بین الاقوامی خبریں

میانمار فوجی حکومت کے سربراہ (من آنگ ہلنگ) آسیان سمٹ سے باہر کر دیئے گئے

لندن، 17اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)آسیان سمٹ میں میانمار کی فوجی حکومت کے سربراہ من آنگ ہلنگ (Min Aung Hlaing) کی جگہ ایک غیر سیاسی نمائندے کو شرکت کا موقع دیا جائے گا۔ آسیان تنظیم نے فوجی حکومت کے کریک ڈاؤن کے سلسلے پر بھی مایوسی ظاہر کی ہے۔جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم آسیان کا سربراہ اجلاس رواں ماہ کے آخری ہفتے میں چھبیس سے اٹھائیس اکتوبر تک برونائی کے دارالحکومت بندر سری بھگوان میں ہو گا۔

اردودنیا ایپ انسٹال کے لیے کلک کریں

اس تنظیم نے ہفتہ سولہ اکتوبر کو اپنے ایک بیان میں کہا کہ سربراہ اجلاس میں میانمار کی فوجی حکومت کے سربراہ کو شرکت کی دعوت نہیں دی جائے گی۔ ان کی جگہ میانمار سے ایک غیر سیاسی نمائندے کو مدعو کیا جائے گا۔

تنظیم نے واضح کیا کہ وہ اس فیصلے پر مجبور ہو گئی ہے کیونکہ میانمار کی فوجی حکومت پرامن نظام الاوقات کے ساتھ وابستہ رہنے اور اس پر عمل پیرا ہونے میں یقین دہانی کرانے کے باوجود ناکام رہی ہے۔

فوجی حکومت نے آسیان کو یہ یقین دہانی رواں برس یکم فروری کی فوجی بغاوت کے بعد کرائی تھی۔میانمار میں فوجی حکومت کے سربراہ کے خلاف عوامی جلوسوں میں خاص طور پر مذمتی نعرے بازی کی جاتی ہے۔

آسیان کے مطابق اب تک فوجی حکومت کے سکیورٹی اہلکاروں نے جمہوری حکومت کی بحالی کے لیے نکالے جانے والے جلوسوں اور جلسوں پر فائرنگ کر کے ایک ہزار سے زائد افراد کو ہلاک بھی کر دیا ہے اور سینکڑوں افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں۔

ہلاکتوں کی یہ تعداد اقوام متحدہ کے اعداد و شمار سے حاصل کی گئی ہے۔ فوجی حکومت کی بغاوت سے ایک دہائی تک جاری رہنے والے سویلین حکومت کے دور کا خاتمہ ہو گیا تھا۔ فوجی حکومت کے اس اقدام کی عالمی برادری نے مذمت کے ساتھ ساتھ کئی پابندیوں کا بھی نفاذ کر دیا ہے۔

آسیان تنظیم کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کی ایک ہنگامی میٹنگ جمعہ پندرہ اکتوبر کو برونائی میں ہوئی اور اسی میں میانمار کی فوجی حکومت کے سربراہ کو سربراہ اجلاس میں شریک نہ ہونے کا فیصلہ لیا گیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button