چار ماہ سے کوئی معاوضہ جاری نہیں کیا گیا ۔ اقلیتوں کے مسائل اور ان کی یکسوئی سے حکومت کی لاپرواہی کا ایک اور ثبوت
حیدرآباد:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) تلنگانہ کے آئمہ اور موذنین کی عیدالاضحی سے قبل دو ماہ کے اعزازیہ کی رقم جاری کرکے تیسرے ماہ کی رقم ایک ہفتہ میں جاری کرنے کا وعدہ کیا گیا ، تاہم چار ماہ کی تکمیل کے باوجود آئمہ اور موذنین کا اعزازیہ جاری نہیں ہوا ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت اقلیتو ں کیلئے کتنی سنجیدہ ہے ۔ واضح رہے کہ تلنگانہ میں تقریباً 10ہزار آئمہ اور موذنین کو ماہانہ فی کس صرف 5 ہزار روپئے اعزازیہ دیا جاتا ہے ۔ آئمہ کی تعداد 5352 ہے جبکہ 4548 موذنین بھی استفادہ کررہے ہیں ۔ عیدالاضحی سے قبل آئمہ اور موذنین کے اعزازیہ کے تین ماہ کے بقایا جات تھے ۔
روزنامہ ’سیاست‘ نے حکومت اور وقف بورڈ کو توجہ دلائی تھی ۔ سیاست میں خبر کی اشاعت کے بعد وزیر داخلہ محمد محمود علی نے وزیر فینانس ہریش راؤ سے اس مسئلہ پر بات کی تھی جس کے بعد ہریش راؤ نے محکمہ فینانس کو گرانٹ ان ایڈ کے تحت وقف بورڈ کو بجٹ جاری کرنے ہدایت دی تھی اور محکمہ فینانس نے 17کروڑ کا بجٹ جاری کیا ، تب آئمہ و موذنین کو اپریل و مئی کے اعزازیہ سے متعلق بقایا جات جاری کئے گئے ۔ تاہم اس کے بعد ابھی تک آئمہ و موذنین کو اعزازیہ جاری نہیں کیا گیا ۔ اقلیتی بجٹ کی اجرائی میں ٹال مٹول کی جارہی ہے جبکہ مندر پچاریوں اور دیگر عملہ کو ہرماہ پہلی تاریخ کو سرکاری ملازمین کی طرز پر ٹریژری سے معاوضہ ادا کیا جارہا ہے ۔ نہ ان کا کبھی بجٹ رکا اور نہ پجاریوں کے کبھی بقایاجات رہے ۔
حکومت سماج کے تمام طبقات سے انصاف کرنے اور اقلیتوں کی فلاح و بہبود میں عہد کی پابند ہونے کا اعلان کرتی ہے ۔ مگر جب وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کا وقت آتا ہے ٹال مٹول کی پالیسی اپنائی جاتی ہے ۔ جہاں محکمہ اقلیتی بہبود کی کارکردگی پر سوالیہ نشان اٹھتا ہے وہیں حکمران جماعت کے منتخب اور نامزد عہدوں پر فائز قائدین کے درمیان اتحاد کے فقدان سے بھی اقلیتی مسائل جوں کے توں رہ جاتے ہیں اور ان میں اضافہ ہوتا ہے ۔ آئمہ و موذنین کا مالی موقف انتہائی کمزور ہے ۔ مساجد کی خدمات سے انہیں جو بھی مالی امداد ملتی ہے اس سے روزمرہ اخراجات گھروں کے کرایہ ، تعلیمی اخراجات کا پورا ہونا ناممکن ہے اور حالیہ دنوں میں پٹرول ڈیزل و اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ سے ہر گھر کا بجٹ 40 تا 50 فیصد بڑھ گیا ہے ۔
حکومت کو تمام پہلوؤں کا سنجیدگی سے جائزہ لے کر اعزازیہ سے استفادہ کرنے والے آئمہ موذنین کی تعداد میں اضافہ کرنے کے ساتھ معاوضہ میں اضافہ کرنا چاہیئے ۔ مگر ابھی موجودہ معاوضہ کی اجرائی میں مہنوں تاخیر کی جارہی ہے جس سے مسلمانوں میں مایوسی اور ناراضگی پائی جاتی ہے ۔



