بین الاقوامی خبریںسرورق

اسرائیل فوج کی پناہ گزین کیمپ پر پھر بمباری،27 بے گھر افراد شہید

خان یونس صہیونی فوج کی بموں کی بارش، درجنوں فلسطینی شہید اور زخمی

غزہ، 10جولائی:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) اسرائیلی فوج نے غزہ میں پناہ گزین کیمپ پر بمباری کر کے کم از کم 27 فلسطینیوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ یہ پناہ گزین کیمپ اسرائیلی جنگ میں بے گھر ہونے والے فلسطینوں کے لیے ایک اسکول میں قائم کیا گیا تھا۔جسے اسرائیلی فوج نے منگل کے روز بمباری کر کے ایک بار پھر ان بے گھر فلسطینیوں کو بے گھر کر دیا ہے۔ غزہ میں اسپتال کے ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ اس بمباری کے نتیجے میں کم از کم 27 بے گھر فلسطینی جاں بحق ہو گئے ہیں۔بتایا گیا ہے کہ فلسطین کے حالیہ مہینوں میں بے گھر ہونے والے لاکھوں افراد میں سے چند سو اس اسکول میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ اسکول کانام العودہ ہے جو ابسان میں جنوبی غزہ کے شہر خان یونس کے نزدیک قائم تھا۔اسرائیلی بمباری کے بعد زخمیوں کو قریبی نصیر اسپتال لے جایا گیا۔

غزہ میں حماس کی انتطامیہ کا کہنا ہے کہ بمباری کے نتیجے میں 29 بے گھر فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں۔جن میں زیادہ تعداد عورتوں اور بچوں کی ہے۔ غزہ کے سرکاری میڈیا نے اس بمباری سے پہونے والی بے گھر فلسطینیوں کی ہلاکتوں کو ‘خوفناک قتل عام’ کا نام دیا ہے۔تاہم اسرائیلی فوج نے ابھی تک اس بد ترین بمباری کے واقعے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ پچھلے چار دنوں کے دوران اسرائیلی فوج کا اسکولوں میں قائم بے گھر فلسطینیوں کی پناہ گاہوں پر بمباری کا یہ چوتھا واقعہ ہے۔اہم بات یہ ہے کہ بمباری کے پناہ گزین کیمپوں پر واقعات اس وقت سامنے آرہے ہیں جب اسرائیلی مذاکرات کار حماس کے ساتھ معاہدہ کرنے لیے ثالثوں کے توسط سے مذاکرات کر رہے ہیں مگر اسرائیلی فوج ہے کہ اس نے بمباری زیادہ تیز کر رکھی ہے۔

پیر کے روز بھی ایک اسکول کو اسرائیلی فوج نے بمباری سے نشانہ بنایا تھا۔ اس اسکول کو ‘ اونروا ‘ نے قائم کیا تھا اور وہاں بچے قران مجید کی تلاوت کے دوران ہلاک کر دیے گئے تھے۔اونروا کے مطابق اس اسکول میں 2000 بے گھر فلسطینیوں کو پناہ دی گئی ہے تاہم اسکول کی سرگرمیاں بھی کسی حد تک جاری رکھی گئی تھیں۔اونروا کے مطابق اب تک اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں کم از کم 500 افراد صرف اسکولوں میں پناہ لینے کے بعد ہلاک ہو چکے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button