یورپی عدالت نے پہلی بار یورپی کمیشن کو ہی جرمانہ کر دیا
یورپی یونین کی جنرل کورٹ نے اپنے ایک فیصلے میں حکم دیا
برسلز،9جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) بلجیم کے دارالحکومت برسلز میں یورپی یونین کے صدر دفاتر سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق اس مقدمے میں یورپی یونین کی جنرل کورٹ نے اپنے ایک فیصلے میں حکم دیا کہ یورپی یونین کا کمیشن ایک جرمن صارف کو 400 یورو جرمانہ ادا کرے۔جرمنی کے شہری اس صارف نے، جو مقدمے کا مدعی بھی تھا، الزام لگایا تھا کہ یورپی کمیشن نے اس بلاک میں عام شہریوں کے ذاتی کوائف کے تحفظ سے متعلق جو ضوابط نافذ کر رکھے ہیں، یہ کمیشن خود انہی ضوابط کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوا تھا۔درخواست دہندہ نے قانونی دعویٰ کیا تھا کہ یورپی کمیشن نے اس کا پرسنل ڈیٹا مناسب حفاظتی اقدامات کے بغیر امریکہ منتقل کر دیا تھا اور یوں اس کے ان حقوق کی خلاف ورزی ہوئی تھی، جو خود یورپی یونین کے ڈیٹا پروٹیکشن رولز کے تحت اسے حاصل ہیں۔
مقدمے کی کارروائی کے دوران عدالت شواہد کی بنیاد پر اس نتیجے پر پہنچی کہ یورپی کمیشن خود اپنے ہی نافذ کردہ یورپی ڈیٹا پروٹیکشن ریگولیشن کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوا تھا۔عدالت نے یورپی کمیشن کا حکم دیا کہ وہ مالی تلافی کے لیے متعلقہ جرمن شہری کو 400 یورو (412 امریکی ڈالر کے برابر) جرمانہ ادا کرے۔اہم بات یہ ہے کہ اگرچہ جرمانے کی رقم صرف 400 یورو ہے، تاہم یہ اس لیے ایک سنگ میل اور اپنی نوعیت کا اولین عدالتی فیصلہ ہے کہ پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا تھا۔
اس مقدمے کے مدعی نے یورپی یونین کی ایک کانفرنس کے لیے اپنی رجسٹریشن کی خاطر یونین کی ویب سائٹ پرفیس بک کے ذریعے سائن ان کیجیے کا بٹن استعمال کیا تھا۔اس طرح اس جرمن شہری کی ڈیجیٹل ڈیوائس کا آئی پی ایڈریس فیس بک کی مالک کمپنی میٹا کے مختلف پلیٹ فارمز کو امریکہ میں منتقل ہو گیا تھا۔ یورپی یونین کی جنرل کورٹ کے مطابق ایسا کرتے ہوئے یورپی کمیشن نے اپنے ہی ضوابط سے انحراف کیا تھا۔جنرل کورٹ یورپی یونین کی ایک ایسی عمومی عدالت ہے، جو یونین کے مختلف محکموں اور اداروں کے خلاف کی جانے والی قانونی کارروائیوں کی سماعت کرتی ہے۔یورپی یونین کے جنرل ڈیٹا پروٹیکشن ریگولیشن یا GDPR کو عام صارفین کی پرائیویسی کے تحفظ کے حوالے سے دنیا کے انتہائی سخت اور جامع ترین ضابطوں میں سے ایک قرار دیا جاتا ہے۔



