قومی خبریں

دہلی سرکارکا مرکز سے مطالبہ پورے خطہ قومی راجدھانی میں لگے پٹاخوں پر مکمل پابندی

قومی راجدھانی خطہ (این سی آر) میں پٹاخے جلانے اور ڈیزل بسوں کی آمدورفت پر مکمل پابندی عائد کرے

نئی دہلی،20اکتوبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)مرکزی حکومت کے ساتھ جمعہ کو ریاستوں کی مشترکہ میٹنگ میں دہلی حکومت نے مرکزی وزارت ماحولیات پر زور دیا کہ وہ پورے قومی راجدھانی خطہ (این سی آر) میں پٹاخے جلانے اور ڈیزل بسوں کی آمدورفت پر مکمل پابندی عائد کرے۔ دہلی کے وزیر ماحولیات گوپال رائے نے یہاں نامہ نگاروں کو بتایا کہ مرکزی وزیر ماحولیات بھوپیندر یادو نے دہلی، پنجاب، ہریانہ، اتر پردیش اور راجستھان کے ماحولیات کے وزراء کے ساتھ میٹنگ کی۔ انہوں نے بتایا کہ میٹنگ میں دہلی حکومت نے پورے این سی آر میں آلودگی پر قابو پانے کے لئے کئی اقدامات تجویز کئے ہیں۔قبل ازیں رائے نے مرکز سے درخواست کی تھی کہ وہ این سی آر کی سبھی ریاستوں کی میٹنگ بلائے تاکہ موسم سرما کے دوران آلودگی سے نمٹنے کے لئے باہمی تعاون سے ایک ایکشن پلان تیار کیا جا سکے۔

یادو کو لکھے خط میں رائے نے کہا تھا کہ دہلی حکومت نے سردیوں کے دوران فضائی آلودگی کو روکنے کے لئے کئی اقدامات کئے ہیں، لیکن یہ اقدامات اس وقت تک کارگر ثابت نہیں ہوں گے جب تک کہ ہریانہ، راجستھان اور اتر پردیش این سی آر خطے میں آلودگی کے ذرائع پر دھیان نہیں دیتے ہیں۔آزاد ماحولیاتی تھنک ٹینک سینٹر فار سائنس اینڈ انوائرمنٹ (سی ایس ای) کی ایک رپورٹ کے مطابق دہلی میں 31 فیصد فضائی آلودگی قومی دارالحکومت کے ذرائع سے پیدا ہوتی ہے، جب کہ 69 فیصد آلودگی این سی آر ریاستوں کے ذرائع سے پیدا ہوتی ہے۔

رائے نے زور دے کر کہا کہ این سی آر ریاستوں کو پورے خطہ میں پٹاخوں اور پرالی جلانے پر مکمل پابندی عائد کرنی چاہئے اور صرف سی این جی اور الیکٹرک گاڑیوں کو چلنے کی اجازت دینی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ قومی راجدھانی خطہ کی ریاستوں میں بہت سے صنعتی یونٹس اب بھی آلودگی پھیلانے والے ایندھن کا استعمال کر رہے ہیں اور انہیں جلد از جلد پی این جی پر سوئچ کرنا چاہئے۔ رائے کے مطابق نیشنل کیپٹل ریجن کی ریاستوں میں کام کرنے والے آلودگی پھیلانے والے اینٹوں کے بھٹوں کو آلودگی کو کم کرنے کے لئے زگ زیگ ٹیکنالوجی کا استعمال کرنا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ این سی آر کی سبھی رہائشی سوسائٹیوں کو ہمہ وقت بجلی فراہم کی جائے تاکہ ڈیزل جنریٹروں پر انحصار کم ہو۔

متعلقہ خبریں

Back to top button