بین الاقوامی خبریں

سامان کی نقل و حمل کے لیے جرمن ہیوی ڈیوٹی ڈرون متعارف

برلن، 13اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)یہ نیا جرمن ہیوی ڈیوٹی ڈرون ان مقامات تک سامان کی نقل و حمل کے لیے ایک نیا طریقہ پیش کرتا ہے جہاں پہنچنا دشوار ہو۔ لاجیسٹک فراہم کرنے والا جرمن ادارہ ڈی بی شینکر گزشتہ برس ڈرون میں ایک بڑا سرمایہ کار بن کر ابھرا تھا۔جرمن ایئر ٹیکسی بنانے والی کمپنی وولو کاپٹر نے ہیمبرگ میں آئی ٹی ایس ورلڈ کانگریس میں پہلی بار اپنے تیار کردہ ہیوی ڈیوٹی ڈرون کو لانچ کیا۔

کمپنی نے جرمن لاجیسٹک فراہم کرنے والے ادارے ڈی بی شینکر کے تعاون سے لاجسٹک سپلائی چین میں وولو ڈرون کے انضمام کا ایک بہترین مظاہرہ کیا ہے۔ اس ڈرون کی آزمائشی پرواز تقریباً تین منٹ تک رہی،جو شمالی جرمنی کے ایک شہر کے بندرگاہی علاقے میں کی گئی۔ آئی ٹی ایس گانگریس ڈیجیٹل نقل و حمل کے ذرائع کے لیے معروف ہے جس میں دنیا بھر کی ایسی نئی ایجادات کی نمائش کی جاتی ہے۔

ڈی بی شینکر جرمنی میں قومی ریل آپریٹر ’ڈوئچے بان‘ کی ایک ذیلی کمپنی ہے جس نے گزشتہ برس وولوکاپٹر میں بھاری سرمایہ کاری کی تھی۔ نقل و حمل کی ترسیل کی مثال پیش کرنے کے لیے، الیکٹرک لوڈ ڈڈرون سے ایک لوڈنگ باکس کو منسلک کیا گیا اور ڈی بی شینکر کارگو کی موٹر سائیکل سے اسے اڑایا گیا۔یہ وولو ڈرون 18 راؤٹرز سے لیس ہے جو بغیر کسی شخص کے بجلی سے چلتا ہے۔

اس کی مدد سے دو کوئنٹل تک کے وزن کا سامنا تقریبا ًچالیس کلو میٹر کی دوری تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ اس کے ذریعے ان مشکل ترین مقامات تک بھی نقل و حمل کا کام آسان ہو سکتا ہے جہاں روایتی طریقے سے سامان لے جانا کافی مشکل ہوتا ہے۔اس ڈرون کو بنانے والی کمپنی نے اپنے ایک بیان میں کہا، ”معیاری اٹیچمنٹ سسٹم کا شکریہ، مثال کے طور پر وولو ڈرون کو ٹرانسپورٹ باکس اور مائع مادے یا پھر مشینری جیسی مختلف اشیا کی ترسیل کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

کمپنی کے چیف ایگزیکٹو فلوریئن روئٹرز کا کہنا تھا کہ یہ آزمائشی پرواز شہری فضائی نقل و حمل میں کمپنی کی نمایاں پوزیشن کا ثبوت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس شعبے میںہم واحد ایسی کمپنی ہیں جو مسافروں اور سامان کے نقل و حمل کے لیے حل پیش کرتی ہے اور دنیا بھر میں عوامی پروازوں کی سطح پر اس کا مظاہرہ کرتی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button