تلنگانہ کی خبریںسرورق

اردو آفیسرس کی خدمات کو ضلع کلکٹریٹس سے واپس طلب کرنے پر تنازعہ

کلکٹریٹس میں اردو کا کام نہیں رہا، ضلع اقلیتی بہبود دفاترمیں تعیناتی سے اسکیمات پر عمل آوری میں مدد ملے گی

حیدرآباد ۔:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)سرکاری محکمہ جات میں اردو زبان کے استعمال اور اردو میں موصول ہونے والی درخواستوں کو اعلیٰ عہدیداروں تک پہنچنے کیلئے تقرر کردہ اردو آفیسرس کے بارے میں حکومت کا حالیہ فیصلہ تنازعہ کا سبب بن چکا ہے ۔ حکومت نے ضلع کلکٹرس میں متعین کئے گئے اردو آفیسرس کی خدمات کو متعلقہ ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفس منتقل کردیا ہے تاکہ اقلیتی بہبود کی اسکیمات پر موثر عمل آوری میں اردو آفیسرس اپنا رول ادا کرسکیں۔ کمشنر اقلیتی بہبود نے 10 فروری کو احکامات جاری کرتے ہوئے 26 اردو آفیسرس کو ضلع کلکٹریٹس سے ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفس منتقل کرتے ہوئے اردو آفیسرس کو فوری رپورٹ کرنے کی ہدایت دی ہے۔ 26 اردو آفیسرس کی خدمات ضلع کلکٹریٹ کے بجائے ڈی ایم ڈبلیو او آفس منتقل کی گئیں جبکہ 7 اضلاع میں ضلع کلکٹریٹس میں اردو آفیسرس نہیں تھے، لہذا ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفس میں اردو آفیسرس کی تعیناتی باقی ہے۔

احکامات میں کہا گیا ہے کہ اردو آفیسرس ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفس میں اردو سے انگلش اور تلگو اور انگلش اور تلگو سے اردو میں ٹرانسلیشن کا کام انجام دیتے ہوئے اقلیتی بہبود کی اسکیمات پر عمل آوری میں مدد کریں۔ ضلع کلکٹریٹس سے میناریٹی ویلفیر دفاتر خدمات کی منتقلی سے اردو آفیسرس میں بے چینی پائی جاتی ہے اور وہ اس فیصلہ کو ناانصافی قرار دے رہے ہیں۔ اردو آفیسرس نے احکامات واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری طرف حکومت کے عہدیداروں کا استدلال ہے کہ اقلیتوں کی بہتر خدمت اور اسکیمات پر عمل آوری میں تعاون کیلئے اردو آفیسرس کو کلکٹریٹ کے بجائے میناریٹی ویلفیر دفاتر میں تعینات کیا گیا ہے ۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ضلع کلکٹریٹ میں اردو آفیسرس کی خدمات دیگر شعبہ جات میں حاصل کی جارہی تھیں کیونکہ اردو میں درخواستیں وصول نہیں ہورہی ہیں اور کئی اضلاع ایسے ہیں جہاں اقلیتوں بالخصوص اردو داں طبقہ کی آبادی کم ہے۔ اقلیتی فرقہ کے افراد بھی انگریزی یا تلگو میں درخواستیں داخل کر رہے ہیں، لہذا اردو آفیسرس کا رول برائے نام ہوچکا ہے جس کے نتیجہ میں اردو آفیسرس کو ڈیٹا انٹری آپریٹرس یا کلرک کے طورپر استعمال کیا جارہا ہے۔

اردو آفیسرس کی تنخواہ رخصت اور دیگر امور کی تکمیل کمشنر اقلیتی بہبود کے تحت ہے اور 33 اضلاع سے اٹینڈینس کی تفصیلات ملنے کے بعد ہی تنخواہوں کی بل تیار کئے جاتے ہیں جس کے نتیجہ میں تنخواہوں کی اجرائی میں تاخیر کی شکایت ہیں۔ ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسرس کے دفاتر میں اردو آفیسرس کی تعیناتی میں نہ صرف اقلیتی امیدواروں اور دیگر ضرورتمندوں کی مدد ہوگی بلکہ انہیں بروقت تنخواہیں حاصل ہوں گی۔ اقلیتی بہبود کی اسکیمات پر موثر عمل آوری میں اردو آفیسرس اپنی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے اقلیتوں کی مدد کرسکتے ہیں۔ حکومت نے اقلیتوں اور اقلیتی اسکیمات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اردو آفیسرس کی خدمات کو کلکٹریٹس سے منتقل کردیا ہے۔ اقلیتی بہبود دفاتر میں اسٹاف کی کمی کے باعث عوام کو مسائل کے حل میں دشواریوں کا سامنا تھا ۔ امید کی جارہی ہے کہ اردو آفیسرس کی تعیناتی سے اسٹاف کی کمی کا مسئلہ بھی حل ہوجائے گا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button