بین الاقوامی خبریںسرورق

  جھونپڑے میں قید خاتون کی زنجیروں کی گونج چینی پارلیمنٹ تک پہنچ گئی

 بیجنگ،4مارچ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) چین میں رواں سال ایک جھونپڑے میں زنجیروں میں قید خاتون کے منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر چینی حکومت کو نادر نوعیت کی علانیہ تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔خاتون کا نام Xiao Huamei ہے اور اس کی عمر 45 برس ہے۔
اس صورت حال کے بعد بیجنگ میں قانون ساز افراد انسانی تجارت اور جدید غلامی پر پابندیاں سخت کرنے کے لیے مصروف عمل ہیں۔
برطانوی اخبار ٹیلی گراف کے مطابق قومی پارلیمنٹ کے مندوب جیانگ شنگنن نے تجویز پیش کی کہ انسانی تجارت یا غلامی شمار کی جانے والی حالتوں کا دائرہ وسیع کیا جائے تا کہ متاثرہ فرد کو حراست میں رکھنے والا ، زبردستی کرنے والا یا متاثرہ شخص کے بچاؤ میں رکاوٹ ڈالنے والا کوئی بھی شخص اس جرم کے زمرے میں آ سکے۔
علاوہ ازیں جدید غلامی کے جرم کے لیے سزا کی مدت 5 برس سے بڑھا کر 10 برس کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔مذکورہ خاتون ژیاؤ ہومئی کی جھونپڑے میں قید حالت میں ویڈیو پہلی بار رواں سال جنوری میں انٹرنیٹ پر وائرل ہوئی تھی۔
خیال ہے کہ ژیاؤ کو اغوا کیے جانے کے بعد 3 مرتبہ مردوں کو فروخت کیا گیا۔ پہلی مرتبہ یہ سودا 1998 میں 5000 وان (800 امریکی ڈالر) کے عوض ہوا تھا۔ آخری سودے میں عورت کو اس شخص کو بیچا گیا جو اس کا موجودہ شوہر ہے۔
اس شخص سے ژیاؤ نے 8 بچوں کو جنم دیا۔برطانوی اخبار کے مطابق ابھی تک اس معاملے میں 17 ذمے داران کو برطرف یا سرزنش کا ہدف بنایا جا چکا ہے۔
اسی طرح ژیاؤ کے شوہر کو بھی ناروا سلوک کے الزام میں پکڑ لیا گیا ہے۔سال 2019 میں چین میں انسانی تجارت کے 4571 کیس ریکارڈ کیے گئے جن میں بچے اور عورتیں شامل ہیں۔ تاہم سماجی کارکنان کا کہنا ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ 

متعلقہ خبریں

Back to top button