قومی خبریں

ٹوئٹر کے آئی ٹی قوانین پر عمل نہ کرنے پردہلی ہائی کورٹ نے ناراضگی کا اظہار کیا

نئی دہلی، 28 جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)دہلی ہائی کورٹ نے ٹویٹر انک کے ایک عارضی ملازم کو چیف تعمیل آفیسر (سی سی او)مقررکرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مائکروبلاگنگ سائٹ نے نئی انفارمیشن #ٹکنالوجی (آئی ٹی) کی خلاف ورزی کی ہے ۔جسٹس ریکھا پیلی نے کہا کہ #قواعد کے مطابق انتظامیہ کے کسی اہم فرد یا سینئر ملازم کو سی سی او مقرر کرنا لازمی ہے، جبکہ ٹویٹر نے اپنے حلف نامے میں کہا ہے کہ اس نے تیسری پارٹی کے ٹھیکیدار کے ذریعہ ایک عارضی ملازم مقرر کیا ہے۔

عدالت نے کہاکہ سی سی او نے اپنے حلف نامے میں واضح طور پر کہا ہے کہ وہ ملازم نہیں ہے، یہ بذات خود قانون کے خلاف ہے،قانون کولے کر کچھ سنجیدگی ہونی چاہئے۔ہائی کورٹ نے کہا کہ اسے ٹویٹر کے ذریعہ ’عارضی ملازم‘لفظ کے استعمال کولے کر کوئی اعتراض ہے، خاص طور پر جب یہ معلوم نہیں ہے کہ تیسری پارٹی کا ٹھیکیدار کون ہے۔

جج نے #ٹویٹر سے کہاکہ عارضی م#لازم کیا ہوتا ہے؟ مجھے نہیں پتہ کہ اس کا کیا مطلب ہوگا، مجھے اس لفظ سے پریشانی ہے، عارضی پھر تیسری پارٹی کا #ٹھیکیدار کیا ہے یہ؟ میں حلف نامے سے خوش نہیں ہوں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button