نئی دہلی، 15 ستمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) کیرالہ حکومت نے سپریم کورٹ میں ایک حلف نامہ داخل کر کے آوارہ اورخونخوار کتوں کو مارنے کی اجازت مانگی ہے۔ پچھلے کچھ دنوں سے آوارہ کتوں کی دہشت کی خبریں آئے روز منظر عام پر آرہی ہیں۔ اس سال صرف کیرالہ میں ہی 1.2 لاکھ لوگوں کو آوارہ کتوں نے کاٹا ہے۔ مقامی وزیر صحت ایم بی راجیش نے کہا کہ 20 ستمبر سے 20 اکتوبر تک کتوں کو ٹیکہ لگانے کی مہم چلائی جائے گی۔کیرالہ حکومت کی جانب سے داخل حلف نامہ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ 5 سالوں میں 8 لاکھ افراد آوارہ کتوں کا شکار ہو چکے ہیں۔
کیرالہ حکومت نے سپریم کورٹ سے ریبیج جیسی خطرناک بیماری سے متاثرہ کتوں کو مارنے کی اجازت مانگی ہے۔ایم بی راجیش نے بتایا کہ کتوں کی ویکسی نیشن مہم کیرالہ میں ویٹرنری یونیورسٹی کے تعاون سے منعقد کی جائے گی۔ رضاکاروں اور کڈمب شری کارکنوں کو یونیورسٹی کی طرف سے خصوصی تربیت دی جائے گی۔حکومت ویکسی نیشن کے لیے علیحدہ گاڑی کرائے پر لے گی۔ اس کے لیے بلاک پنچایتوں، میونسپل کارپوریشنوں اور پنچایتوں کو فنڈز مختص کیے جائیں گے۔ وزیر ایم بی راجیش نے کہا کہ وہ کتوں کو خوراک کے ذریعے دوا کی خوراک دینے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔
تاہم آوارہ کتوں کی دہشت سے بچنے کے لیے غازی آباد اور نوئیڈا کے میونسپل کارپوریشنوں نے بھی کتے کی رجسٹریشن کو لازمی قرار دیا ہے۔ رجسٹریشن نہ کرانے پر 5000 روپے جرمانہ بھی مقرر کیا گیا ہے۔ اسے جرم کے زمرے میں رکھا جائے گا۔ اس رجسٹریشن کا عمل آن لائن رکھا گیا ہے۔ رجسٹریشن کے لیے اینٹی ریبیز ویکسی نیشن کا سرٹیفکیٹ ہونا لازمی ہے۔
سپریم کورٹ نے آوارہ کتوں کو ٹریک کرنے کے لیے چپس لگانے کا بھی مشورہ دیا ہے۔ جسٹس کھنہ نے کہا کہ ہم میں سے اکثر کتوں سے پیار کرتے ہیں،میں خود کتوں کو کھلاتا ہوں۔ ان میں سے کچھ خونخوار اور پر تشدد نوعیت کے ہیں۔ ایسے میں مسئلے کے حل کے لیے سوچ سمجھ کر کوئی نہ کوئی راستہ تلاش کرنا ہوگا، ایسے کتوں کو الگ کرنا پڑے گا۔



