
دبئی ، 21اگست:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)افغان صدر اشرف غنی کے علاہ اور بھی کئی ایسے حکمران ہیں، جنہوں نے اس وقت خلیجی ریاستوں میں پناہ لی ہوئی ہے۔ #خلیجی ریاستیں #بھگوڑے #حکمرانوں کی #آماجگاہیں بنتی جا رہی ہیں۔اقتدار کو چھوڑ کر اشرف غنی متحدہ عرب ریاست میں ہیں۔ اس ریاست میں پہلے مالی اسکینڈل کا شکار ہونے والے ہسپانوی بادشاہ خوان کارلوس اول نے سن 2014 میں رہائش اختیار کی تھی۔ انہوں نے ملک چھوڑنے سے پہلے بادشاہت سے دستبرداری کا اعلان کرتے ہوئے #شاہی منصب اپنے بیٹے فیلپے کے حوالے کیا، جو اب اسپین کے دستوری #بادشاہ ہیں۔ان کے علاوہ آسیان تنظیم کے رکن ملک تھائی لینڈ کے دو وزیر اعظم #تھاکس شیناوترا اور یِنگ لک شیناوترا بھی اسی ریاست میں مقیم ہیں۔
ان کا تعلق تھاکسن خاندان سے ہے۔یہ امر اہم ہے کہ متحدہ عرب امارات کے قرب میں واقع ایک اور خلیجی ریاست قطر نے افغان طالبان کی قیادت کو برسوں اپنی ریاست میں پناہ دیے رکھی۔ایسے ہی سعودی عرب میں بھی یوگنڈا کے سابق ڈکٹیٹر عیدی امین، تیونس کے مفرور ڈکٹیٹر زین العابدین بن علی اور سابق پاکستانی وزیر اعظم #نواز شریف سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں ایک معاہدے کے تحت #سعودی عرب میں دس برس گزار چکے ہیں۔
اشرف غنی پندرہ اگست بروز اتوار قریبی سکیورٹی کی مدد سے ملکی ایوانِ اقتدار کو خیرباد کہہ کر کسی اجنبی ملک کے لیے روانہ ہوئے تھے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق وہ وسطی ایشیا کی ریاست ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند پہنچے تھے۔ ان کے بارے میں ایسی افواہیں بھی گردش کرتی رہی تھیں کہ وہ ملک کے اندر ہی روپوشی کی حالت میں ہیں۔ انہتر ملین ڈالر لے کر فرار ہوئے تھے۔
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس دولت کی واپسی کے لیے اشرف غنی کا انٹرپول کے ذریعے ریڈ وارنٹ بھی جاری کروانے کا مطالبہ نئی طالبان کی حکومت سے کیا جائے گا۔ اسی طرح کابل میں روسی سفارت خانے کا کہنا ہے کہ غنی کے پاس ڈالروں کا اتنا حجم تھا کہ وہ جب ہیلی کاپٹر میں سما نہیں سکے تو وہ ڈالر ہوائی ادٹے کے ٹارمک پر ہی بکھرے چھوڑ گئے۔ روسی سفارت خانے کا بیان روسی نیوز ایجنسی ریا نووستی (RIA Novosti ) نے جاری کیا تھا۔
اس خلیجی ریاست نے بدھ اٹھارہ اگست کو اشرف غنی اور ان کے خاندان کی وہ درخواست قبول کی تھی، جس میں ریاستی انتظامیہ کو انہیں رہائش فراہم کرنے کا کہا گیا تھا۔ ابوظہبی کے حکام نے اس درخواست کو انسانی بنیاد پر قبول کرنے کا بھی بتایا۔یہ امر اہم ہے کہ اشرف غنی کو اس انداز میں ملک سے فرار ہونے پر ان کی کابینہ نے نامناسب خیال کیا اور تنقید بھی کی تھی۔ غنی کے فرار ہونے کے بعد طالبان چاروں طرف سے کابل پہنچ گئے اور قریب قریب سارے ملک پر کنٹرول مکمل کر لیا۔



