بین الاقوامی خبریں

جنگ کی فضول اور لایعنی منطق امن کے پیغام کو تہس نہس ہے: پوپ فرانسس

ویٹی کن سٹی، 25دسمبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) کیتھولک مسیحی لوگوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ پیغمبر سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے امن کے پیغام کو ان کی پیدائش کی سر زمین پر جنگ کی فضول منطق کے ذریعے غرق کیا جا رہا ہے۔کرسمس کے موقع پر ویٹی کن کے سینٹ پیٹرز باسیلیکا میں منعقد اجتماع سے خطاب میں پوپ نے کہا کہ آج رات، ہمارے دل بیت لحم میں ہیں، جہاں امن کے شہزادے کو ایک بار پھر جنگ کی فضول منطق، ہتھیاروں کے تصادم سے مسترد کر دیا گیا ہے۔

پوپ فرانسس کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سات اکتوبر کے بعد سے جاری جنگ میں غزہ کے محصور علاقے میں ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا ریا ہے۔ادھر اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو نے اتوار کو خبردار کیا ہے کہ سات اکتوبر کو اسرائیل پر حملہ آور ہونے والی فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس کے خلاف جنگ طویل ہو گی۔

کابینہ کے اجلاس میں نیتن یاہو کہا کہ یہ واضح رہے کہ یہ ایک طویل جنگ ہوگی۔جنگ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ یہ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک حماس کا خاتمہ نہیں ہو جاتا اور اسرائیل کے شمال اور جنوب دونوں جانب سکیورٹی بحال نہ ہو جائے۔غزہ پر اسرائیلی حملوں کے جاری رہنے کے ساتھ ساتھ حماس کے زیرِ انتظام غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 166 سے زائد فلسطینیوں کی ہلاکت ہوئی ہے جس کے بعد فلسطینیوں کی مجموعیہلاکتوں کی تعداد 20 ہزار 424 ہوگئی ہے۔اسرائیل کا کہنا ہے کہ ہفتے کے آخر میں لڑائی میں ہلاک ہونے والے اسرائیلی فوجیوں کی تعداد بڑھ کر 15 ہو گئی ہے جس کے بعد غزہ کی پٹی میں اسرائیل کی زمینی کارروائی شروع ہونے کے بعد ہلاک ہونے والے فوجیوں کی کل تعداد 161 تک پہنچ گئی ہے۔

حماس کے اسرائیل پر سات اکتوبر کے حملے میں اسرائیلی حکام کے مطابق 1200 لوگ ہلاک ہوئے تھے۔ حماس کے جنگجوؤں نے 240 کے قریب افراد کو یرغمال بنا لیا تھا جنہیں وہ غزہ لے گئے تھے۔حضرت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی جائے پیدائش اتوار کو ایک اجڑے ہوئے شہر کا منظر پیش کر رہی تھی۔بیت لحم میں کرسمس کی شام کی تقریبات اسرائیل اور حماس کی جنگ کی وجہ سے منسوخ کر دی گئی تھیں۔تہوار کی روشنیاں اور کرسمس ٹری جو عام طور پر مینجر اسکوائر کو سجاتے ہیں غائب تھے۔ نہ ہی اس موقع پر غیر ملکی سیاحوں کا کوئی ہجوم تھا جو ہر سال چھٹی کے دوران یہاں جمع ہوا کرتے تھے۔

کرسمس کے موقع پر تحائف کی دکانیں بھی دیر سے بارش تھمنے کے بعد کھلیں۔ تاہم وہاں بہت کم زائرین تھے۔ویتنام سے تعلق رکھنے والے چھ سال سے یروشلم میں مقیم ایک راہب برادر جان ونا نے کہا کہ اس سال کرسمس ٹری اور روشنی کے بغیر صرف اندھیرا ہے۔خبر رساں ادارے ’ایسو سی ایٹڈ پریس‘ سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ وہ ہمیشہ کرسمس کے موقع پر بیت لحم آتے ہیں۔ لیکن یہ سال خاص طور پر پریشان کن تھا۔اسکوائر سے چند قدم کے فاصلے پر عفتیم ریسٹورنٹ کے ایک مالک الاسلامہ نے کہا کہ ہم درخت لگانے اور معمول کے مطابق جشن منانے کا جواز پیش نہیں کر سکتے جب (غزہ میں) کچھ لوگوں کے پاس رہنے کے لیے گھر بھی نہ ہوں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button