بین الاقوامی خبریں

اسرائیلی فوج الشفا اسپتال سے نکل گئی، تاہم محاصرہ بدستور جاری

اسرائیلی فوج اب غزہ کی پٹی کےسب سے بڑے اسپتال سے نکل کر پیچھے ہٹ گئی

غزہ، 16نومبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) رپورٹ غزہ شہر میں الشفاء میڈیکل کمپلیکس پر دھاوا بولنے اور تلاشی لینے کے بعد اسرائیلی فوج اب غزہ کی پٹی کے اس سب سے بڑے اسپتال سے نکل کر پیچھے ہٹ گئی ہے۔ تاہم صہیونی فوج نے اسپتال کا محاصرہ جاری رکھا ہوا ہے۔نامہ نگار نے یہ بھی کہا کہ اسپتال کے آس پاس تقریباً 15 ٹینک تھے جو کمپلیکس میں داخل ہونے کے بعد پیچھے ہٹ رہے تھے۔ فوج نے اس جگہ پر موجود سرجیکل عمارت کے تہہ خانے کو دھماکے سے اڑا دیا۔نامہ نگار نے مزید کہا اسرائیلی فوج نے اسپتال میں موجود اہم تنصیبات اور طبی آلات کو دھماکے سے اڑا دیا۔ تاہم فوج کسی بھی مطلوبہ شخص کو تلاش کئے بغیر اسپتال سے نکل گئی۔اسپتال سے واپسی سے قبل اسرائیلی فوج کے ایک سینیئر اہلکار نے بدھ کے اوائل میں صحافیوں کو بیان دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی فورسز کو اسپتال کے اندر ایک مخصوص علاقے پر جاری چھاپے کے دوران حماس سے تعلق رکھنے والے ہتھیار اور انفراسٹرکچر ملا ہے۔دوسری جانب حماس نے الشفا میں ہتھیاروں کی موجودگی کے اسرائیلی الزامات کی تردید کرتے ہوئے انہیں جھوٹ اور سستا پروپیگنڈہ قرار دے دیا۔

اسرائیل نے حماس کے افراد کے اسپتالوں کے نیچے زیر زمین مقامات پر موجود ہونے کا الزام لگایا تھا۔ حماس نے اس کی تردید کردی اور کہا کہ اسرائیل ایسے الزامات جنگی جرائم کے ارتکاب کے جواز کے لیے لگا رہا ہے۔واضح رہے الشفا کمپلیکس پر دھاوا بولنے اور اس کے کمروں اور تہہ خانے کی تلاشی لینے کے چند گھنٹے بعد بھی اسرائیلی فورسز کو ایسے کوئی اشارے نہیں ملے جو اس کے نیچے قیدیوں کی موجودگی یا حماس کے کمانڈ سینٹرز یا سرنگوں کی نشاندہی کترے ہوں۔حماس نے مزید کہا قابض اسرائیل جگہ جگہ ہتھیار رکھ رہا ہے اور ایک کمزور فسانہ بنا رہا ہے۔ اس طرح کے اقدامات کرکے وہ اب کسی کو دھوکہ نہیں دے سکتا۔حماس نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیلی الزامات کی تحقیقات کرائی جائیں۔ دو ہفتے قبل بھی ہمارا مطالبہ تھا کہ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی اداروں سے اسپتالوں کے حالات کا جائزہ لینے کے لیے ایک بین الاقوامی کمیٹی تشکیل دی جائے۔ اسرائیلی بیانیہ کے جھوٹ کا تعین کریں کیونکہ ہم اسرائیل کے دھوکہ دہی سے واقف ہیں۔اسرائیل حماس پر اسپتالوں کے نیچے جگہوں پر تعینات ہونے کا الزام لگا رہا ہے جس کی حماس نے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل جنگی جرائم کے ارتکاب کے جواز کے لیے ایسے الزامات کا سہارا لے رہا ہے۔


اسپتال میدان جنگ نہیں ہیں: عالمی ادرہ صحت

لندن، 16نومبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اسرائیلی فوج نے منگل کو غزہ کے الشفااسپتال میں حماس کے عسکریت پسندوں کی تلاش کے بعد اسلحہ اور جاسوسی سے متعلق سازوسامان ہاتھ لگنے کا دعویٰ کیا جبکہ اسپتال نے اس دعویٰ کی تردید کی ہے۔ ادھر اقوام متحدہ نے اسپتالوں پر گولہ باری پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایک بار پھر جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔اسرائیل کی وزارت دفاع نے ایک بیان میں کہا کہ انٹیلی جنس کی بنیاد پر فوج نے اسپتال کے مخصوص حصے میں حماس کے خلاف کاروائی کی۔ بیان کے مطابق فوج نے حماس کو ہتھیار ڈالنے کے لیے کہا۔ یہ آپریشن غزہ کی وزارت صحت کو کچھ منٹوں کے انتباہ کے بعد کیا گیا۔آپریشن کے دوران اسرائیلی وزارت دفاع نے کہا کہ اس کی دھاوا بولنے والی ٹیم میں طبی عملہ اور عربی بولنے والے لوگ شامل تھے جنہیں اسپتال کے حساس ماحول میں اس کارروائی کے لیے خاص طور پر تربیت دی گئی تھی تاکہ عام شہریوں کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈروس گیبرئسس نے اسرائیل کے الشفا اسپتال پر حملے کو ناقابل قبول قرار دیا ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی امداد کے سربراہ مارٹن گرفتھس نے ایک بیان میں کہا جبکہ ”غزہ میں قتل عام ہر روز ہولناکی کی نئی سطحوں کو پہنچ رہا ہے, دنیا صدمے سے دیکھ رہی ہے،اسپتال فائرنگ کی زد میں آتے ہیں، قبل از وقت پیدا ہونے والے بچے مر جاتے ہیں، اور پوری آبادی زندہ رہنے کے بنیادی ذرائع سے محروم ہے۔ ان حالات کو جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔انہوں نے تنازع میں شریک اطراف پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی انسانی قانون کی پاسداری کریں اور جنگ بندی پر راضی ہوں۔منگل کے روز، صدربائیڈن نے کہا تھاکہ غزہ کے اسپتالوں کومحفوظ کیا جانا چاہیے، کیونکہ اسرائیلی فورسز فلسطینیوں کے انکلیو میں صحت کی دیکھ بھال کی سہولیات کو اس دعویٰ کی بنیاد پر نشانہ بنا رہی ہیں کہ حماس انہیں اپنے کمانڈ سینٹرز اور ہتھیاروں کو چھپانے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ دریں اثنا میں حماس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے اسرائیلی فوج کو اسپتال پر حملے کرنے کی منظوری دی اور الزام لگایا کہ صدر بائیڈن اس آپریشن کے نتائج کے ذمہ دار ہوں گے۔وائٹ ہاوس نے حماس کے دعویٰ کو مسترد کردیا ہے۔


ہم نے الشفاء اسپتال میں اسرائیلی آپریشن سے اتفاق نہیں کیا: واشنگٹن

واشنگٹن، 16نومبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) وائٹ ہاؤس کے ترجمان جان کربی نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ نے غزہ کی پٹی میں الشفاء اسپتال کے ارد گرد اسرائیلی فوج کی کارروائیوں کی منظوری نہیں دی۔ جان کربی نے کہا امریکہ اسرائیل کے دوسرے فوجی فیصلوں کے حوالے سے بھی اسی طرز عمل کی پیروی کر رہا ہے۔قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے کہا ہم ہمیشہ اپنے اسرائیلی شراکت داروں کے ساتھ شہریوں کی ہلاکتوں کو کم کرنے کی اہمیت کے بارے میں بہت واضح رہے ہیں۔ ہم نے واضح طور پر اسرائیل سے کہا ہے کہ اسپتالوں کے بارے میں خاص طور پر محتاط رہنا چاہیے۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج طویل گھنٹوں کے معائنے اور اس جگہ پر موجود افراد کی شناخت کی تصدیق کے بعد غزہ کی پٹی کے سب سے بڑے اسپتال سے پیچھے ہٹ گئی ہے۔تاہم فوج اب بھی اسپتال کے آس پاس موجود ہے اور اپنا محاصرہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوج نے اس جگہ پر سرجیکل عمارت کے تہہ خانے کو اڑا دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے اسپتال میں موجود اہم تنصیبات اور طبی آلات کو اڑا دیا ہے۔ فوج لوگوں کو تلاش کیے بغیر اسپتال سے نکل گئی۔اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق کمپلیکس کے اندر کم از کم 2,300 افراد موجود تھے جو کئی دنوں سے ٹینکوں میں گھرے ہوئے تھے۔ ان افراد میں مریض، طبی عملہ اور بے گھر افراد شامل تھے۔اسپتال سے واپسی سے قبل اسرائیلی فوج کے ایک سینیئر اہلکار نے بدھ کے اوائل میں صحافیوں کو بیان دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی فورسز کو اسپتال کے اندر ایک مخصوص علاقے پر جاری چھاپے کے دوران حماس سے تعلق رکھنے والے ہتھیار اور انفراسٹرکچر ملا ہے۔دوسری جانب حماس نے الشفا میں ہتھیاروں کی موجودگی کے اسرائیلی الزامات کی تردید کرتے ہوئے انہیں جھوٹ اور سستا پروپیگنڈہ قرار دے دیا۔ اسرائیل نے حماس کے افراد کے اسپتالوں کے نیچے زیر زمین مقامات پر موجود ہونے کا الزام لگایا تھا۔ حماس نے اس کی تردید کردی اور کہا کہ اسرائیل ایسے الزامات جنگی جرائم کے ارتکاب کے جواز کے لیے لگا رہا ہے۔واضح رہے الشفا کمپلیکس پر دھاوا بولنے اور اس کے کمروں اور تہہ خانے کی تلاشی لینے کے چند گھنٹے بعد بھی اسرائیلی فورسز کو ایسے کوئی اشارے نہیں ملے جو اس کے نیچے قیدیوں کی موجودگی یا حماس کے کمانڈ سینٹرز یا سرنگوں کی نشاندہی کرتے ہوں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button