بین الاقوامی خبریں

حماس ایک مزاحمتی تحریک ہے‘ کے بیان پر فرا نس کی رکن اسمبلی کو تنقید کا سامنا

بیان میں عسکریت پسند گروپ حماس کا ذکر ایک مزاحمتی تحریک کے طور پر کیا ہے،

پیرس ،18اکتوبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) فرانس کی انتہائی بائیں بازو سے تعلق رکھنے والی ایک قانون ساز نے اپنے ایک بیان میں عسکریت پسند گروپ حماس کا ذکر ایک مزاحمتی تحریک کے طور پر کیا ہے، جس پر فرانسیسی وزیر داخلہ جیرالڈ ڈارمینن نے منگل کے روز کہا کہ دہشت گردی کو جائز قرار دینے کے شبہ میں اس قانون ساز کو فوجداری تحقیقات کا سامنا کرنا چاہیے۔فرانس ان بوڈ پارٹی (ایل ایف آئی) کی قانون ساز دانیلی اوبونو کے یہ تبصرے ایک ایسے موقع پر سامنے آئے ہیں جب پارٹی کے سربراہ اور سابق صدارتی امیدوار یاں لک ملینچن اسرائیل پر حماس کے حملے پر اپنے موقف کی وجہ سے بڑھتے ہوئے دباؤ کی زد میں ہیں اور یہ دباؤ خود بائیں بازو کے اندر سے بھی سامنے آ رہا ہے۔ڈارمینن نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا ہے کہ، حماس، ایک مزاحمتی تحریک؟ نہیں! یہ ایک دہشت گرد تحریک ہے۔ وہ دہشت گردی کو جائز قرار دینے پر پراسیکیوٹرز سے اس بارے میں تفتیشی کارروائی شروع کرنے کی درخواست کر رہے ہیں۔

اوبونو، پارٹی کے سر براہ یاں لک ملینچنکی ایک قریبی ساتھی ہیں، جنہوں نے گزشتہ تین صدارتی انتخابات میں حصہ لیا تھا اور گزشتہ دو مہمات میں ایک بڑا کردار ادا کیا تھا جن میں آخر کار صدر ایمینوئل میکراں نے کامیابی حاصل کی تھی۔ریڈیو Sud پر جب ان سے بار بار پوچھا گیا کہ آیا حماس ایک مزاحمتی تحریک ہے تو اوبونو نے جواب دیا، جی ہاں۔قانون ساز نے، جو 2017 سے رکن پارلیمنٹ ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ ایک اسلا م پسند سیاسی تحریک ہے جس کا ایک مسلح ونگ ہے۔ یہ ایک مزاحمتی تحریک ہے جو خود کو اسی طرح بیان کرتی ہے۔ان کے تبصروں نے فوری طور پر ایک تنازع کھڑا کر دیا جس کے نتیجے میں اوبونو کو اپنے تبصروں کی وضاحت کے لیے سوشل میڈیا کا رخ کرنا پڑا۔انہوں نے ایکس پر کہا کہ میں نے کہا تھا کہ حماس ایک اسلام پسند سیاسی گروپ ہے جس کا دعویٰ ہے کہ وہ فلسطین پر قبضے کے خلاف مزاحمت کا ایک حصہ ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button