بلقیس بانو کیس کی سماعت 3 ہفتوں کے لیے ملتوی رہا ہونے والے مجرموں کو بھی موقف پیش کرنے کا ملے گا موقع
نئی دہلی ،9ستمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)سپریم کورٹ میں بلقیس بانو کیس کے مجرموں کی رہائی کے خلاف درخواست پر سماعت 3 ہفتوں کے لیے ملتوی کردی گئی۔ رہائی پانے والے 11 مجرموں کو فریق بنانے میں درخواست گزاروں کی جانب سے تاخیر کی وجہ سے یہ سماعت ملتوی کی گئی ہے۔ عدالت چاہتی ہے کہ وہ لوگ بھی اس معاملے میں جواب داخل کریں۔ اس کے ساتھ عدالت نے گجرات حکومت سے 2 ہفتے کے اندر درخواست پر جواب داخل کرنے کو بھی کہا ہے۔بلقیس بانو کیس کے مجرموں کو 15 اگست کو رہا کیا گیا تھا۔ سی پی ایم لیڈر سبھاشنی علی، سماجی کارکن روکھین ورما، ریوتی لال اور ترنمول کانگریس لیڈر مہوا موئترا نے اس رہائی سے متعلق گجرات حکومت کے حکم کو منسوخ کرنے کے لیے سپریم کورٹ میں عرضیاں دائر کی تھیں۔
25 اگست کو اس وقت کے چیف جسٹس این وی رمنا، جسٹس اجے رستوگی اور وکرم ناتھ کے بنچ نے اس پر نوٹس جاری کیا تھا۔ عدالت نے کہا کہ اس معاملہ کی سماعت 2 ہفتے بعد کی جائے گی۔پچھلی سماعت میں عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ درخواست گزار رہائی پانے والے مجرموں کو بھی کیس میں فریق بنائیں، لیکن آج مجرموں کے وکیل رشی ملہوترا نے ججوں کو بتایا کہ درخواست گزاروں نے انہیں فریق بنانے کے لیے درخواست دائر کی ہے۔ کل ابھی تک انہیں درخواستوں کی کاپی بھی نہیں ملی ہے تاکہ وہ جواب داخل کر سکیں۔
اس صورتحال پر غور کرتے ہوئے جسٹس اجے رستوگی اور وکرم ناتھ کی بنچ نے کیس کی سماعت 3 ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی ہے۔ خیال رہے کہ 2002 کے مسلم کش گجرات فسادات کے دوران، داہود ضلع کے رندھیک پور گاؤں کی بلقیس بانو نامی خاتون اپنے خاندان کے 16 افراد کے ساتھ بھاگ کر قریبی گاؤں کے کھیتوں میں پناہ لی تھی ، 3 مارچ 2002 کو 20 سے زیادہ ہندو فسادیوں نے وہاں حملہ کردیا، 5 ماہ کی حاملہ بلقیس سمیت کچھ اور خواتین کے ساتھ زیادتی کی گئی۔ بلقیس کی 3 سالہ بیٹی سمیت 7 افراد کو قتل بھی کیا گیا ۔
سپریم کورٹ نے ملزم کی جانب سے متاثرہ فریق پر دباؤ ڈالنے کی شکایت موصول ہونے کے بعد کیس کو مہاراشٹرا منتقل کردیا تھا۔ 21 جنوری 2008 کو ممبئی کی ایک خصوصی سی بی آئی عدالت نے 11 لوگوں کو عمر قید کی سزا سنائی۔ 2017 میں بامبے ہائی کورٹ نے اس سزا کو برقرار رکھا۔اس کیس کے مجرموں میں سے ایک رادھے شیام شاہ کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے اس سال 13 مئی کو تسلیم کیا تھا کہ اسے 2008 میں عمر قید کی سزا ہوئی تھی۔ اس لیے 2014 میں بنائے گئے سخت رہائی کے قوانین اس پر لاگو نہیں ہوں گے۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کی بنیاد پرگجرات حکومت نے تمام 11 مجرموں کی رہائی کی درخواستوں پر غور کیا اور 1992 کے قواعد کے مطابق انہیں رہا کردیا۔یہ تمام لوگ 14 سال سے زیادہ جیل میں گزار چکے ہیں۔



