تلنگانہ اردو اکیڈیمی کی جانب سے 30؍ جولائی 2021ء کو اردو مسکن پرانے شہر #حیدرآباد میں ایک باوقار تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا جس کے دوران تلنگانہ بھر سے 69 #اساتذہ کو سال 2018-19 کے لیے بیسٹ اردو ٹیچر ایوارڈ سے نوازا گیا۔ چونکہ مجھے بھی #ایوارڈ اسی تقریب کے دوران دیا گیا جس پر بہت سارے احباب نے #مبارکبادی کے پیغامات بھی دیئے۔ میں ان سب کا مشکور ہوں۔ لیکن میں خاص طور پر ان حضرات کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا جنہوں نے مجھے اور دیگر اساتذہ کو بطور #ٹیچر اپنا احتساب کرنے کی دعوت دی ہے۔
سب سے پہلے تو ایوارڈ یافتگان کو اردو صحافیوں کی جرح کا سامنا کرنا پڑا۔ سوال تو یہ تھا کہ اردو کے ٹیچرس اگر اپنی ذمہ داریوں کو صحیح طریقے سے نبھاتے تھے تو آج تلنگانہ میں اردو میڈیم اسکولس کا حال برا نہیں ہوتا۔ ایک نقطۂ نظر یہ تھا کہ خاص کر کویڈ کے سبب جب پچھلے دیڑھ برس کے دوران ریگولر کلاسس منعقد ہی نہیں ہوئے تو حکومت ان ٹیچرس کو #تنخواہیں دے رہی ہے ۔ وہی بڑی بات ہے۔ اب حکومت کا تلنگانہ ادارہ اردو اکیڈیمی ان ٹیچرس کو دس ہزار روپئے نقد بھی انعام کے ساتھ دے رہی ہے یہ تو بڑی غلط بات ہے۔
کسی نے یہ بھی کہہ دیا کہ #اردو کے نام پر سرکاری #ملازمت کرنے والے یہ ٹیچرس اگر اپنی تنخواہ کو ہی حلال کرلیں تو وہیں کافی ہے۔ یہ لوگ اپنی اصل ذمہ داری سے ہی سمجھوتہ کرتے ہیں تو ان کو الگ سے انعام کیوں؟ کاغذی سرٹیفکیٹ ہی کافی تھا۔ ایک دوسرے صاحب کا اعتراض تھا کہ اردو اسکول کے ٹیچرس کو #ایوارڈس دیتے تو وہی کافی تھا یہ #یونیورسٹی والے ٹیچرس کو ایوارڈ دینے کی کیا ضرورت تھی۔
ان سوالات کے علاوہ بھی بعض حضرات نے بڑی محنت سے سمجھایا کہ اردو #اخبارات میں آپ ایوارڈ یافتگان کی خبر نہیں بلکہ اشتہار شائع ہونا چاہیے۔ ایک طرف تو اردو میڈیم ٹیچرس خود اردو اخبارات نہیں خریدتے ہیں۔ ہزاروں، لاکھوں کی ماہانہ تنخواہ اٹھاتے ہیں۔ تو اس پس منظر میں ان کے لیے چند ہزار کا اشتہار شائع کروانا کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔اور سب سے اہم سوال یہ پوچھا گیا کہ اردو میڈیم کے ٹیچرس خود اپنے بچوں کو اردو #میڈیم سے نہیں پڑھاتے اس لیے اردو میڈیم زوال پذیر ہے۔ ایسے میں ان لوگوں کو ایوارڈ دینا بے کار ہے۔
ایک معترض کا کہنا تھا کہ آخر کونسی کمیٹی تھی جس نے ٹیچرس کی کارکردگی کا جائزہ لیا ہے۔ اردو اساتذہ کی کارکردگی کا اصل جائزہ تو اولیائے طلبہ اور خود طلبہ کی رائے پر مبنی ہونا چاہیے تھا۔غرض جتنے منہ اتنی باتیں۔ ہر کوئی اپنی اپنی سمجھ کے مطابق #سوشیل میڈیا کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے ہر طرح کے سوالات کر رہا تھا۔
یقینا اس طرح کے سوالات کا سامنا کرنے میں ناگواری کے تاثرات تو آتے ہیں لیکن بہتر تو یہ ہے کہ اگر واقعی اردو کے بیسٹ ٹیچر ایوراڈ یافتگان کے حوالے سے تنقید برائے تعمیر ہو تو اس کو صدق دل سے قبول کرلینا چاہیے۔آیئے ذرا ان سوالات کا جائزہ لیتے ہیں یا اعتراضات کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جو مختلف گوشوں کی جانب سے مختلف پلیٹ فارمس اور ذرائع سے اٹھائے گئے ہیں۔
کیا یہ بیان یا اعتراض درست ہے کہ سارے کے سارے اردو میڈم کے اساتذہ نکمے ہیں، کام چور ہیں اور غیر ذمہ دار ہیں اور ان لوگوں کی وجہ سے ہی اردو میڈیم ذریعہ تعلیم تنزلی کا شکار ہے؟ جذبات میں نہیں بلکہ ذرا ٹھنڈے دل سے غور کریں ۔
#اساتذہ بھی انسان ہیں اور اچھے اساتذہ کو قوم کا معمار کہا جاتا ہے، مانا جاتا ہے۔ ہر سال یوم اساتذہ کے موقع پر سوشیل میڈیا پر ان کی تعریف و توصیف میں قلابے ملائے جاتے ہیں۔ اور یہ کوئی اپنی غلطیوں کی دفاع کی بات نہیںبلکہ حقیقت ہے۔ زندگی کے ہر شعبہ میں اچھے برے ہر دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔ پولیس کی مثال لیجئے۔ سرکاری ملازم (غیر تدریسی) ہوں یا خانگی ملازم۔ ہر جگہ کچھ لوگ ہوتے ہیں جو اصول و ضوابط اور اخلاقیات کی پاسداری نہیں کرتے ہیں۔
میں یہ نہیں کہتا ہوں کہ سارے اساتذہ غلطیوں سے پاک ہیں یا #برائیوں سے دور ہیں لیکن سب کو ایک ہی صف میں کھڑا کردینا کہاں کا انصاف ہے۔ اب یہ بھی وضاحت ضروری ہے کہ سال 2018-19ء کے لیے جو ایوارڈ تلنگانہ اردو اکیڈیمی کی جانب سے دیئے گئے یقینا یہ ماقبل کویڈ 19 کا زمانہ تھا اور اس دوران اساتذہ باضابطہ طور پر کلاس روم میں اسکول و کالج میں جاکر کلاس لیتے رہے تو اس پس منظر میں بغیر جانے کہ یہ کہہ دینا کہ کویڈ دور میں تو ٹیچرس کو تنخواہیں ہی دی گئی وہ ہی بہت تھا کہاں تک درست ہے اور صرف ٹیچرس ہی نہیں بہت سارے سرکاری اور بعض خانگی شعبوں کے ملازمین ایسے ہیں جنہیں کویڈ لاک ڈائون کے دوران بھی کم کام کرنے یا بغیر کام کے تنخواہ ملی۔ ایسے میں صرف اردو میڈیم کے ٹیچرس کو سوال کرنا کہاں تک درست ہے۔
یقینا یہ اللہ رب العزت کا بہت بڑا فضل و کرم رہا ہے۔ جس کا جتنا زیادہ شکر ادا کیا جائے کم ہے۔ کہ اردو سرکاری ٹیچرس بھی ان خوش قسمت حضرات میں شامل رہے جنہیں عام آدمی کی طرح معاشی پریشانیاں جھیلنی نہیں پڑی۔ تلنگانہ اردو اکیڈیمی نے باضابطہ طور پر اردو میڈیم کے اساتذہ سے تحریری طور پر درخواستیں طلب کی تھی کہ بیسٹ ٹیچر #ایوارڈ کے لیے ٹیچرس اپنی درخواستیں داخل کرسکتے تھے۔
لیکن اردو اکیڈیمی تلنگانہ نے ایوارڈ حاصل کرنے کے خواہشمند سبھی درخواستوں کی باضابطہ تنقیح کی اور جانچ پڑتال کے بعد ہی بہت ساری درخواستوں میں سے اصول و ضوابط کی پاسداری کرتے ہوئے 69 اردو اساتذہ کو بیسٹ اردو ٹیچر ایوارڈ کے لیے منتخب کیا ہے اور اردو اکیڈیمی کی یہ اسکیم کافی عرصے سے جاری ہے۔
اب دوسرے سوال کا جواب تلاش کرتے ہیں کہ اردو اخبارات میں بیسٹ ٹیچر ایوارڈ یافتگان کی خبر اور #تصویر کیوں شائع کرنی چاہیے۔
اردو میڈیم کے ٹیچرس کا اردو سے تعلق ہے۔ بہت سارے ٹیچرس کو میں جانتا ہوں جو باضابطہ طور پر اردو اخبارات خرید کر پڑھتے ہیں اور جب اردو ٹیچرس کی ایوارڈ حاصل کرنے کی خبر اخبارات میں شائع ہوگی تو بہت سارے احباب کو پتہ چلے گا کہ اردو میڈیم کے ٹیچرس کون ہیں۔ شائد اس حوالے سے ان کا تعارف بھی سماج میں ان کی ذمہ داری اور جوابدہی کو بڑھا سکتا ہے۔ ویسے بطور صحافت کے استاد سوال تو یہ اٹھتا ہے کہ اردو اخبارات اردو کے بیسٹ ٹیچرس کا ایوارڈ حاصل کرنے والوں کی خبر شائع نہیں کریں گے تو کیا انگریزی اور #تلگو کے اخبارات ایسا کریں گے۔
ویسے اضلاع کے بعض احباب نے اطلاع دی ہے کہ تلگو کے اخبارات نے اپنے ڈسٹرکٹ ایڈیشن میں اردو ٹیچرس کو ایوارڈ حاصل کرنے کی باضابطہ طور پر تصویر کے ساتھ خبر شائع کی ہے۔ہاں ایسے اردو میڈیم کے سرکاری ٹیچرس کی توجہ مبذول کروائی جاسکتی ہے جو اردو اخبارات خرید کر نہیں پڑھتے ان کو ترغیب دلائی جاسکتی ہے۔ ان کی دلچسپی کا مواد شامل اشاعت کیا جاسکتا ہے۔ ویسے سوال تو یہ بھی اٹھتا ہے کہ بہت سارے ایسے سیاسی #قائدین کی خبریں اخبارات شائع کرتے ہیں جو اردو اخبار خریدنا تو دور پڑھنا بھی نہیں جانتے ہیں تو یہ کوئی پیمانہ نہیں ہوا کہ اردو ٹیچرس اردو اخبارات نہیں خریدتے۔
ہاں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اردو کے صحافی تحقیق کریں، سروے کریں اور ایسے اساتذہ کے بارے میں معلوم کریں جو اپنی کلاسس یا تدریسی ذمہ داریوں سے پہلو تہی کرتے ہیں اور غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ان کے خلاف شواہد جمع کریں۔ ان میں جوابدہی پیدا کریں تاکہ اردو میڈیم اسکولس کا سسٹم خراب ہونے سے محفوظ رہے۔
آیئے اب ایک بڑے ہی اہم اعتراض کے متعلق بات کرتے ہیں جو یہ ہوتا ہے کہ اردو کے ٹیچرس ہوں۔ اردو کے #پروفیسرس ان کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ اردو کی روٹی کھاتے ہیں اور اپنے بچوں کو انگریزی میڈیم سے پڑھاتے ہیں۔ قارئین کرام تھوڑا سا ٹھنڈے دماغ سے غور کریں۔ یہ کیسا اصول ہے کہ یہ ضابطہ اخلاق صرف اور صرف اردو کے اساتذہ کرام کے ساتھ کیوں لاگو ہونا چاہیے کہ اردو کے اساتذہ ہی اپنے بچوں کو اردو میڈیم سے پڑھائیں۔
کیا اردو کے صحافی حضرات کو اپنے بچوں کو اردو صحافی ہی بنانا ضروری ہے۔ کیا دینی مدارس کے اساتذہ اپنے بچوں کو دینی مدارس میں ہی پڑھائیں۔ کیا پولیس کے محکمے میں برسرکار ملازمین اپنے بچوں کو محکمہ پولیس میں بھرتی کے لیے ہی تیار کروائیں۔ یہ بات بھی درست ہے کہ اردو میڈیم کے اساتذہ دیگر سرکاری ملازمین کی ہی طرح گورنمنٹ ایمپلائز ہیں۔ یہ تو وہ جوابات تھے جو میں نے ضروری سمجھا کہ زیر بحث لاوں لیکن بہت سارے ایسے موضوعات ہیں جن پر واقعتا اردو میڈیم اسکولس کے اساتذہ کرام اور ایوارڈ یافتگان کو بھی اپنا احتساب کرنا ہوگا۔
اول یہ کہ بطور ٹیچر ہم اساتذہ اپنی ذمہ داریوں کو پورا کریں اور خاص کر اردو میڈیم کے اساتذہ کی اکثریت مسلم حضرات پر مشتمل ہے اور اردو میڈیم میں بڑی تعداد مسلم بچے زیر تعلیم ہیں۔ ایسے میں اردو میڈیم کے اساتذہ اپنی دوہری ذمہ داریوں کو سمجھیں۔ اردو اکیڈیمی کے احباب بھی نوٹ کریں کہ اب لوگ سوال کر رہے ہیں تو کویڈ 19کے دور میں اسکول نہیں، کلاسس نہیں تو ایوارڈ بھی نہیں ہونا چاہیے۔
اساتذہ کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے صرف ان کی سرویس کو پیمانہ نہیں بنایا جانا چاہیے اور منڈل کے بجائے اضلاع کی بنیاد پر ان کا انتخاب ہونا بہتر ہے۔ ساتھ ہی اساتذہ کی کارکردگی کو موثر بنانے مشترکہ طور پر اقدامات کیے جانے چاہیے تاکہ اردو میڈیم کا بھی تحفظ ہو اور اردو اساتذہ کی جائیدادوں کا بھی۔ ایک تو بطور ٹیچر اپنی ذمہ داریوں کو صحیح نبھائیں۔ دوم بطور مسلم بھی اپنی ملی ذمہ داری کو ملحوظ رکھیں کہ چاہے ہم دنیا میں سسٹم کا فائدہ اٹھاکر کسی طرح کے احتساب سے بچ جائیں لیکن مجھے تو اس بات سے ڈرنا چاہیے کہ روزِ محشر مجھ سے سوال پوچھا جائے گا کہ تنخواہ تو پوری لیتا تھا اور بچوں کو پڑھانے میں ڈنڈی مارتا تھا۔
بطور سرکاری ملازم ہر طرح کی مراعات سے استفادہ کرنا ضروری سمجھتا تھا اور بچوں کو سوال پوچھنے سے روکنے کے لیے اپنا رعب اور غصہ دکھاکر ان کو خاموش کردیتا تھا۔ دنیا میں تو بطور ٹیچر میں اپنی پڑھائی کے اوقات میں خیانت کروں اور میرے ہیڈ، میرے ڈین، میرے پرنسپل، میرے ہیڈ ماسٹر کو اس بات کو پتہ نہ چلے تو میں خوش ہوجاتا ہوں تو مجھے تیار رہنا چاہیے آخرت کے دن میں اپنے رب کی پکڑ سے کیسے بچوں گا۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے بے شک ہماری طرف ہی ان کو لوٹ کر آنا ہے۔ پھر ہمارے ہی ذمہ ان کا حساب لینا ہے اور جو کوئی نیکی لے کر آئے گا اس کو ویسی دس نیکیاں ملیں گی اور جو برائی لائے گا اسے سزا ویسے ہی ملے گی اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔دعا ہے کہ اللہ رب العزت ہم سب اساتذہ اور سبھی مسلمانوں کو اس دنیا میں بھی اور روزِ محشر بھی ہر طرح کی رسوائی سے محفوظ فرما اور ہم سب کو نیک توفیق عطا فرما۔ آمین۔ یا رب العالمین۔
(کالم نگار مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبۂ ترسیل عامہ و صحافت میں بحیثیت اسوسی ایٹ پروفیسر کارگذار ہیں)



