس کی شدت 4.3 تھی۔ مزید بتایا گیا ہے کہ زلزلہ لبنان میں آیا اور اس نے شام کی سرحد پر واقع جنوبی علاقے ہرمل اور دارالحکومت دمشق کے متاثرہ علاقوں کو متاثر کیا۔
ترک صدرایردوآن کا ایک سال میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں کی تعمیرنو کا عزم
انقرہ،9فروری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)ترک صدررجب طیب ایردوان نے تباہ کن زلزلے سے متاثرہ شہروں میں سے ایک کا بدھ کو دورہ کیا ہے اور اس موقع پرایک سال کے اندرمتاثرہ علاقوں میں تعمیرِنو کا وعدہ کیا ہے۔انھوں نے کہا ہے کہ ان کی حکومت پیرکوعلی الصباح ملک میں آنے والے یکے بعد دو شدید زلزلوں سے نمٹنے کے لیے تمام دستیاب ذرائع بروئے کار لائی ہے۔اس قدرتی آفت کے نتیجے میں اب تک ترکیہ اور شام میں ساڑھے گیارہ ہزار سے زیادہ اموات کی تصدیق ہوچکی ہے۔انھوں نے کہا کہ سخت موسمی حالات میں بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان سمیت رکاوٹوں پر قابو پا لیا گیا ہیاورمتاثرہ سردعلاقوں میں حدت کے لیے استعمال ہونے والے گیس کنستر بھیجے جارہے ہیں۔ترک صدرطیب ایردوآن نے صوبہ حاتائے میں زلزلے سے متاثرہ علاقے کا دورہ کیا ہے۔انھوں نے کہا ہمارا ہدف ایک سال کے اندر کہرمنماراس اور نو دیگر صوبوں میں گھروں کی تعمیرنو کرنا ہے۔انھوں نے متاثرین کو یہ پیش کش کی کہ اگرکوئی خیموں میں نہیں رہنا چاہتا تو ہم اسے بحیرہ روم کے ساحل پر واقع الانیا، مرسین اور انطالیہ کے ہوٹلوں میں منتقل کر سکتے ہیں۔
صدر نے اعلان کیا کہ زلزلے سے متاثرہ ہر خاندان کو 10 ہزار لیرا (531 ڈالر) کی امداد دی جائے گی۔انھوں نے کہا کہ ہمیں پہلے دن کچھ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا لیکن دوسرے دن اورآج صورت حال پر قابو پالیا گیا ہے۔ ترکیہ میں زلزلے سے ہونے والی تباہی اور معاشی نقصان کا پیمانہ ابھی تک معلوم نہیں لیکن بلومبرگ اکنامکس کا اندازہ ہے کہ زلزلے سے متعلق سرکاری اخراجات بشمول تعمیر نوکی کوششیں مجموعی ملکی پیداوارکا 5.5 فیصد بن سکتی ہیں۔
بعض ذرائع کا کہناہے کہ لاجسٹک چیلنجوں کے باوجود،صدرایردوآن اس مفروضے پر کام کررہے ہیں کہ مئی میں ترکیہ میں عام انتخابات منصوبہ کے مطابق ہوں گے۔انھوں نے منگل کے روز زلزلے سے متاثرہ صوبوں کے لیے تین ماہ کی ہنگامی حالت کا اعلان کیا تھا۔اس دوران میں میں وہ اس آفت سے نمٹنے کے لیے فوری حفاظتی اورمالی اقدامات کر سکیں گے۔ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان بدھ کو زلزلے سے متاثرہ صوبے قہرمان مرعش پہنچے جہاں انہوں نے جاری ریسکیو اور ریلیف آپریشنز کا جائزہ لیا۔اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ زلزلے کے نتیجے میں سڑکوں اور ہوائی اڈوں کو پہنچنے والے نقصان کی وجہ سے مشکلات پیش آ رہی ہیں لیکن اب صورتِ حال بہتر ہے۔
صدر ایردوان نے مزید کہا کہ ہمیں اب بھی ایندھن کے مسائل کا سامنا ہے اور امید ہے اس پر جلد قابو پالیں گے۔اس سے قبل صدر ایردوان نے ملک کے جنوبی صوبے حاطے میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے زلزلے کے بعد حکومتی اقدامات پر ہونے والی تنقید کی مذمت کی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ یہ وقت اتحاد اور یکجہتی کا ہے اور اس وقت وہ بعض افراد کی جانب سے سیاسی مفاد کی خاطر الزام تراشیوں کو برداشت نہیں کر سکتے۔
امداد میں ہر گھنٹہ کی تاخیر 50 اموات کا سبب بن رہی، شام کا انتباہ
دبئی ؍دمشق،9فروری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) شمالی شام میں امدادی ٹیموں نے ملک میں صورت حال کی سنگینی سے خبردار کردیا ہے اور کہا ہے کہ امدادی سامان کی قلت کے باعث امدادی کارروائیوں میں بھی کمی آرہی ہے۔ ٹیموں نے بتایا کہ امداد ی سامان کے بروقت نہ پہنچنے سے جانی نقصان بڑھنے کا خدشہ ہے۔ شام میں امدادی کارروائیوں میں ایک گھنٹہ کی تاخیر 50 اموات کا سبب بنا رہا ہے۔ ملک کے شمال مغرب میں حزب اختلاف کی حکومت میں وزیر صحت حسین بازار نے کہا کہ اپوزیشن کے زیر کنٹرول علاقوں میں طبی شعبہ تباہی کے پیمانے کو احاطے میں لانے سے قاصر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صورتحال کا پورا اندازہ لگانا ہماری صلاحیت سے باہر ہے۔ درجنوں خستہ حال عمارتیں اب بھی ایسی ہیں جن میں مکین موجود ہیں۔
سعودی فضائی پل کے ذریعہ شام اور ترکیہ کی جانب امدادی پروازیں شروع
ریاض،9فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) شام اور ترکیہ میں زلزلہ متاثرین کی امداد کے لیے سعودی مہم ’’ساھم‘‘ کی جانب سے 80 ملین ریال پہنچنے کے بعد دونوں ملکوں نے سعودی فضائی پل کا آغاز کردیا ہے۔ خصوصی سعودی طبی ٹیمیں جمعرات کی صبح ترکی کے اڈانا ایئرپورٹ کے لیے روانہ ہوگئیں۔سعودی ایئر برج کے ابتدائی پرواز نے خصوصی ایمبولینس اور ریسکیو ٹیموں کو ترکی کے اڈانا کے ہوائی اڈے پر بھی پہنچایا۔سعودی عرب کے دو طیارے طبی اور امدادی سامان لے کر ترکی روانہ ہوئے ہیں۔ سعودی عرب کی پروازوں کا آغاز مرکز کی جانب سے شام اور ترکیہ میں زلزلہ زدگان کی مدد کے لیے’’ساھم‘‘ پلیٹ فارم کے ذریعے چندہ اکٹھا کرنے کی مقبول مہم شروع کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔کنگ سلمان ریلیف سنٹر کے نگران ڈاکٹر عبداللہ بن عبدالعزیز الربیع نے زلزلے سے متاثرہ افراد کو امداد فراہم کرنے کے لیے سعودی حکام کے ساتھ مرکز کی شرکت کی وضاحت کی۔ انہوں نے کہا کہ بدھ کو ’’ساھم‘‘ کے ذریعہ عطیات کی مہم میں 13 ملین سعودی ریال اکھٹے کئے گئے۔ انہوں نے صحت اور خوراک کی امداد پر توجہ دینے کی طرف اشارہ کیا اور شام اور ترکیہ میں زلزلے کے متاثرین کو امداد فراہم کرنے کے لیے ایک ہوائی پل کے آغاز کا بھی اعلان کیا تھا۔
خیال رہے خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پیر کو آنے والے تباہ کن زلزلے کے بعد ترکیہ اور شام کو مدد فراہم کرنے کی ہدایت کردی تھی۔ اس کے بعد سعودی عرب کی جانب سے امدادی ٹیمیں بھیج دی گئیں، شام اور ترکیہ میں بھیجی گئی امداد میں فوری طبی اور انسانی امداد شامل ہے۔سعودی قیادت نے جمہوریہ ترکی اور شامی جمہوریہ اور برادر عوام بالخصوص متاثرین کے اہل خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا اور زلزلے کے نتیجے میں زخمی ہونے والوں کی جلد صحت یابی کے لیے اپنی خواہشات کا اظہار کیا۔
شام اور ترکیہ میں زلزلے سے ہلاکتوں میں 72 فلسطینی بھی شامل
دمشق ،9فروری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)جنوبی ترکیہ اور شمالی شام میں آنے والے تباہ کن زلزلے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 72 ہو گئی، جن میں شام میں 52 فلسطینی اور ترکی میں 20 مہاجرین شامل ہیں۔فلسطینی وزارت خارجہ اور تارکین وطن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بدھ کے روز شمالی شام میں بچائے گئے زخمیوں میں سے تین فلسطینی پناہ گزین دم توڑ گئے۔انہوں نے نشاندہی کی کہ شمالی شام کے شہر جبلہ میں ملبے تلے دب کر ہلاک ہونے والا ابو راشد خاندان پانچ نہیں بلکہ چھ افراد پر مشتمل تھا۔وزارت خارجہ نے اشارہ دیا کہ متاثرہ علاقوں میں تمام فلسطینی خاندانوں کی حفاظت کے حوالے سے دستیاب نامکمل معلومات کی وجہ سے متاثرین کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔
زلزلے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 10 ہو گئی۔ شام میں رامل کیمپ کے ملبے تلے سے ایک خاتون اور اس کے دو بچوں کی تین نعشیں نکالی گئیں۔ریسکیو عملے نے صبح 7:00 بجے الرمل کیمپ میں اپنا کام دوبارہ شروع کیا اور پناہ گزین ہالا رینو کی کو نکالنے اور اس کی بیٹی جان مروان رینو کو بچانے میں کامیاب رہے۔وزارت خارجہ نے نشاندہی کی کہ رینوخاندان کی نعشیں برآمد ہونے کے بعد الرمل کیمپ میں دو رہائشی عمارتوں کے ملبے تلے کوئی لاپتہ افراد نہیں بچا ہے۔
اس تناظر میں ترکیہ میں اتھارٹی کے سفیر فاید مصطفی نے ترکیہ کے شہر انطاکیہ میں ملبے تلے دبے نوجوان امجد القاضی کو نکالنے اور اس کی نو ماہ کی حاملہ بیوی کی موت کی تصدیق کی تھی۔سفیر مصطفی نے اشارہ کیا کہ شمالی شام میں فلسطینیوں کے بارے میں معلومات تک رسائی میں دشواری کی روشنی میں فلسطینی متاثرین کی تعداد میں اضافے کا امکان ہے۔



