سرورقسیاسی و مذہبی مضامین

مومن کی زندگی میں توبہ کی اہمیت

توبہ کی حقیقت بندے کا اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے

توبہ ! یہ زبان سے توبہ کا لفظ بولنےکا نام نہیں یہ اپنی گنہگاری کے شدید احساس کا نام ہے اورآدمی اگر اپنی توبہ میں سنجیدہ ہو اورواقعی شدت کیساتھ اس نے اپنی گنہگاری کو محسوس کیا ہوتو آدمی کیلئے اتنا سخت معاملہ ہوتاہے کہ توبہ آدمی کیلئے اپنی سزا آپ دینے کےہم معنی بن جاتی ہے یہ کیفیت آدمی کے اندر اگر اللہ کےڈرسے پیداہوئی ہوتو اللہ ضرور اس کومعاف کردیتا ہے

مگر ان لوگوں کی توبہ کی اللہ کے نزدیک کوئی قیمت نہیں جو اتنے جری ہوں کہ جان بوجھ کر اللہ کی نافرمانی کرتےرہیں اور تنبیہ کے باوجود اس پرقائم رہیں البتہ جب دنیاسےجانےکا وقت آجائےتو کہیں کہ میں نے توبہ کی اسی طرح ان لوگوں کی توبہ بھی بےفائدہ ہوجوآخرت میں عذاب کوسامنے دیکھ کراپنےجرم کااقرارکریں گے۔

توبہ کی حقیقت بندے کا اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے تاکہ اسکا رب بھی اس کی طرف پلٹے ،توبہ اس شخص کیلئے ہے جووقتی جذبہ سےمغلوب ہوکر بری حرکت کربیٹھے پھرا س کااحتساب نفس جلدہی اس کو اپنی غلطی کا احساس کرادے ،وہ برائی کوچھوڑ کردوبارہ نیکی کی روش اختیارکرے اورشریعت کےمطابق اپنی زندگی کی اصلاح کرلے ایساہی آدمی توبہ کرنیوالا ہے اورجوشخص اس طرح توبہ کرےاس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے گھرکا بھٹکا ہوا آدمی دوبارہ اپنے گھرواپس آجائے ۔

یعنی گناہ اور قصور تو انسان کی صفت ہے، کیااس کی وجہ سے اللہ کا دربار چھوڑ دیا جائے اور اللہ کا دربار چھوڑ کر جائے پناہ بھی کہاں ہے جس کا سہارا لیا جائے، اس لیے تمام گنہگار اللہ سے توبہ کریں اور ندامت کے آنسو بہاکر اللہ سے معافی مانگیں وہ یقینا معاف کرے گا اور خطاؤں کو بخش دیگا۔

گناہ پر اصرار یعنی بے فکری اور بے خوفی کے ساتھ گناہ کرتے رہنا اوراس پر قائم و دائم رہنا بڑی بدبختی اور بہت برے انجام کی نشانی ہے اور ایسا عادی مجرم اللہ کی رحمت کا مستحق نہیں، اس لیے احادیث میں گناہ پر ندامت اور توبہ کی تاکید کی گئی ہے، اگرچہ بظاہر گناہ کا کوئی عمل معلوم نہ ہو پھر بھی توبہ کی عادت بنالینی چاہیے،

اس لئےکہ توبہ عاصیوں اور گنہگاروں کیلئے مغفرت و رحمت کا ذریعہ اورمقربین و معصومین کیلئے درجات قرب و محبوبیت میں بے انتہا ترقی کا وسیلہ ہے۔یہی وجہ ہے کہ رسول اکرمﷺ ایک ایک دن میں ستر مرتبہ اور ایک روایت کے مطابق سو مرتبہ توبہ و استغفار فرماتے تھے۔ اس میں صالحین اور نیکوکاروں کیلئے بڑی نصیحت اور عبرت مضمر ہے ممکن ہے کہ کوئی گناہ ہوگیاہو اور یاد نہ ہو تو توبہ کے ذریعہ وہ معاف ہوجائے گا اور اگر واقعتا کوئی گناہ نہیں ہوا ہے تو ترقی کا ذریعہ ثابت ہوگا جس کا ہر شخص محتاج ہے۔

آپﷺکے ستر مرتبہ توبہ و استغفار کے عمل سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ اگرکسی گناہ پر ایک مرتبہ توبہ کرنے کے بعد پھر سے وہی گناہ ہوجائے تو پھر سے توبہ کرلی جائے، اس میں شرم کرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ ایک گناہ کا بارہا ارتکاب ہورہا ہے بلکہ متعدد مرتبہ غلطیوں سے استغفار سے اللہ تعالیٰ خوش ہوتا ہے اور اس توبہ واستغفار کے نتیجہ میں گناہ کو ترک کرنے کا داعیہ پیدا کردیا جاتا ہے۔ 

یعنی کوشش رہے کہ ایک مرتبہ توبہ کے بعد توبہ نہ ٹوٹے، لیکن اگر بسیار کوشش کے باوجود توبہ ٹوٹ ہی گئی اور وہی گناہ دوبارہ سرزد ہوگیا تو مایوس نہ ہو، پھر توبہ کرکے خدا سے اپنا تعلق جوڑ لواور ایک دن میں بار بار یہ واقعہ پیش آئے تو ہر بار اللہ کے حضور توبہ کرکے گناہوں سے نجات حاصل کرلو۔ یہ اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت اور شان کریمی کی بات ہے کہ ایک گنہگار اورمجرم کیلئے پوری زندگی اللہ کی طرف رجوع کرنے کا موقع فراہم کیا گیا کہ جب بھی اللہ کا خوف پیدا ہو توبہ کرکے اللہ کے نزدیک بندوں میں شمولیت اختیار کی جاسکتی ہے۔

گویا گناہوں سے توبہ کا یہ سلسلہ موت تک قابل قبول ہے،

لیکن کیا معلوم زندگی کا چراغ کب بجھ جائے، اس لیے گنہگاروں اور خطا کاروں کو توبہ کرنے میں دیر نہ کرنی چاہئے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام مقدس میں بار بار ہمیں توبہ کرنے کی تلقین فرمائی ہے، اختصار کے پیش نظر صرف دو آیات پیش ہیں’’اے مؤمنو! تم سب اللہ کے سامنے توبہ کرو، تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ (سورۃ النور ۳۱) اے ایمان والو! اللہ کے سامنے سچی توبہ کروبہت ممکن ہے کہ تمہارا پروردگار تمہارے گناہ معاف کرکے تمہیں جنت میں داخل کردے۔(سورۃالتحریم ۸) پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ توبہ کرنے والے کامیاب ہیں، دوسری آیت میں ارشاد فرمایا کہ سچی توبہ کرنے والوں کے گناہ معاف کردئے جاتے ہیں اور ان کو جنت میں داخل کیا جائے گا

 نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایاجو شخص پابندی سے استغفار کرتا رہے یعنی اپنے گناہوں سے معافی طلب کرتا رہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے ہر تنگی سے نکلنے کا راستہ بنادیتے ہیں۔ ہر غم سے اسے نجات عطا فرماتے ہیں۔ اور ایسی جگہ سے روزی عطا فرماتے ہیں کہ جہاں سے اس کو گمان بھی نہیں ہوتا۔

کوئی شخص کب تک توبہ کرسکتا ہے؟حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ اپنے بندہ کی توبہ اس وقت تک قبول فرماتا ہے جب تک وہ نزاع کی حالت کو نہ پہنچ جائے۔ یعنی جب انسان کا آخری وقت آجاتا ہے تو پھر اس کی توبہ اللہ تعالیٰ قبول نہیں کرتے ہیں۔ موت کا وقت اور جگہ سوائے اللہ تعالیٰ کی ذات کے کسی کو معلوم نہیں۔ چنانچہ بعض بچپن میں، توبعض نوجوانی میں اور بعض ادھیڑ عمر میں، جبکہ باقی بڑھاپے میں داعی اجل کو لبیک کہہ جاتے ہیں۔

بعض صحت مند تندرست نوجوان سواری پر سوار ہوتے ہیں لیکن انہیں نہیں معلوم کہ وہ موت کی سواری پر سوار ہوچکے ہیں، یہی دنیاوی فانی وقتی زندگی‘ اخروی ابدی زندگی کی تیاری کے لئے پہلا اور آخری موقع ہے۔ لہذا ضروری ہے کہ ہم افسوس کرنے یا خون کے آنسو بہانے سے قبل اس دنیاوی فانی زندگی میں ہی اپنے گناہوں سے توبہ کرکے ا پنے مولی کو راضی کرنے کی کوشش کریں تاکہ ہماری روح ہمارے بدن سے اس حال میں جُدا ہو کہ ہمارا خالق و مالک ہم سے راضی ہوجائے۔

تمام بنی آدم بہت خطاکار ہیں ‘لیکن ان خطاکاروں میں بہتر وہ ہیں جوبار بار توبہ کرنے والے ہیں یعنی غلطی ہو گئی تو توبہ کر لیں. توبہ کے لیے یہ شرط نہیں ہے کہ پھر کبھی وہ غلطی نہ ہو اصل بات یہ ہے کہ اس وقت آپ یہ عہد کر لیں کہ یہ کام مجھے نہیں کرنا اور ایک دفعہ وہ کام چھوڑ دیں تو توبہ ہو گئی اگر کچھ عرصے کے بعد آپ پھر جذبات کی رو میں بہہ گئے یا آپ پر برے اثرات پڑے اور آپ سے وہ غلطی دوبارہ سرزد ہو گئی تو کوئی بات نہیں آپ پھر توبہ کر لیں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایاگناہ سے توبہ کرنے والا ایسے ہے جیسے اس نے کبھی گناہ کیا ہی نہیں۔

اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے بچے تختی لکھنے کے بعد اسے دھوتے ہیں تو وہ اس طرح صاف ہو جاتی ہے جیسے کبھی اس پر کچھ لکھا ہی نہ گیا ہو.یہی حال توبہ کرنے والے کا ہے کہ جب انسان توبہ کر لیتا ہے تو وہ ایسے پاک صاف ہو جاتا ہے جیسے اس نے پہلے وہ گناہ کبھی کیا ہی نہ ہو. یہ حدیث قرآن کے ان الفاظ کی بعینہٖ تشریح ہے : عَسٰی رَبُّکُمْ اَنْ یُّـکَفِّرَ عَنْکُمْ سَیِّاٰتِکُمْ اور یہ عیسائیت کے عقیدۂ کفارہ کا رد ہے جو کہتے ہیں کہ حضرت آدم کے گناہ کا اثر ہر پیدا ہونے والا بچہ لے کر آتا ہے ‘

حالانکہ حضرت آدم نے غلطی ہو جانے کے بعد اللہ کی طرف سے القا کئے گئے کلمات سے توبہ کر لی تھی اور اللہ نے ان کی توبہ کو قبول کر لیا تھا. چنانچہ حضرت آدم توبہ کے بعد ایسے پاک صاف ہو گئے جیسے انہوں نے وہ گناہ کیا ہی نہ ہو. اب جب گناہ ہی نہیں رہا تو پھر اس کا اثر ہر پیدا ہونے والے بچہ پر کیسے آسکتا ہے؟ 

قرآن وحدیث کی مذکورہ تصریحات سے واضح ہوا کہ انسان غفلت و گمراہی کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوب جائے اور دل میں ہمہ وقت موجزن رہنے والی خواہشات سے نبردآزمائی کے بجائے نفسِ امارہ کی لغزشوں کی رُو میں بہہ جائے، دنیوی لذتوں میں محو ہوکر اپنے رحیم و کریم آقا و مالک کے احکام و فرامین سے روگردانی کرے اور اس کی نافذ کردہ حدود و قیود سے منہ موڑ لے تو پھر آفاتِ ارضی و سماوی، آزمائش اور ابتلاء کی صورت نازل ہونے لگتی ہیں،مثلاً قحط،طوفان ، سیلاب، ٹڈی دل، غذائی قلت، بے چینی، بے اطمینانی ، خوف و افلاس، مختلف وبائیں، لاعلاج امراض اور دیگر مہلک حیاتیاتی جرثومے وغیرہ دراصل یہ انسانوں کیلئے تنبیہ و سرزنش کے تازیانے ہیں،

ان تمام آفتوں و آزمائشوں اور ابتلائوں سے بچنے کا واحد طریقہ اللہ ربّ العزت کی بارگاہ عالی میں توبہ یعنی ندامت و شرمندگی کے آنسو اور استغفاریعنی بخشش، مغفرت اور معافی کی درخواست ہے، استغفار کی برکات و ثمرات کیاہیں؟حضرت نوحؑ اپنی نافرمان قوم کو نصیحت فرما رہے ہیں کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’نوحؑ نے اپنی قوم سے فرمایا اپنے پروردگار سے مغفرت مانگو، یقین جانو وہ بہت بخشنے والا ہے،

وہ تم پر آسمان سے رحمت کی خوب بارشیں برسائے گا، اور تمہارے مال اور اولاد میں ترقی دےگا اور تمہارے لئے باغات پیدا کرے گا اور تمہاری خاطر نہریں مہیّا کردے گا اور تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ کی عظمت سے بالکل نہیں ڈرتے۔

مسلمانو!اللہ سے ڈرو! اس لئے کہ تقوی الہی کامیابی و کامرانی ہے، سعادت اور فلاح ہے۔اللہ کے بندو!یہ جان لو کہ بندے کیلئے کمال درجہ اللہ رب العالمین کے سامنے عاجزی اور انکساری میں ہے، اور اس کیلئے ذلت اور رسوائی اللہ تعالی کے سامنے تکبر و سرکشی اور اسکے اوامر و نواہی سے سر گردانی میں ہے، جوشخص عزت چاہتا ہے تو عزت تو تمام تر اللہ ہی کیلئے ہے،

پاکیزہ کلمات اسی کی طرف چڑھتے ہیں اور صالح عمل انہیں اوپر اٹھاتا ہے اور جو لوگ بری چالیں چلتے ہیں تو ایسے لوگوں کے لئے سخت عذاب ہے، اور ان کی چال ہی برباد ہونے والی ہےاور اسی طرح ایک مقام پر فرمایامجھے پکارو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا جو لوگ میری عبادت سے ناک بھوں چڑھاتے ہیں عنقریب ذلیل و خوار ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے۔ 

عبادت کی تمام تر اقسام سے ہی اللہ تعالی کیلئے عاجزی ، انکساری، محبت کا اظہار ہوگا، اور ان عبادات میں سے ایک عظیم عبادت "توبہ "ہے،بلکہ بڑی توبہ سب سے افضل عبادت ہے اور وہ یہ ہے کہ انسان کفر سے توبہ کر لےاور توبہ کا یہ مطلب ہے کہ چھوٹے بڑے تمام گناہوں کو چھوڑ کر اللہ تعالی کی طرف رجوع کیا جائے، اور چاہے اپنے گناہوں کو جانتا ہو یا نہ جانتا ہو سب سے توبہ کرنی ضروری ہے،

اللہ تعالی کی نعمتوں پر شکر ادا کرنے میں جو کمی آئے اس سے بھی توبہ کریں، ایک مسلمان کی زندگی میں اللہ کے ذکر میں آنے والی غفلت سے بھی توبہ کرے، چنانچہ اغر مُزَنِی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (لوگو! اللہ سے توبہ کرو، اور اسی سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگو، میں ایک دن میں سو مرتبہ توبہ کرتا ہوں۔

اللہ تعالی نے توبہ کیلئے خوب ترغیب دلائی ، اورشرائط کی موجودگی میں اسکی قبولیت کا بھی وعدہ کیا ہے، چنانچہ فرمانِ باری تعالی ہے جو شخص توبہ کرے، ایمان لائے، اچھے عمل کرے اور راہ راست پر گامزن رہے تو اسے میں یقینا بہت زیادہ معاف کرنے والا ہوں۔ 

محمد طفیل ندوی جنرل سکریٹری ! امام الہندفاؤنڈیشن ممبئی

متعلقہ خبریں

Back to top button