نئی دہلی: (اردودنیا.اِن)سپریم کورٹ اس پر غور کرے گا کہ کیاریاستیں اپنی طرف سے کسی بھی طبقے کو پسماندہ قرار دے کر ریزرویشن دے سکتی ہیں،یاآئین کی 102 ویں ترمیم کے بعدپارلیمنٹ کو یہ حق حاصل ہے؟ مہاراشٹرا کے مراٹھا ریزرویشن کو درپیش چیلنج کی سماعت کے دوران ، آئینی بنچ نے اعتراف کیا ہے کہ 102 ویں آئینی ترمیم کے بعد صورتحال بدل گئی ہے۔
لہٰذا اس ترمیم کی حقیت اوراثر پر بھی غور کرنا ضروری ہے۔ جسٹس اشوک بھوشن کی سربراہی میں بیٹھے 5 ججوں پر مشتمل بینچ نے کہاہے کہ اس کیس کا اثر تمام ریاستوں پر پڑے گا۔ لہٰذا انہیں نوٹس بھی دیا جارہا ہے۔ تفصیلی سماعت 15 مارچ سے شروع ہوگی۔ اس پربھی غورکیاجائے گاکہ 50 فیصد تک ریزرویشن کی حد برقرار رکھنے کے فیصلے پر بھی دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہے یا نہیں۔



