بین الاقوامی خبریں

غیر ملکیوں کے لیے پروفیشنل ویری فکیشن پروجیکٹ کا پہلا مرحلہ مکمل

طب کے شعبے میں کئی غیرملکی ڈاکٹروں کو سعودی شہریت دینے کی منظوری

ریاض ، 10جولائی :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)سعودی وزارت افرادی قوت اور سماجی بہبود نے ’پروفیشنل ویریفی کیشن پروجیکٹ‘ کا پہلا مرحلہ مکمل کرلیا جس کا مقصد غیر ملکی سکلڈ ورکرز کی اہلیت اور تجربے کا تعین کرنا ہے۔ایس پی اے کے مطابق یہ پروگرام 128 ملکوں میں وزارت خارجہ کے تعاون سے ایک یونیفائیڈ الیکڑانک پلیٹ فارم کے ذریعے نافذ کیا جا رہا ہے۔وزارت کا مقصد کئی سرکاری اداروں کے ساتھ مل کر انجینئرنگ اور صحت سمیت تمام پروفیشن کے لیے دنیا کے 160 ممالک تک وسعت دینا ہے۔وزارت کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ مملکت میں داخل ہونے والے غیرملکی کارکنوں کے پاس حقیقی تعلیمی قابلیت تجربہ اور مہارت موجود ہو جو لیبر مارکیٹ کے لیے درکار ہے۔

یہ پروجیکٹ ان اعلیٰ ہنر مند پروفیشنل افراد کے لیے ہے جن کے معیارات یونیفائیڈ سعودی کلاسیفی کیشن آف پروفیشنز اور یونیفائیڈ سعودی کلا سیفی کیشن آف ایجوکیشنل لیولز،ا سپیشلٹی کے تحت منظور کردہ ہیں۔تصدیق کا یہ عمل مکمل طور پر خود کار ہے جس میں یونیفائیڈ پلیٹ فارم کے ذریعے ہموار طریقہ کار شامل ہے۔اس سروس کے ذریعے وزارت لیبر مارکیٹ کو ریگولیٹ کرنے، خدمات کو بہتر بنانے اور پیداواری صلاحیت کو بڑھانے کی کوشش کرتی ہے۔سعودی وزارت افرادی قوت نے ستمبر 2023 کے دوران وزارت خارجہ کے تعاون سے پروفیشن ٹیسٹ کا سلسلہ شروع کیا تھا۔

طب کے شعبے میں کئی غیرملکی ڈاکٹروں کو سعودی شہریت دینے کی منظوری

ریاض، 10جولائی:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)مملکت میں طب کے شعبے میں بھی کئی غیرملکی ڈاکٹروں کو بھی سعودی شہریت دینے کی منظوری دی گئی ہے۔الشرق الاوسط نے اپنے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ متعددغیرملکی ڈاکٹروں کو سعودی شہریت دینے کا حکم جاری کیا گیا ہے۔ ان میں مملکت کے اسپتالوں میں کام کرنے والے 16 ماہر ڈاکٹر اور اسپیشلسٹ شامل ہیں۔ان میں شامی ڈاکٹر معتصم الزعبی بھی شامل ہیں جو بچوں کے ٹیومر سمیت پیچیدہ نیوروسرجیکل کیسز کا علاج کرنے میں مہارت رکھتے ہیں اور جڑے ہوئے بچوں کو جدا کرنے کے آپریشن میں حصہ لینے والی سرجیکل ٹیم کے سربراہ ہیں۔انہوں نے 2010 میں اوٹاوہ یونیورسٹی سے پیڈیاٹرک نیوروسرجری میں کینیڈین فیلوشپ حاصل کی۔ انٹرنیشنل سوسائٹی آف پیڈیاٹرک نیوروسرجری اورسعودی سوسائٹی آف نیورو سرجری کے رکن ہیں۔ مصری ڈاکٹر رضا احمد ابو العطا مدینہ منورہ میں ہارٹ سینٹرکے بانیوں میں سے ایک ہیں۔سعودی شہریت حاصل کرنے والے انڈین ڈاکٹر شمیم احمد بھٹ کنگ سعود میڈیکل سینٹر میں ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ کے نائب سربراہ ہیں۔

لبنانی ڈاکٹر ھیثم محمد تلیجہ کو بھی شہریت دی گئی جو آنکولوجی کی انتہائی نگہداشت میں مہارت رکھتے ہیں۔ وزارت صحت کے ساتھ ایک پروگرام کے ذریعے وزارت صحت کے اسپتالوں کے لیے مکینیکل وینٹی لیشن کے دس سے زیادہ کورسز کے انتظام کی نگرانی کرتے ہیں۔امریکی ڈاکٹر محب فخر الدین ایاس کنگ فیصل سپشلسٹ اسپتال میں پیڈیاٹرک ہیما ٹولوجی، آنکولوجی اور بون میرو ٹرانسپلانٹیشن کے مشیر ہیں اور پیڈیاٹرک آنکولوجی اور بون میرو کے شعبے کے ماہرین میں سے ایک ہیں۔شامی ڈاکٹر محمد طلال الرفاعی بچوں کے اعصابی امراض کے شعبے میں مہارت رکھتے ہیں۔ 2016 سے کنگ عبداللہ اسپیشلسٹ اسپتال برائے چلڈرن سے وابستہ ہیں۔ سعودی شہریت حاصل کرنے والے ایک اور شامی ڈاکٹرغیاث حسن الاحمد نے میڈیکل ایتھکس میں ہاورڈ میڈیکل سکول سے فیلو شپ کی ڈگری حاصل کی ہے۔

وہ سعودی عرب میں نیشنل بائیو میڈیکل ایتھکس کمیٹی کے ممبر ہیں۔مدینہ منورہ کے کنگ فیصل اسپیشلسٹ اسپتال کے شعبہ پیڈیاٹرک آنکو لوجی اور بون میرو ٹرانسپلانٹیشن کی سربراہ افشاں اشرف علی میں بھی سعودی شہریت دی گئی ہے جو امریکی ہیں اور ہیماٹولوجی اور پیڈیاٹرک آنکولوجی کے شعبے میں طویل تجربہ رکھتی ہیں۔امریکی شہری احمد محمد ابو صلاح امریکہ کی مینیسوٹا یونیورسٹی میں بائیو میڈیسن کے پروفیسراور اس کے ہیلتھ انفارمیٹکس ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ہیں۔کینیڈین ڈاکٹر نھلہ علی عزام کنگ سعود یونورسٹی میڈیکل سٹی میں اینڈو سکوپی یونٹ کی ڈائریکٹر ہیں۔ کنگ فیصل اسپیشلسٹ اسپتال کے مصری ڈاکٹر یاسر محمود الشیخ کو بھی سعودی شہرت دی گئی ہے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب نے وژن 2030 کے تحت سکلڈ پروفیشنلز کے لیے اپنی شہریت کھول دی ہے۔جس کا مقصد مملکت کی اقتصادی ادور سماجی ترقی کو بڑھانے کے لیے غیر معمولی ہنر کوراغب کرنا اور برقرار رکھنا ہے۔2021 میں بھی شاہی فرمان کے تحت زندگی کے مختلف شعبوں میں نمایاں صلاحیت اور کارکردگی کا مظاہرہ والی شخصیات کو سعودی عرب کی شہریت دی جا چکی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button