
غزہ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)غزہ شہر کی مرکزی سڑک جہاں کبھی اپارٹمنٹس، رہائشی مکانات اور دکانیں تھیں وہاں آج ملبے کے ڈھیر کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔ کنکریٹ، سریے، لکڑی کے تختے، پھٹے ہوئے کپڑے اور کتابوں کے بکھرے ہوئے اوراق، غزہ سٹی کے قلب میں کبھی انسان آباد تھے، اس کا خاموش ثبوت بربادی کی یہ علامات دے رہی ہیں۔
عادل الکولک ایک سوگوار خیمے میں بیٹھا ہے۔ بالکل اْس جگہ پر جہاں کبھی وہ گھر آباد تھا جس میں اس کے خانوادے کا ایک بڑا حصہ رہتا تھا۔ اسرائیلی حملے میں اس کے خاندان کے 21 افراد ہلاک ہوگئے۔عادل الکولک ملبے کی طرف نظریں جمائے ہوئے کہتا ہے کہمیں اپنے احساسات کو الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا۔ میں سمجھنے سے قاصر ہوں کہ یہ ہوا کیا۔ میں اب بھی صدمے میں ہوں۔ چند لمحوں کے اندر پورا گھر تباہ ہوا گیا۔
عمارت منہدم ہوگئی اور سب کچھ ملبے تلے دب گیا۔عادل کے کانوں میں اب بھی اپنے رشتے داروں کی چیخ و پکار سنائی دے رہی ہے۔ جن میں بچے بھی شامل ہیں۔ کنکریٹ کے ملبے تلے دبے چھوٹے چھوٹے بچوں کی مدد کی پکار کی صدائیں اس کا پیچھا نہیں چھوڑتیں۔’’چھ ماہ کے بچے نے کیا کیا تھا، کیا اُس نے اسرائیل پر راکٹ برسائے تھے؟‘‘ یہ عادل کا سوال تھا۔الوحدہ اسٹریٹ پر ایک اور کئی منزلہ عمارت، جس میں کسی خاندان آباد تھے، اس رات ایک فضائی حملے میں مکمل طور پر تباہ ہوئی۔
یہاں رہنے والا نوجوان انس اپنی منگیتر شمع ابو العوف کو کھو چْکا ہے۔ وہ بتاتا ہے، اُس دن ہم نے کئی مرتبہ فون پر بات کی تھی، شام میں بھی ایک بار ہماری بات ہورہی تھی کہ اچانک بہت شدید شور سنائی دیا اور لائن منقطع ہو گئی۔ میں نے اسے پیغام بھیجا جو اسے نہ مل سکا۔یہ تو فوری طور پر واضح ہو گیا تھا کہ الوحدہ اسٹریٹ کے متعدد مکانات تباہ ہو گئے تھے۔
امدادی کارکنوں نے ملبے تلے زندہ انسانوں کی تلاش کا کام دس گھنٹے جاری رکھا۔ آخر کار انس کو پتا چلا کہ اْس کی منگیتر اب زندہ نہیں بلکہ اْس کی لاش اسے فرانزک میڈیسن سے ملی۔ انس کہتا ہے، اُس کے چہرے پر ایک مسکراہٹ تھی اور میرے دل پر جیسے کوئی چھری گہری سے گہری ضرب لگائے جا رہی ہے، لیکن اب وہ ایک بہت بہتر جگہ میں ہے۔انس کی منگیتر شمع کے متعدد اہل خانہ افراد کی موت ہو چْکی ہے۔
ان میں اْس کے والد ایمن ابو العوف بھی شامل ہیں جو غزہ سٹی کے شفا ہسپتال کے ڈاکٹر تھے اور اس ہسپتال کے کووڈ انیس ٹاسک فورس کے ذمہ دار بھی تھے۔ ان کے ایک رفیق ڈاکٹر خدورا کا کہنا ہے کہ اب بھی ہر کوئی ڈاکٹر ایمن ابو العوف کی موت کے صدمے میں ہے۔اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ان رہائشی علاقوں میں حماس نے اپنا مراکز رکھے تھے اور وہ یہاں کے رہائشی انسانی ڈھال کے طور پر استعمال ہو رہے تھے۔
الوحدہ اسٹریٹ کے رہائشیوں کا تاہم کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج نے وہاں فضائی حملے کرنے سے پہلے نا تو رہائشیوں کو متنبہ کیا نہ ہی انہیں مکانات خالی کرنے کی تاکید کی تھی۔ گیارہ روزہ جنگ کے دوران بڑی تعداد میں شہریوں کی ہلاکت نے بہت سے سوالات پیدا کر دیے ہیں۔ جبکہ حماس کی طرف اسرائیلی شہروں پر چار ہزار سے زیادہ راکٹ فائر کیے گئے۔
جس کے نتیجے میں ایک اسرائیلی فوجی اور ایک بچے سمیت 12 افراد ہلاک ہوئے۔ غزہ میں کچھ خاندان اپنے پیاروں کی اموات کا سوگ منا رہے ہیں جبکہ دیگر افراد گزشتہ ہفتوں میں جن تجربات سے انہیں گزرنا پڑا اْس کی اذیتوں اور ذہنی الجھنوں کے ازالے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس وقت غزہ کے علاقے میں ہر طرف اسرائیلی فضائی حملے اور گولہ باری کی گرج لوگوں کی گفتگو کا مرکزی موضوع ہے۔ غزہ پٹی کے زیادہ تر رہائشیوں کا یہ ماننا ہے کہ گزشتہ چند روز ان کے لیے 2014 کی طریل جنگ سے بھی زیادہ دشوار تھے۔



