قومی خبریں

حکومت کو اقتصادی پالیسیوں کو دوبارہ طے کرنے پر غور کرناچاہیے پی چدمبرم نے کہا،مہنگائی کے لیے یوکرین جنگ نہیں،سرکارکی غلط پالیسی ذمے دار

ادے پور14مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ہندوستانی معیشت کی حالت پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کانگریس کے سینئر لیڈر پی چدمبرم نے کہاہے کہ عالمی اور مقامی پیش رفت کے تناظر میں یہ ضروری ہو گیا ہے کہ لبرلائزیشن کے 30 سال بعد اب معاشی پالیسیوں پر دوبارہ غور کیا جائے۔سابق وزیر خزانہ نے مرکزی حکومت پر زور دیاہیے کہ وہ ریاستوں کی خراب مالی حالت کے پیش نظر گڈز اینڈ سروسز ٹیکس (جی ایس ٹی) کے معاوضے کی مدت میں مزید تین سال تک توسیع کرے۔ انہوں نے کہاہے کہ اب مرکز اور ریاستوں کے درمیان مالیاتی تعلقات کا جامع جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کانگریس کے چنتن شیویرکے لیے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے کنوینرپی چدمبرم نے معیشت کی حالت پر تشویش کااظہارکیاہے۔ انہوں نے کہاہے کہ آزادی کے 30 سالوں کے بعدیہ احساس ہوا ہے کہ عالمی اورمقامی پیش رفت کو مدنظر رکھتے ہوئے اقتصادی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔سابق وزیر خزانہ نے یہ بھی کہاہے کہ اقتصادی پالیسیوں کو دوبارہ طے کرنے کے ان کے مطالبے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ کانگریس لبرلائزیشن سے پیچھے ہٹ رہی ہے۔

بلکہ پارٹی لبرلائزیشن کے بعد آگے بڑھ رہی ہے۔ کوآرڈینیشن کمیٹی کے اجلاس میں ہونے والی بات چیت سے اخذ کردہ نتائج کا حوالہ دیتے ہوئے پی چدمبرم نے کہاہے کہ ہندوستانی معیشت کی حالت تشویشناک ہے۔ پچھلے آٹھ سالوں میں سست اقتصادی ترقی کی شرح مرکز میں برسراقتدار نریندر مودی حکومت کی پہچان رہی ہے۔انہوں نے دعویٰ کیاہے کہ وبائی بیماری کے بعد معیشت میں بحالی بہت معمولی اور رکاوٹوں سے بھری ہوئی ہے۔ پچھلے پانچ مہینوں کے دوران 2022-23 کی ترقی کی پیشن گوئی وقتاً فوقتاً کم ہوتی رہی ہے۔پی چدمبرم نے کہا ہے کہ افراط زر ناقابل قبول سطح پر پہنچ گیا ہے اور اس میں مزید اضافہ جاری رہنے کا امکان ہے۔ ان کے مطابق روزگارکی صورت حال اتنی خراب کبھی نہیں تھی جتنی آج ہے۔

انہوں نے الزام لگایا ہے کہ حکومت پیٹرول اور ڈیزل پر ٹیکس بڑھانے اور جی ایس ٹی کی بلند شرح کو برقرار رکھنے جیسی اپنی غلط پالیسیوں سے مہنگائی کی آگ میں تیل کا اضافہ کر رہی ہے۔جی ایس ٹی کے بقایا جات کا ذکر کرتے ہوئے پی چدمبرم نے کہاہے کہ مرکز اور ریاستوں کے درمیان مالیاتی تعلقات کا جامع جائزہ لینے کا وقت آگیا ہے۔انہوں نے حکومت پر زور دیاہے کہ ریاستوں کی خراب حالت کو دیکھتے ہوئے انہیں جی ایس ٹی کی مد میں معاوضہ دینے کی مدت کو اگلے تین سال کے لیے بڑھایا جائے، جو 30 جون کو ختم ہو رہی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں سابق وزیر داخلہ نے کہاہے کہ نریندر مودی حکومت میں مرکز اور ریاستوں کے درمیان اعتماد پوری طرح ختم ہو چکا ہے۔سابق وزیر خزانہ نے کہاہے کہ حکومت ہند خام تیل کی قیمتوں میں اضافے پر مہنگائی کو مورد الزام نہیں ٹھہرا سکتی ہے۔ مہنگائی میں اضافہ یوکرائن کی جنگ شروع ہونے سے پہلے سے ہو رہا ہے۔

ان کے مطابق، یہ ایک ’’غیر تسلی بخش عذر‘‘ ہے کہ یوکرین کے بحران کی وجہ سے مہنگائی بڑھ رہی ہے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بیرونی صورتحال نے معیشت پر دباؤ ضرور بڑھایا ہے لیکن حکومت اس بات سے غافل ہے کہ ان حالات سے کیسے نمٹا جائے۔ گزشتہ سات ماہ میں 22 ارب ڈالر ملک سے باہر گئے۔ زرمبادلہ کے ذخائر میں 36 ارب ڈالر کی کمی ہوئی ہے۔ ڈالر کے مقابلے روپیہ گر کر 77.48 روپے پر آگیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button