
نومبر میں دہلی سنے گی مرکزی ملازمین کی ’دہاڑ‘
نئی دہلی، 12 مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ہندوستانی دفاع مزدور سنگھ کے جنرل سکریٹری اور وزارت دفاع کی جے سی ایم-2 سطح کی کونسل کے رکن مکیش سنگھ نے وزیر اعظم مودی کو ایک خط لکھ کر پرانے پنشن نظام کو بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس میں انہوں نے پی ایم کو کئی مشورے دیے ہیں۔ این پی ایس یعنی نئی پنشن اسکیم کو ختم کرنے کا کہا گیا ہے۔ ساتھ ہی ملازم لیڈر نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر مرکزی حکومت این پی ایس کو ختم نہیں کرنا چاہتی تو اسے مشروط کم از کم پنشن فراہم کرنی ہوگی جو کہ کارکنوں کی آخری تنخواہ کا نصف ہے۔
یہی نہیں، اسے مہنگائی ریلیف الاؤنس کے ساتھ جوڑنا ہوگا۔ اگر مرکزی حکومت نے اس مطالبے کو جلد پورا نہیں کیا تو نومبر میں دہلی مرکزی کارکنوں کی دھاڑ سنائی دے گی۔ ملک بھر سے لاکھوں مرکزی اہلکار قومی راجدھانی میں احتجاج کریں گے۔بی پی ایم ایس کے جنرل سکریٹری مکیش کمار نے گزشتہ ہفتے پی ایم کو یہ خط لکھا تھا۔
اس میں انہوں نے کہا ہے کہ این پی ایس میں شامل مرکزی اہلکار ناراض ہیں۔ ملازمین نے ہمیشہ حکومت سے توقع کی ہے کہ وہ اپنے ملازمین کے لیے مثالی آجر اور سرپرست کا کردار ادا کرے گی۔ یہ ملازمین ملک کی ترقی میں مسلسل کردار ادا کر رہے ہیں۔ مزدوروں کو سماجی تحفظ فراہم کرنا مرکزی حکومت کی ذمہ داری ہے۔
ہر ملازم خواہ وہ کسی بھی پرائیویٹ یا سرکاری ادارے سے تعلق رکھتا ہو، اپنی مہارت، طاقت اور توانائی سے اپنے آپ کو آجر کے لیے ریٹائرمنٹ تک وقف کر دیتا ہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد ملازم ایک جیسا معاوضہ حاصل کرنے سے قاصر ہو جاتا ہے لیکن اس کی ضرورت ختم نہیں ہوتی، اسے بہت سی ذمہ داریاں اٹھانی پڑتی ہیں۔



