قومی خبریں

اسلام قبول کرنے والی خاتون نے کی سیکیورٹی کی مانگ، دہلی ہائی کورٹ نے پولیس کو دی ہدایت

نئی دہلی، یکم جولائی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)دہلی ہائی #کورٹ نے جمعرات کو دہلی پولیس کو رضاکارانہ طور پر #اسلام قبول کرنے والی #خاتون کو 5 جولائی تک عبوری تحفظ فراہم کرنے کی ہدایت دی۔ اس خاتون نے دعوی کیا ہے کہ اپنی مرضی سے ہندو سے اسلام قبول کرنے کے بعد #اترپردیش #پولیس، #میڈیا، خود ساختہ گروپ اس کے پیچھے ہیں۔

جسٹس سی ہری شنکر کی بنچ نے دہلی پولیس کو اس معاملے کی باقاعدہ بنچ کے ذریعہ سماعت تک اس خاتون کی حفاظت کے لئے اقدامات کرنے کی ہدایت دی۔ بنچ نے کہاکہ جب تک اس معاملے کی باقاعدہ بنچ 5 جولائی کو سماعت نہیں کرتی ہے، جواب دہندہ ایک اور دو (دہلی پولیس کمشنر اور جامعہ نگر پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او) کو اس کی زندگی اور آزادی کی حفاظت کے لئے مناسب اقدامات کرنے ہوں گے۔

سماعت کے دوران دہلی پولیس کی نمائندگی کرنے والے سمیر واششٹھ نے کہا کہ خاتون کو درخواست میں دئے گئے پتے پر نہیں ملی اور یہاں تک کہ اس کا موبائل فون بھی بند تھا، جس کی وجہ سے پولیس افسران اس سے رابطہ کرنے سے قاصر ہیں۔

خاتون کے وکیل تانیا اگروال نے بتایا کہ خدشات کی وجہ سے اسے بار بار اپنی رہائش گاہ تبدیل کرنی پڑی ہے اور انہوں نے مزید کہا کہ وہ پولیس کے وکیل کو اپنا موجودہ پتہ ای میل کردیں گی۔عدالت اس خاتون کی درخواست پر سماعت کر رہی تھی۔

اترپردیش کے ضلع شاہجہان پور کی رہائشی اور دہلی میں کام کرنے والی اس خاتون نے اپنے اور اپنے اہل خانہ کے لئے رازداری کے حق کے ساتھ سلامتی کے لئے بھی اپیل کی ہے۔ اس خاتون نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ مذہب کی وجہ سے اسے اور اس کے کنبے کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button