ماحولیاتی خطرے کی علامت ’ہندوستانی کوا‘ جسے کینیا کی حکومت نمٹنے میں ناکام ہوچکی
منصوبوں کے باوجود کووں کی بڑھتی تعداد اور خطرے کو نہیں روکا جا سکا
لندن،6جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)ہندوستان کوا جسے ہندوستان سے کینیا لایا گیا تھا،اب ملک کے لیے ماحولیاتی خطرے کی علامت قرار دیا جانے لگا ہے۔ اسے کینیا لانے کا مقصد فضلے سے نمٹنے مدد کرنا تھا، مگر یہ پرندہ رہائشیوں اور حکام کے لیے پریشانی کا باعث بن گیا ہے، کیونکہ یہ زراعت اور سیاحت کے شعبوں پر منفی اثر ڈالتا ہے، بیماریاں پھیلاتا ہے، اپنی آوازوں اور گھونسلوں سے مکینوں کو پریشان کرتا ہے۔ کینیا میں اس کی افزائش نسل تیزی سے ہوئی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت ملک میں سات لاکھ کوے موجود ہیں۔کینیا میں وائلڈ لائف ایکٹ کے تحت پرندوں کی درجہ بندی کے بعد اس کی بڑھتی ہوئی تعداد سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے تیار کیے گئے منصوبوں کے باوجود کووں کی بڑھتی تعداد اور خطرے کو نہیں روکا جا سکا۔ ان کووں کی بہتات مقامی ماحولیاتی نظام، کسانوں کی روزی روٹی اور رہائشیوں کے سکون کے لیے ایک خطرہ بن چکا ہے۔
ہندوستانی کوے کو کینیا میں سب سے زیادہ تباہ کن اور حملہ آور پرندوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ وہ اکثر گوشت اور مقامی نسلوں کے پرندوں کے بچوں کو کھاتے ہیں، خاص طور پر نہ صرف پرندے بلکہ ممالیہ اور رینگنے والے جانور بھی ان کی خوراک بننے لگے ہیں۔ اس لیے ماحولیاتی ماہرین کے مطابق ان کا اثر تباہ کن ہے۔ ماہرین اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ کووں نے خطے میں چھوٹے مقامی پرندوں کی تعداد میں نمایاں کمی کی ہے، جس سے نقصان دہ کیڑوں کے پھیلنے کا امکان بڑھ جاتا ہے جو چھوٹے پرندے کھاتے ہیں۔کوے زرعی فصلوں اور مویشیوں کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں، خاص طور پر مرغیوں کو۔ کیونکہ وہ مرغیوں کے چوزوں اور انڈوں کو کھا جاتے ہیں۔
کسانوں کی زہر آلود مہم کے ذریعے کووں کی بڑھتی ہوئی تعداد سے چھٹکارا پانے کی کوششوں کے دوران انہیں دوسرے پڑوسیوں سے آنے والے کووں کی لہروں کا سامنا کرنا پڑا۔شہری علاقوں میں شہری ہندوستانی کووں کی وجہ سے ہونے والی پریشانی کے بارے میں اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ انہیں وہ پُرسکون علاقوں سے اپنے مضبوط وابستگی کی وجہ سے ”گھریلو کوّے” کہنے لگے ہیں، کیونکہ وہ کئی دہائیوں کے دوران بڑے پیمانے پر اضطراب پیدا کر رہے ہیں۔ جنگلی حیات پر ان کے منفی اثرات، پولٹری فارمز کو نقصان پہنچانے سمیت کئی ماحولیاتی مسائل کا باعث بن رہے ہیں۔کووں کی آوازوں سے ہونے والی تکلیف کے علاوہ وہ گھروں اور بالکونیوں کی دیواروں کو مسخ کرتے ہیں۔ سیاحوں کو اپنے بڑے ریوڑ سے خوفزدہ کرتے ہیں۔ ان کی صحت کے لیے خطرہ بن رہے ہیں۔



